ایران سے پنگا، امریکہ و اسرائیل کو کتنے ارب ڈالر میں پڑا؟

ایران کے خلاف جاری جنگ امریکا کے لیے مالی اور عسکری اعتبار سے ایک ڈراؤنا خواب بنتی جا رہی ہے۔ امریکی تھنک ٹینک کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے ابتدائی 100 گھنٹوں میں ہی تقریباً 3.7 ارب ڈالر بارود کی نذر ہوگئے۔ دوسری جانب ایران کے کم قیمت شاہد ڈرونز نے مہنگے امریکی فضائی دفاعی نظام کی کمزوریاں بھی بے نقاب کر دی ہیں، ماہرین کے مطابق ایک شاہد ڈرون کی قیمت تقریباً 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالرز کے درمیان ہے، جبکہ اسے مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والا پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے PAC-3 میزائل کےایک فائر ہی 30 لاکھ ڈالرز سے زائدکا پڑتا ہے۔ دفاعی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر ایرانی سستے ڈرونز کے مقابلے میں امریکا اور اسرائیل مہنگے میزائل استعمال کرتے رہے تو طویل جنگ کی صورت میں دونوں ممالک کیلئے یہ حکمتِ عملی معاشی طور پر ناقابلِ برداشت ثابت ہو سکتی ہے، جس سے امریکا کو سنگین معاشی اور اسٹریٹیجک چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک سنٹر فار سٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فضائی مہم کے ابتدائی مرحلے میں جدید اور مہنگے ہتھیاروں کے استعمال کے باعث اخراجات غیر معمولی طور پر بڑھ چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ابتدائی 100 گھنٹوں میں ہی اوسطاً روزانہ تقریباً 891.4 ملین ڈالر خرچ ہورہے ہیں، ایران جنگ کے بڑھتے ہوئے اخراجات نے زبوں حالی کا شکار امریکی معیشت کا کباڑہ نکال دیا ہے۔ قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ جنگ کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں امریکی محکمہ دفاع کو اس کشیدہ صورتحال کے لیے موجودہ بجٹ سے زیادہ مالی وسائل درکار ہوں گے تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کیلئے اندرونی طور پر بجٹ میں بڑی کٹوتیاں کرنا سیاسی اور عملی طور پر مشکل ہو سکتا ہے۔ تاہم ایسے میں ٹرمپ حکومت کی جانب سے ایران جنگ کیلئے کانگریس سے بجٹ کی منظوری بھی کسی چیلنج سے کم نہیں ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق جہاں ایک طرف ایران کے ساتھ جنگ میں بڑھتے ہوئے اخراجات امریکہ اور اسرائیل کا دیوالیہ نکال رہے ہیں وہیں دوسری جانب جنگ کے میدان میں ایران کی جانب سے استعمال کیے جانے والے شاہد خودکش ڈرونز بھی امریکی و اسرائیلی فیصلہ سازوں کیلئے ایک چیلنج بن چکے ہیں۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد ایران نے اب تک 2000 سے زائد کم لاگت سستے شاہد خودکش ڈرونز داغے ہیں جن میں سے بعض سخت دفاعی اقدامات کے باوجود اپنے اہداف تک پہنچنے میں کامیاب رہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ و اسرائیل کیلئے اس وقت اصل مسئلہ صرف حملوں کی تعداد نہیں بلکہ لاگت کا فرق بھی ہے۔ ایک شاہد ڈرون کی قیمت 20 ہزار سے 50 ہزار ڈالر کے درمیان بتائی جاتی ہے، جبکہ اسے مار گرانے کے لیے استعمال ہونے والا پیٹریاٹ فضائی دفاعی نظام کے PAC-3 میزائل کا ایک فائر میں 30 لاکھ ڈالر سے زائد کا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ ان میزائلوں کی پیداوار بھی محدود ہے۔ جس کی وجہ سے امریکہ اور اسرائیل کیلئے ایرانی ڈرونز کا مقابلہ کرنا ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید سے مزید مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کم قیمت ڈرونز کے مقابلے میں مسلسل مہنگے میزائل استعمال کیے جاتے رہے تو امریکہ اور اسرائیل کیلئے طویل مدت میں یہ حکمتِ عملی معاشی طور پر قابلِ برداشت نہیں رہے گی۔ انھی خدشات کے پیش نظر پینٹاگون نے کم لاگت والے امریکی ڈرونز کی تیاری تیز کر دی ہے۔ ان میں "لوکس (LUCAS)” نامی ایک نیا ڈرون سسٹم بھی شامل ہے جو بظاہر شاہد ڈرون کی حکمت عملی سے متاثر ہو کر تیار کیا جا رہا ہے تاکہ کم قیمت مگر مؤثر دفاعی صلاحیت حاصل کی جا سکے۔
واضح رہے کہ تکون نما خودکش شاہد ڈرون کی لمبائی تقریباً 11 فٹ ہوتی ہے اور اس میں دھماکا خیز مواد نصب ہوتا ہے۔ یہ ڈرون ٹرک کے عقب سے بھی لانچ کیا جا سکتا ہے جس کے باعث اس کا بروقت سراغ لگانا اور اسے تباہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ماڈلز تقریباً 1200 میل تک پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کیا حزب اللہ ایران میں رجیم چینج آ پریشن ناکام بنا پائے گا ؟
دفاعی مبصرین کے بقول ایران نے کم لاگت مگر مؤثر ٹیکنالوجی سے مزید شاہد ڈرونز کے ذریعے جنگی حکمتِ عملی میں ایک نئی جہت متعارف کرائی ہے جسے "کم لاگت کے ذریعے زیادہ دباؤ” کی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر یہی رجحان جاری رہا تو مستقبل کی جنگوں میں مہنگے اور جدید دفاعی نظام رکھنے والی طاقتوں کو بھی غیر روایتی اور کم قیمت ہتھیاروں کے خلاف نئی حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی ورنہ ان کی داستان تک نہ ہو گی داستانوں میں…
