کیا ایران پر امریکی حملے کا مقصد خلیجی ممالک کو تباہ کرنا تھا؟

 

 

معروف لکھاری اور تجزیہ کار ایاز امیر نے ایران پر امریکی حملے کو ایسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا ہے جسکے نتیجے میں ایران خلیجی ریاستوں پر حملہ آور ہو جائے اور مسلم دنیا تصادم میں الجھ کر کمزور ہو جائے۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں ایاز امیر کہتے ہیں کہ امریکہ نے ماضی میں بھی جنگوں کے لیے مختلف جواز تراشے، جیسا کہ جنگ ویتنام کے دوران کمیونزم کے پھیلاؤ کو بنیاد بنایا گیا، تاہم ایران کے معاملے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کوئی واضح اور مستقل جواز پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ انکی جانب سے آئے روز ایران پر حملے کی نئی وجوہات بیان کی جا رہی ہیں، حالانکہ ایران نے ممکنہ حد تک جنگ سے بچنے کی کوشش کی تھی۔ ایاز امیر کے مطابق اس جنگ کی بنیاد اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیلی خفیہ ادارے موساد کی اس یقین دہانی پر رکھی گئی کہ ایران پر حملہ ہوتے ہی اس کا اسلامی نظام فوری طور پر گر جائے گا۔ یہی مؤقف ٹرمپ کے سامنے رکھا گیا، جس پر انہوں نے یقین کرتے ہوئے حملے کی منظوری دی۔ تاہم عملی صورتحال اس کے بالکل برعکس نکلی۔

 

ایاز امیر کہتے ہیں کہ ایران نے حملے کے باوجود نہ صرف ہتھیار ڈالنے سے انکار کیا بلکہ بھرپور جوابی کارروائیاں کر کے امریکہ اور اسرائیل کو حیران کر دیا۔ خاص طور پر آبنائے ہرمز کی بندش ایک ایسا ایکشن ثابت ہوا جس کا اندازہ حملہ آوروں کو نہیں تھا۔ اس کے نتیجے میں تیل کی عالمی ترسیل متاثر ہوئی، قیمتیں بڑھ گئیں اور اس بحران کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہونے لگے۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے اثرات امریکہ کے اندر بھی ظاہر ہو رہے ہیں، جہاں صدر ٹرمپ کی مقبولیت کم ہو کر تقریباً 36 فیصد تک آ گئی ہے اور ان کی اپنی سیاسی تحریک، جسے میگا موومنٹ کہا جاتا ہے، میں بھی دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ معروف امریکی شخصیت ٹکر کارلسن سمیت کئی حلقے کھل کر ٹرمپ پر تنقید کر رہے ہیں، جبکہ بعض سابق حکام بھی اس جنگ کو غیر ضروری قرار دے رہے ہیں۔

 

ایاز امیر کے مطابق امریکہ اس وقت ایک ایسی صورتحال میں پھنس چکا ہے جہاں وہ بیک وقت دھمکیاں بھی دے رہا ہے اور راستہ نکالنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔ ایک طرف ایران کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ اس کے توانائی کے نظام کو تباہ کر دیا جائے گا، جبکہ دوسری طرف مذاکرات کی راہیں تلاش کی جا رہی ہیں۔

 

انکے بقول یہ امریکی حکمت عملی غیر واضح اور متضاد ہے، جس سے اس کی بطور سپر پاور پوزیشن مزید کمزور ہو رہی ہے۔ اسی دوران اب صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کھلوائے بغیر ہی ایران کے خلاف جنگ بند کرنے کی باتیں بھی شروع کر دی ہیں۔ انہوں نے تاریخی مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ماضی میں بھی طویل جنگوں میں کامیابی حاصل نہیں کر سکا، چاہے وہ ویتنام ہو یا افغانستان، جہاں بڑی فوجی موجودگی کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکے۔ موجودہ صورتحال میں بھی امریکہ ایران جیسے ملک کے خلاف محدود فوجی طاقت سے کوئی فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کی پوزیشن میں نظر نہیں آتا۔

 

ایاز امیر کے مطابق امریکہ نے ایران کے سامنے جو مطالبات رکھے ہیں وہ حقیقت پسندانہ نہیں بلکہ ایسے ہیں جیسے میدان جنگ میں حاصل نہ ہونے والے مقاصد کو مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہو۔ دوسری جانب ایران، جو بھاری نقصان اٹھانے کے باوجود مزاحمت جاری رکھے ہوئے ہے، ایسے مطالبات ماننے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر امریکہ واقعی ایران کی بحری اور فضائی قوت کو تباہ کر چکا ہے تو پھر وہ آبنائے ہرمز کو کھلوانے میں کیوں ناکام ہے، حالانکہ امریکی بحریہ دنیا کی طاقتور ترین بحری قوت سمجھی جاتی ہے۔ ان کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ ایران جدید طرز کی جنگ لڑ رہا ہے جبکہ امریکہ پرانے تصورات میں الجھا ہوا ہے۔

 

ایاز امیر کہتے ہیں کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے بھی ایرانی حملوں سے محفوظ نہیں رہے اور ان کی افادیت متاثر ہوئی ہے، جس سے امریکہ کی عسکری برتری پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اس کے برعکس ایران کی حکمت عملی نے حملہ آور قوتوں کو دفاعی پوزیشن پر لا کھڑا کیا ہے۔

ایاز امیر نے وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو شاید یہ توقع تھی کہ ایران میں بھی اسی طرح تیزی سے نظام تبدیل ہو جائے گا، مگر ایران میں ریاستی ڈھانچہ برقرار رہا اور فوری جوابی کارروائیوں نے اس تصور کو غلط ثابت کر دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر یہ جنگ طویل ہو گئی تو خطے میں تباہی مزید بڑھے گی، خاص طور پر خلیجی ممالک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ان کے مطابق اگر امریکہ ایران کے توانائی کے ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے تو ایران بھی جواباً خلیجی ممالک میں عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے، جس سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ ریجیم تبدیل کرائے بغیر ہی جنگ بندی کے لیے بے تاب

ایاز امیر  کہتے ہیں کہ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر حملہ اس سوچ کے تحت کیا تھا کہ خطے میں ایک ایسا انتشار پیدا ہو جائے جس میں مسلم اور خلیجی ممالک آپس میں الجھ کر کمزور ہو جائیں، مگر ایران کی مزاحمت نے اس منصوبے کو پیچیدہ بنا دیا ہے اور اب خود امریکہ ایک مشکل صورتحال میں گھرا ہوا دکھائی دیتا ہے جہاں اسے نہ مکمل کامیابی حاصل ہو رہی ہے اور نہ ہی باعزت واپسی کا راستہ آسانی سے نظر آ رہا ہے۔

Back to top button