ایران کے کن ہمسایہ ممالک کو صدر رئیسی کی موت بھگتنا پڑ سکتی ہے؟

ایرانی صدر ڈاکٹر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ جلد ہی وہ ایران کے سب سے طاقتور شخص بننے جا رہے ہیں۔تاہم ہیلی کاپٹر حادثے میں ان کی موت کے بعد ان قیاس آرائیوں نے مزید زور پکڑ لیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا جانشین کون ہوگا۔ ایران کے سخت گیر صدر کی موت سے ملک کی پالیسیوں یا ایرانی ریاست کو تو کوئی کوئی خطرہ نہیں تاہم یہ ایک ایسے نظام کے لیے ایک امتحان ہو گا جہاں طاقت کے منتخب اور غیرمنتخب تمام ایوانوں پر سخت گیر قدامت پسند غالب ہیں اور فیصلہ سازی میں قدامت پسندسخت گیر ایرانی گروپ کے غالب آنے کے بعد ایران کے ہمسایہ ممالک سمیت دنیا بھر میں ایک بار پھر فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو سکتے ہیں۔

مبصرین کے مطابق ایران ایک منفرد سیاسی نظام کا حامل ملک ہے جہاں جمہوری طور پر منتخب قیادت ملک کے بارے میں مکمل طور پر آزادانہ فیصلے نہیں کر سکتی بلکہ اس پر سپریم لیڈر آیت اللہ اور سپاہ پاسداران انقلاب کی نگرانی رہتی ہے اور وہ ملک کی خارجہ اور داخلہ  پالیسی کی سمت طے کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم ابراہیم رئیسی کے دور صدارت میں خطے کے لحاظ سے کئی اہم ترین کام سامنے آئے جن میں ایران سعودیہ امن معاہدہ اور سفارتی تعلقات کی بحالی، مغربی ممالک سے کشیدگی میں کمی جبکہ پہلی بار ایران کا براہ راست اسرائیل پر میزائل حملہ شامل ہیں۔

دوسری جانب سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ ایرانی صدر کی حادثاتی موت کے بعد کیا ان کے دور میں شروع ہونے والی پالیسیاں برقرار رہ پائیں گی ان کی وفات سے خطے اور علاقائی امن کو کیا خطرات لاحق ہو سکتے ہیں کیا ایران ایک بار پھر عالمی تنہائی کی طرف لوٹ جائے گا؟

ساؤتھ ایشین اسٹریٹجک اسٹیبلیٹی انسٹیٹوٹ کی چیئرپرسن اور ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ماریہ سلطان کے مطابق صدر ابراہیم رئیسی کی وفات سے جہاں ممکنہ طور پر ایران کی پالیسیوں میں تبدیلی نظر آ سکتی ہے وہیں خطے اور علاقائی امن کو خطرات بھی لاحق ہو سکتے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی خارجہ پالیسی کے 2 بنیادی ستون ہمیشہ سے رہے ہیں۔ ایک مذاکرات اور دوسرا مکمل عالمی تنہائی۔ صدر رئیسی بنیادی طور پر مذاکرات اور بات چیت کے حامی تھے جبکہ ان کی شہادت سے ایران اپنی نظریاتی قیادت کی سخت گیر پالیسیوں کی وجہ سے ایک بار پھر عالمی تنہائی کا شکار ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدر رئیسی کی وفات کے بعد آیت اللہ خامنائی کا گروپ ایران کی خارجہ پالیسی پر غالب آ سکتا ہے جس سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ملکوں میں ایک بار پھر سے فرقہ وارانہ فسادات شروع ہو سکتے ہیں۔

صدر رئیسی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ماریہ سلطان نے مزید کہا کہ وہ مغربی قوتوں کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لے کر آئے۔ چین کے ساتھ 300 ارب ڈالر کی ڈیل کی، روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا، امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات کی ابتدا کی اور ایران کی دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ کشیدگی کو کم کیا۔تاہم صدر رئیسی کی وفات سے وہاں کی قدامت پسند قوتیں غالب آ سکتی ہیں جو دنیا بھر میں جنگوں کے لیے معاونت فراہم کرتی ہیں اور اب خدشہ ہے پاکستان میں پھر سے فرقہ وارانہ فسادات شروع نہ ہو جائیں۔

تاہم دوسری جانب ماہر امور قومی سلامتی سید محمد علی کے مطابق ایران کا سیاسی نظام اس حوالے سے منفرد ہے کہ وہاں سرکاری حکام کی تبدیلی سے وہاں پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہتا ہے، پھر چاہے وہ مغرب کے حوالے سے ایران کی پالیسی ہو، مسئلہ فلسطین یا پھر چین اور روس کی طرف جھکاؤ، ایران کی پالیسیوں میں تغیر نظر نہیں آتا۔

Back to top button