ایران میں پھنسے پاکستانی ڈرائیورز تاحال واپسی کے منتظر

پاکستان نے پاک ایران سرحد کی بندش کے باعث تفتان میں پھنسے 300 سے زائد ایرانی تاجروں اور ڈرائیوروں کووطن واپس بھیج دیا، تاہم ایرانی حدود میں پھنسے پاکستانی ڈرائیورز تاحال وطن واپسی کے منتظر ہیں۔
ایران میں کورونا وائرس کی منتقلی کے خدشے کے پیش نظر پاکستان نے ایران کے ساتھ اپنی سرحد تین دن سے بند کر رکھی ہے۔ سرحد کی بندش کی وجہ سے 300 سے زائد ایرانی باشندے تین روز سے پھنسے ہوئے تھے جن میں 30 تاجر اور باقی ڈرائیورز تھے ۔ ایرانی ڈرائیورز اور تاجر ایران سے ایل پی جی گیس اور خوردنی اشیا سمیت تجارتی سامان لے کر پاکستان آئے تھے۔
ایرانی باشندوں نے وطن واپس جانے کی اجازت نہ ملنے پر تفتان میں سرحدی گیٹ کے قریب احتجاج کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ تین دن سے انہیں کھانے پینے کے لیے کوئی چیز میسر ہے نہ ہی آرام کی جگہ ہے ۔ انہوں نے حکام سے ایران واپسی کا مطالبہ کیا۔تاہم احتجاج کے بعد ایرانی تاجروں اور ڈرائیوروں کو مال بردار گاڑیوں سمیت ایران جانے کی اجازت دے دی گئی۔
اس حوالے سے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر چاغی بادل خان دشتی نے بتایا کہ پاک ایران تفتان سرحد قریباً ساڑھے چار گھنٹے کے لیے صرف ایرانی ٹرانسپورٹرز اور ڈرائیورز کو واپس ایران بھیجنے کے لیے جزوی طور پر کھولی گئی۔
سرحد کی دوسری جانب تفتان کے قریب ایرانی حدود میں درجنوں پاکستانی ڈرائیورز پھنسے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ڈرائیور سجاد بلوچ نے بتایا کہ یہاں تین چار روز سے پھنسے ہوئے ہیں، ہمیں اپنی حکومت اپنے ملک آنے نہیں دے رہی۔ ہم بھی پاکستانی ہیں مگر پاکستانی حکام ہمیں لینے سے انکار کر رہے ہیں۔ ہم نے ایران کے اندر بالکل سفر نہیں کیا، صرف سرحد عبور کرکے دو سو میٹر دوری پر واقع ٹرمینل میں ٹرک خالی کئے۔ ہم روزانہ صبح آتے تھے اور ٹرک خالی کرکے شام کو واپس جاتے تھے مگر اب ہم تین چار دنوں سے یہاں بے یار و مددگار پڑے ہوئے ہیں۔
دوسری طرف تہران سے آئے پاکستانی سفارت خانے کے ایک افسر نے ان پاکستانی ڈرائیورز سےملاقات کی اور انہیں بتایا کہ ’پاکستانی حدود میں انتظامات مکمل کیے بغیر کسی کو واپس آنے نہیں دیا جائے گا اور ایسا کورونا وائرس کی منتقلی روکنے کی خاطر ضروری ہے۔
منگل کو وزیرداخلہ بلوچستان ضیا لانگو کی قیادت میں صوبائی اسمبلی کے ارکان، قدرتی آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے سربراہ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، صوبائی سیکرٹری صحت اور دیگر متعلقہ حکام پر مشتمل صوبائی حکومت کی ٹیم نے تفتان کا دورہ کیا۔صوبائی وزیرداخلہ ضیا لانگو نے میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ تفتان سرحد پر ایران سے آنے والے افراد کی سکریننگ کا عمل جاری ہے۔ تین مشتبہ افراد کے نمونے ٹیسٹ کے لیے بھیجے گئے تھے جن کے نتائج منفی آئے۔ ایران میں مزید چھ سے سات ہزار زائرین اور پاکستانی موجود ہیں جن کو وطن واپسی پر دو ہفتے تک تفتان میں ٹھہرانے کا انتظام کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب پاک ایران سرحد کی بندش کی وجہ سے پاکستانی سرحدی علاقوں میں اشیائے خور و نوش، ایرانی تیل اور ایل پی جی گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ بلوچستان کے اضلاع چاغی، واشک، پنجگور، کیچ اور گوادر میں عام استعمال کی بیشتر اشیا، خوردنی اشیا، ڈیزل، پیٹرول اور ایل پی جی کے لیے ایران پر انحصار کیا جاتا ہے۔یہ اشیا تفتان کے قریب زیرو پوائنٹ سے قانونی راستے کے علاوہ مختلف راستوں سے سمگل کرکے لائی جاتی تھیں مگر اب سرحد کی بندش کی وجہ سے ان اشیا اور ایندھن کی قلت پیدا ہوگئی ہے۔
چاغی کے علاقے دالبندین کے رہائشی نور محمد کے مطابق ایرانی پیٹرول کی قیمت پہلے 65 روپے فی لیٹر تھی اور اب 125 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔ اس طرح پیٹرول کی ایک لیٹر قیمت 60 روپے تک بڑھ گئی ہے۔ایل پی جی کی قیمت میں بھی 80 روپے فی کلو اضافہ ہوگیا ہے۔ پہلے ایل پی جی 120 روپے کلو ملتی تھی اب 200 روپے کلو میں فروخت کی جا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button