امریکہ کے خلاف ایران کی منفرد جنگی سٹریٹجی کیا ہے ؟

 

 

 

ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے حتمی انجام کے بارے میں تو کچھ کہنا قبل از وقت ہے، تاہم یہ حقیقت واضح ہے کہ ایران نے غیر معمولی مزاحمت اور غیر روایتی دفاعی حکمتِ عملی کے ذریعے اپنے مخالفین کو سخت حیران کر دیا ہے۔ دفاعی تجزیہ نگار "موزیک ڈیفنس” نامی اس جنگ کو ایک منفرد دفاعی ماڈل کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جسے ایران نے برسوں کی منصوبہ بندی کے بعد تیار کیا تھا اور جو آج عملی میدان میں آزمایا جا رہا ہے۔

 

ایرانی دفاعی نظام کا بنیادی ستون وہ حکمتِ عملی ہے جسے عسکری اصطلاح میں “موزیک ڈیفنس” یا موزیک دفاع کہا جاتا ہے۔ مصوری میں موزیک ایسی تصویر کو کہا جاتا ہے جو مختلف چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں سے مل کر بنتی ہے۔ اسی تصور کو ایران نے اپنے دفاعی ڈھانچے میں منتقل کیا ہے، جہاں پورے ملک کے دفاعی نظام کو متعدد چھوٹے، خودمختار اور بااختیار یونٹس میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔ اس حکمتِ عملی کا مقصد یہ ہے کہ اگر دشمن کسی ایک بڑے مرکز کو تباہ بھی کر دے تو باقی تمام یونٹس آزادانہ طور پر جنگ جاری رکھ سکیں اور دفاعی نظام مکمل طور پر مفلوج نہ ہو۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران نے اپنے 31 صوبوں کو دفاعی اعتبار سے الگ الگ یونٹس میں تقسیم کر رکھا ہے اور ہر صوبے میں پاسدارانِ انقلاب اسلامی کا ایک مقامی ڈھانچہ موجود ہے۔ یہ یونٹس مرکزی قیادت سے رابطہ منقطع ہونے کی صورت میں بھی خود مختار فیصلے کرنے، ڈرون حملے کرنے، میزائل داغنے اور گوریلا کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ماڈل کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر کسی بڑے حملے میں تہران میں موجود مرکزی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہو جائے تو بھی جنگ کا سلسلہ نہ رکے اور دفاعی مزاحمت پورے ملک میں جاری رہے۔ حتیٰ کہ بدترین صورت میں اگر کسی غیر ملکی طاقت کو ملک کے کسی حصے پر قبضہ حاصل بھی ہو جائے تو مقامی یونٹس گوریلا جنگ کے ذریعے مسلسل مزاحمت جاری رکھ سکیں۔

 

اس حکمتِ عملی کو باقاعدہ نظریاتی شکل 2007 میں ایرانی فوجی کمانڈر محمد علی جعفری نے دی۔ مقصد یہ تھا کہ کسی زمینی حملے کی صورت میں دشمن کو طویل اور پیچیدہ جنگ میں الجھا دیا جائے تاکہ وہ فوری اور فیصلہ کن فتح حاصل نہ کر سکے۔ بعد ازاں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی نے اس حکمت عملی کو ایران کی سرحدوں سے باہر بھی وسعت دی اور عراق، شام اور لبنان میں موجود اتحادی گروہوں کے ذریعے “فارورڈ ڈیفنس” کا تصور متعارف کرایا۔ ان کے بعد موجودہ ایرانی عسکری قیادت، بالخصوص حسین سلامی نے اس نظام میں جدید ڈرون ٹیکنالوجی اور ہائپرسونک میزائلوں کو شامل کر کے اسے مزید موثر اور مہلک بنانے کی کوشش کی۔

 

ایران کی اس دفاعی حکمت عملی کا ایک اہم پہلو غیر متناسب جنگ ہے۔ چونکہ ایران روایتی فضائی طاقت میں امریکہ یا اسرائیل جیسی بڑی عسکری قوتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا، اس لیے اس نے اپنے دفاعی نظام کو اس انداز میں تشکیل دیا ہے کہ دشمن کو واضح اور بڑا ہدف نہ مل سکے۔ چھوٹے چھوٹے بکھرے ہوئے نیٹ ورک، موبائل لانچر، خفیہ سرنگیں اور مقامی ملیشیا گروپس اس حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اس طرح دشمن کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے کہ حملہ کہاں سے ہو رہا ہے اور اصل کمانڈ کہاں موجود ہے۔ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں کے لیے موبائل لانچنگ سسٹم تیار کیے ہیں جو عام ٹرکوں، گاڑیوں یا زیر زمین سرنگوں سے نکل کر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یہ یونٹس کسی بھی وقت مختصر تیاری کے بعد میزائل فائر کر سکتے ہیں اور فوری طور پر اپنی جگہ تبدیل کر لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں کے دوران بھی دشمن کے لیے یہ سمجھنا مشکل رہا ہے کہ حملے کس مقام سے کیے جا رہے ہیں۔

