ایران میں پھنسے پاکستانی ہی کرونا وائرس لانے کے ذمہ دارقرار

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیشِ نظر پاکستان اور ایران کی سرحد کی بندش کے نتیجے میں سرحد پر پھنسے 300 سے زائد پاکستانی زائرین اور تاجروں کو 28 فروری کو پاکستان میں داخلے کی اجازت مل گئی تاہم اب بھی پاکستانی زائرین کی بڑی تعداد ایران کے شہروں قم اور مشہد میں پھنسی ہوئی ہے۔ ایران میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا جارہا ہے۔ ایران میں کوئی شخص ان سے بات کرنے کو تیار نہیں اور انہیں کہا جاتا ہے کرونا وائرس تم پاکستانی ایران لائے ہو۔
جو پاکستانی 28 فروری کو ایران سے پاکستان داخل ہوئے ان میں بھی اکثریت شیعہ زائرین کی تھی جو گذشتہ چند روز سے پاکستانی سرحد کے قریب ایرانی علاقے میں موجود تھے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ چونکہ زیادہ تر پاکستانی زائرین ایران کے ان علاقوں سے آئے ہیں جو کہ کورونا سے متاثرہ ہیں، اس لیے انہیں سکریننگ اور ٹیسٹوں کے بغیر پاکستان واپسی سے روکا گیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان سے ہر برس ہزاروں شیعہ زائرین ایران میں مقامِ مقدسہ کی زیارت کے لیے سفر کرتے ہیں اور ان میں سے تقریباً تمام ہی مشہد اور قم کا رخ ضرور کرتے ہیں جہاں کہ اب کورونا پھیل چکا ہے۔ مشہد میں شیعوں کے آٹھوں امام کے حرم سے چند منٹ کی دوری پر فلکِ آب کے علاقے میں واقع ایک ہوٹل میں پاکستان کے شہر کوئٹہ سے تعلق رکھنے والے سید مجتبٰی حسن اور ان کے خاندان کے دیگر چار افراد مقیم ہیں۔
بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ لوگ تقریباً 17 روز قبل ایران پہنچے تھے۔ مجتبیٰ حسن کا کہنا ہے کہ وہ خود کو ہوٹل میں محصور محسوس کر رہے ہیں۔ ہوٹل کی کھڑکی سے باہر جھانکو تو ویرانی کا احساس ہوتا ہے۔ ’جمعے کو نماز کی غرض سے ہزاروں افراد امام رضا کے حرم کا رخ کرتے تھے لیکن اس جمعے کو حکام نے اعلان کر دیا تھا کہ باجماعت نماز حرم میں ادا نہیں کی جائے گی۔‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’ہم لوگ جو راشن ساتھ لائے ہوئے تھے وہ تقریباً ختم ہو چکا ہے، باہر سے کچھ نہیں مل رہا۔ یہاں تک کہ ادویات اور ماسک تک اس وقت میسر نہیں ہیں۔’ ان کا کہنا تھا کہ ہوٹل سے باہر نہ صرف فضا بدل چکی ہے، ایرانی شہریوں کا ان کے ساتھ رویہ بھی بدل چکا ہے۔ ‘وہ کہتے ہیں کہ تم پاکستانی یہ وائرس ساتھ لے کر آئے ہو۔ یہاں تک کہ ہمیں کوئی دکان دار سودا سلف تک نہیں دیتا۔’ حسن کے مطابق وہ کہیں آ جا بھی نہیں سکتے۔
اس وقت حسن اور ان کے ساتھ مشہد میں موجود دیگر پاکستانی شہریوں کی تمام تر توجہ ایران سے نکلنے پر مرکوز ہے مگر یہ اتنا آسان نہیں۔ پاکستان نے جہاں ایران کے ساتھ اپنی سرحد بند کر رکھی ہے وہیں فضائی سفر بھی معطل ہے۔ حسن اور ان کے خاندان کو وائرس سے بھی خطرہ ہے اور ان کا ویزہ بھی ختم ہو چکا ہے۔ وہ ویزے کی مدت میں اضافے کے لیے مقامی ایرانی ایجنسی گئے تھے لیکن انھوں نے ملنے ہی سے انکار کر دیا۔ حسن کا دعویٰ ہے کہ پاکستان کے مقامی قونصل خانے سے بھی ان کی کوئی مدد نہیں کی گئی۔ ‘ایرانی حکام کہتے ہیں کہ ہمارے دروازے تو کھلے ہیں، آپ واپس جا سکتے ہیں مگر آپ ہی کے ملک کے نخرے زیادہ ہیں۔’
