ایران میں پانی بحران سنگین ، مظاہرے تہران تک پہنچ گئے

 ایران میں پانی کی قلت پر شروع ہونےو الے مظاہرے دارالحکومت تہران میں بھی پھیل گئے ہیں ، ان مظاہروں میں رہبر اعلیٰ کے خلاف بھی نعرے بازی کی جا رہی ہے ۔

العربیہ کے مطابق ایران کے صوبہ خوزستان میں قلت آب پر مظاہرے شروع ہوئے جو اب دارالحکومت تہران  تک پھیل چکے ہیں،  گزشتہ روز سوشل میڈیا پر ان مظاہروں کی نئی ویڈیو  اپ لوڈ ہوئی جس میں مظاہرین مرگ برآمر کے نعرے لگا رہے ہیں ،  یہ نعرے حالیہ دنوں میں مختلف احتجاجی ریلیوں میں سنے جا رہے ہیں۔مظاہرین احتجاجی ریلیوں میں ایران کی خارجہ پالیسی کے خلاف بھی نعرے بازی کر رہےہیں ، ویڈیو میں انہیں غزہ یا لبنان کیلئے نہیں ، ایران کیلئے زندگی قربان کی ہے ، کہتے سنا جا سکتا ہے ۔

خوزستان صوبہ پانی کی قلت کے باعث خشک سالی کا شکار ہے  جس میں 15 جولائی سے احتجاجی تحریک شروع ہوئی ہے جبکہ یہ تحریک اب دیگر صوبوں میں بھی متحرک ہے ، جمعرات کے دن صوبہ لورستان کے شہر علی گدرذ میں مظاہرے کے دوران فائرنگ سے ایک شخص ہلاک دو زخمی ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں ۔

دوسری جانب ایرانی حکومت نے اب تک ایک پولیس افسر  سمیت پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے ، ایرانی حکومت ان اموات کا ذمہ دار بلوائیوں کو قرار دیتی ہے۔ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے جمعہ کوخوزستان میں مظاہروں کے ردعمل میں اپنا پہلا بیان جاری کیا تھااورکہا تھا کہ  مظاہرین کوموردالزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔انھوں نے حکام پرزوردیا تھا کہ وہ پانی کی قلّت کے بحران پرقابوپانے کے لیے اقدامات کریں۔

Back to top button