 

اس کے ساتھ ساتھ ایران نے زیر زمین میزائل اڈوں اور سرنگوں کا ایک وسیع نیٹ ورک بھی قائم کیا ہے جسے عسکری ماہرین “میزائل سٹیز” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ ان سرنگوں میں بیلسٹک میزائل، ڈرونز اور راکٹ محفوظ رکھے جاتے ہیں۔ چند برس قبل ایران نے ان خفیہ تنصیبات کی کچھ تصاویر بھی جاری کی تھیں جنہیں ابتدا میں بعض مغربی تجزیہ کاروں نے مبالغہ قرار دیا تھا، مگر حالیہ جنگی حالات میں ان تنصیبات کی موجودگی کو زیادہ سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے۔

 

دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی دفاعی نظام سمجھنے کے لیے پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے کردار کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور ایران کا وہ عسکری ادارہ ہے جو نہ صرف ملک کے دفاع بلکہ انقلابِ ایران کے نظریاتی تحفظ کا بھی ذمہ دار سمجھا جاتا ہے۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای بھی جوانی میں پاسداران انقلاب کا حصہ رہے ہیں۔ اس  کے کئی ذیلی حصے ہیں جن میں بیرونِ ملک کارروائیوں کے لیے قدس فورس، داخلی سطح پر رضاکارانہ فورس بسیج، میزائل اور ڈرون پروگرام کے لیے ایرو اسپیس فورس اور خلیج فارس میں غیر روایتی بحری جنگ کے لیے نیول فورس شامل ہیں۔

 

ایران کے میزائل پروگرام، خودکش ڈرون ٹیکنالوجی اور خلیج میں تیز رفتار حملہ آور کشتیوں کا کنٹرول بھی اسی ادارے کے پاس ہے، اسی لیے کسی بھی بیرونی حملے میں اس نیٹ ورک کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس دفاعی ڈھانچے میں بسیج ملیشیا کا کردار بھی نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح ایران میں ایک منظم عوامی رضاکار فورس بھی ہے جسے انقلابِ ایران کے فوراً بعد آیت اللہ روح اللہ خمینی نے قائم کیا تھا۔ اس میں طلبہ، مزدور، سرکاری ملازمین، تاجر اور حتیٰ کہ خواتین بھی شامل ہوتی ہیں۔ اس فورس کی تعداد لاکھوں میں ہے اور پورے ایران میں اس کے یونٹس موجود ہیں۔ عام حالات میں یہ داخلی سکیورٹی، احتجاج کے کنٹرول اور سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتی ہے، مگر جنگی حالات میں اسے گوریلا مزاحمت کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

موزیک دفاعی حکمت عملی میں یہی فورس مقامی سطح پر چھوٹے چھوٹے دفاعی گروپ بنا کر دشمن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایران کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی میں ڈرون اور میزائلوں کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ خاص طور پر شاہد سیریز کے ڈرونز کو اس نظام کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، جن میں شاہد 136 نمایاں ہے۔ ان ڈرونز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ نسبتاً کم لاگت کے حامل ہیں مگر بڑی تعداد میں استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ ایک ڈرون کی قیمت تقریباً بیس ہزار ڈالر بتائی جاتی ہے، جبکہ اسے تباہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے جدید دفاعی میزائل لاکھوں ڈالر مالیت کے ہوتے ہیں۔ اس طرح یہ دشمن کے مہنگے دفاعی نظام کے لیے ایک معاشی اور عسکری چیلنج بن جاتے ہیں۔

 

اسی طرح ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام میں فاتح سیریز کے میزائلوں کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔ فاتح 313 اور اس کے جدید ورژن جیسے ذوالفقار ٹھوس ایندھن سے چلنے والے میزائل ہیں جن کی رینج تقریباً تین سو سے سات سو کلومیٹر تک بتائی جاتی ہے۔ ان میزائلوں کی خصوصیت یہ ہے کہ انہیں فائر کرنے کے لیے طویل تیاری درکار نہیں ہوتی اور انہیں زیر زمین بنکرز سے کسی بھی وقت لانچ کیا جا سکتا ہے۔ یہی میزائل ایران کے مختلف صوبائی یونٹس کو فراہم کیے گئے ہیں تاکہ وہ اپنے اپنے علاقوں سے قریبی دشمنی اہداف کو نشانہ بنا سکیں۔

ایران پر حملہ کرنے والا امریکہ دلدل میں کیوں پھنس گیا ہے؟

ایران کی موزیک دفاعی حکمت عملی کا سب سے اہم مقصد دشمن کو فوری اور فیصلہ کن فتح سے محروم رکھنا ہے۔ اس ماڈل کے تحت پورے ملک میں مزاحمت کو پھیلا دیا جاتا ہے تاکہ دشمن کی فوج ایک طویل اور پیچیدہ جنگ میں پھنس جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایران کی علاقائی اتحادی قوتیں بھی مختلف محاذ کھول سکتی ہیں جس سے جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔

Back to top button