ایران کا سرکاری ٹی وی ہیک،سپریم لیڈر کیخلاف پیغامات نشر

ایران میں حجاب نہ اورھنےکے الزام میں پولیس حراست کے دوران مھسا امینی کی ہلاکت کیخلاف احتجاج کرنے والے ایرانی ہیکروں نے لائیو بلیٹن کے دوران سرکاری چینل ’آئی آر آئی بی‘ ہیک کرکے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کیخلاف پیغامات نشر کردئیے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق تہران میں مھسا امینی کی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے خلاف مظاہروں کا دائرہ کار ایران کے رہبر اعلیٰ خامنہ ای کی شخصیت تک پھیل گیا، ہیکرز نے سرکاری نشریاتی ادارے سے آیت اللہ سید علی خامنہ ای کیخلاف پیغامات نشر کردیئے۔
رپورٹس میں بتایا گیا کہ ایرانی سرکاری ٹی وی چینل کو اس وقت ہیک کرلیا گیا جب 6 بجے کا نیوز بلیٹن میں آیت اللہ خامنہ ای کا بیان جاری تھا کہ اچانک اسکرین پر پہلے ایک ماسک آگیا اور پھر رہبر اعلیٰ کی تصویر کے گرد شعلے نظر آنے لگے۔
رپورٹس کے مطابق ہیکرز نے اپنا تعارف ’عدالتِ علی‘ بتایا، جو اسکرین پر بھی نظر آرہا تھا، اس دوران ایرانی رہبر اعلیٰ کی تصویر کے ساتھ ان کے چہرے پر بندوق کا نشانہ بنایا گیا اور نیچے مھسا امینی کے ساتھ تین دیگر خواتین کی تصاویر بھی دکھائی گئیں جو حالیہ مظاہروں میں ہلاک ہوئی تھیں۔
رپورٹس میں کہا گیا کہ سکرین پر ایک پیغام بھی لکھا تھا کہ ’آپ ہمارے ساتھ اس میں شامل ہوں اور آواز اٹھائیں‘ جب کہ ایک دوسرے پیغام میں کہا گیا تھا کہ ’ہمارے نوجوانوں کا خون آپ کے ہاتھوں سے بہہ رہا ہے‘ اور ساتھ ہی ’زن، زندگی اور آزادی‘ کے نعرے گونج رہے تھے۔
واضح رہے کہ مھسا امینی کو تہران کی ’اخلاقی پولیس‘ نے مبینہ طور پر صحیح طرح بال نہ ڈھانپنے پر حراست میں لیا تھا،اس دوران ان کی طبعیت بگڑی اور انہیں اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں وہ تین روز کومہ میں رہنے کے بعد 16 ستمبر کو دم توڑ گئیں۔
