ایرانی نائب وزیر صحت، رکن پارلیمنٹ میں کورونا وائرس کا شکار ہوگئے

ایران میں تیزی سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی وجہ سے متاثرین کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے اور اب ایران کے نائب وزیرصحت اِرج حریرچی سمیت ایک اور رکن پارلیمنٹ میں بھی اس پُراسرار کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران میں حکومت کے ترجمان علی ربیعی کے ساتھ کی جانے والی پریس کانفرنس کے دوران نائب وزیرِ صحت ’ارج ہریرچی‘ کئی بار کھانستے رہے جب کہ انہیں پسینے بھی آرہے تھے۔
واضح رہے کہ غیر ملکی خبر رساں ادارےکے مطابق ایران میں کورونا وائرس سے اموات کی تعداد 16 ہو چکی ہے۔
دوسری جانب ایرانی عوام نے تشویش کا اظہار کیا کہ حکام کورونا وائرس کی وبا کی شدت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔
ایران کے رکن پارلیمنٹ محمود سدیگی نے ٹوئٹ میں بتایا کہ ‘مجھ میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے اور مجھے امید نہیں کہ زیادہ عرصہ زندہ رہ سکوں۔
علاوہ ازیں نائب وزیر صحت اِرج ہریرچی نے ایک ویڈیو پوسٹ کی جس میں انہوں نے کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا اعلان کیا۔ وزارت صحت کے ترجمان کیانوش جہاں پور نے بتایا کہ مشتبہ افراد میں سے 35 نئے کیسز کی تصدیق ہوگئی اور وائرس کے انفیکشن سے 2 افراد چل بسے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مجموعی طور پر 95 لوگ کورونا وائرس سے متاثر ہوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس سےمرنے والوں کی مجموعی تعداد 15 ہے تاہم بعد ازاں ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی نے کہا کہ مزید ایک شخص سیہا نامی شہر میں کورونا وائرس سے جاں بحق ہوا۔
ایرانی حکام نے ملک بھر میں کانسرٹ اور فٹ بال میچز پر پابندی لگا دی اور متعدد صوبوں میں اسکول اور جامعات کو بند کردیا۔ حکام نے عوام کو غیر ضروری طور پر گھر سے نہ نکلنے سے ہدایت کی۔
ایران کے مطابق کورونا وائرس کے 900 سے زائد کے مشتبہ کیسز ہیں لیکن ایران کے شہر قم کے قانون ساز نے تہران کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ شہر میں 50 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
اس ضمن میں نیم سرکاری نیوز ایجنسی کے مطابق 320 لوگ اسپتال میں زیر علاج ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button