ایرانی نائب صدر بھی کورونا وائرس کا شکار

ایرانی نائب وزیر صحت کے بعد نائب صدر برائے خواتین و خاندانی امور معصومہ ابتکار میں بھی کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوگئی۔ تاہم ان کی حالت فی الحال زیادہ سنگین نہیں اور وہ گھر پر ہی ہیں۔
گزشتہ ہفتے ہی ایران کے نائب وزیر صحت اِرج حریرچی اور رکن پارلیمنٹ محمود صادقی میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی تھی۔
اگرچہ ایران کورونا وائرس کے مریضوں کے حوالے سے چوتھے نمبر پر ہے تاہم ماہرین کے مطابق وہاں تیزی سے نئی لوگ اس وائرس کا شکار ہو رہے ہیں۔
28 فروری کی صبح تک دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھ کر 83 ہزار 389 ہوگئی تھی اور گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دنیا بھر میں مزید ایک ہزار افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی۔ ایران میں بھی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 25 نئے کیسز سامنے آئے اور اسی عرصے کے دوران چین میں 7 افراد زندگی کی بازی بھی ہار گئے۔
کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے بعد ایرانی حکومت نے پہلی بار کسی بیماری کی وجہ سے نماز جمعہ کے اجتماعات کو منسوخ بھی کیا۔
ساتھ ہی حکومت نے عندیہ دیا کہ عین ممکن ہے کہ آئندہ کچھ دن میں متعدد مذہبی مقامات کو بھی غیر معینہ مدت کےلیے بند رکھا جائے۔
علاوہ ازیں ایرانی حکومت نے تعلیمی اداروں سمیت ثقافتی اداروں کو بھی غیر معینہ مدت کےلیے بند کر رکھا ہے۔ ایران سے قبل سعودی عرب نے بھی وائرس کے پیش نظر عمرے پر غیر معینہ تک پابندی لگادی تھی۔
ایران کی خواتین اور خاندانی امور کی نائب صدر 59 سالہ معصومہ ابتکار گزشتہ ایک ہفتے سے بیمار تھیں تاہم اس باوجود وہ حکومتی اجلاسوں میں دکھائی دیں اور انہوں نے گزشتہ ہفتے اسی بیماری پر ایک پریس کانفرنس بھی کی تھی۔
رپورٹس کے مطابق خاتون نائب صدر نے وائرس کی تشخیص سے تین دن قبل ہی ایرانی صدر حسن روحانی سے بھی ملاقات کی تھی، علاوہ ازیں انہوں نے دیگر حکومتی ارکان سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔
وائرس کی تشخیص کے بعد خاتون نائب صدر کو عالمی اسٹینڈرڈز کے مطابق علاج کے لیے قرنطینہ منتقل کردیا گیا۔
وائرس کا شکار ہونے والی معصومہ ابتکار وہ پہلی شخصیت ہیں جو ایرانی صدر کی کابینہ سے تعلق رکھنے سمیت ان کے انتہائی قریب تھیں اور ان سے مسلسل ملاقاتیں کرتی رہتی تھیں اور وائرس کی تشخیص سے قبل بھی انہوں نے حسن روحانی سے ملاقات کی تھی۔