حسن کے مطابق 28 فروری کو چار بسوں میں سوار 200 کے قریب پاکستانی زائرین نے مشہد سے نکل کر سرحدی شہر زاہدان جانے کی کوشش کی مگر انہیں شہر میں داخلے سے قبل ہی روک لیا گیا تھا۔ ‘اب وہ سڑک پر بے یار و مددگار پڑے ہوئے ہیں۔ یہاں کی حکومت کا ایک تحریری حکم نامہ میرے پاس موجود ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ غیر ایرانی زائرین کو سرائے وغیرہ میں جگہ نہ دی جائے۔’ حسن کے مطابق زاہدان سرحد پر رکے پاکستانی زائرین سے ان کا رابطہ ہوا تو معلوم ہوا کہ انہیں کسی سرائے میں بھی جگہ نہیں ملی۔ ‘یہاں تک کہ انہیں شہر میں بھی داخل نہیں ہونے دیا گیا۔ یہاں سردی بہت ہے اور وہ سڑک پر پڑے ہیں۔’ جس جگہ حسن اور ان کے خاندان کے افراد ٹھہرے ہیں اس سے کچھ ہی فاصلے پر بازارِ رضا میں واقع چند ہوٹلوں میں پاکستانی زائرین کے تین سے زیادہ قافلوں کے لوگ ٹھہرے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔
اس قافلے کے سالار رانا توصیف کا تعلق شہر سے ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے قافلے میں موجود لوگوں کی واپسی کی پروازیں قطر اور امارات ایئرلائن پر بک تھیں مگر وہ معطل کر دی گئی ہیں۔ ‘ہم اپنے پروگرام کے مطابق جو راشن لے کر آئے ہوئے تھے وہ ختم ہو چکا ہے۔ لوگ جو پیسے اپنے ساتھ لائے تھے وہ ختم ہو گئے ہیں۔’ انھوں نے بتایا کہ ان کے قافلے میں موجود افراد اب شہر کے ان علاقوں کی طرف نکل رہے ہیں جہاں انھیں سستی رہائش مل سکے۔ ‘کوئی سستا ہوٹل تلاش کریں گے یا پھر جو مہمان سرائے ہیں وہاں رکنے کی کوشش کریں گے۔ جہاں تین وقت کا کھانا کھاتے تھے، اب دو وقت کا کھائیں گے۔’ توصیف کا کہنا تھا کہ مشکل کے اس وقت میں وہ اپنے ملک کی حکومت کی طرف دیکھ رہے ہیں اور وہی ان کی مدد کر سکتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ انھیں بازار جانے کے لیے بھی مکمل تیاری کرنا پڑتی ہے۔ ‘کھانا تو ہم خود پکا لیتے ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بازار بند ہیں۔ ہمارے پاس نمک مرچ بھی ختم ہو چکا ہے۔ پینے کا صاف پانی نہیں ہوتا، وہ باہر سے ہی خریدنا پڑتا ہے۔ جو ہم بجٹ لے کر آئے تھے وہ سارا ختم ہو چکا ہے اس کورونا کی وجہ سے۔’ ان کا کہنا تھا کہ شہر میں بھی سنسنی کی سی کیفیت طاری ہے۔ لوگ اجنبیوں کی طرح برتاؤ کرتے ہیں۔ ‘جو ہجوم ہم جب آئے تھے تو نظر آتا تھا اب وہ نہیں ہے۔ کوئی بات نہیں سنتا۔ کسی سے اگر راستہ سمجھنا ہو اور اسے فون پکڑاؤ وہ فون نہیں پکڑے گا۔’
ان حالات میں ایران میں پھنسے ہوئے پاکستانیوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کی جلد ملک واپسی کیلئے مؤثر اقدامات کئے جائیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button