ایران پر حملوں کے بعد مسلم ورلڈ کی تباہی یقینی کیوں ہے؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد مسلم دنیا کا خاتمہ نوشتہ دیوار ہے کیونکہ ایران نے شکست تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ ایران پر ایٹمی حملے کا خطرہ بڑھتا چلا جا رہا ہے کیونکہ امریکہ جنگ ختم کرنے کے لیے ہیروشیما اور ناگا ساکی کی طرح ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے پر مجبور ہو جائے گا۔

 

اپنے سیاسی تجزیے میں جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ اگر ٹرمپ نے جاپان والا نسخہ ایران میں آزمانے کا فیصلہ کر لیا تو انہیں امریکہ کو بھی آگے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ صدر ٹرمپ خود کو اس معاملے سے الگ کر لے گا‘ اس کے بعد وہ بنیامین نیتن یاہو کو آنکھ مار دے گا اور اسرائیل ایران پر تین چار چھوٹے بم گرا دے گا جس کے بعد ایران میں جاپان سے دس گنا بڑی تباہی آ جائے گی۔

 

انکا کہنا ہے کہ ہمیں یہاں ایک اور نقطہ بھی سمجھنا ہو گا امریکا اور جاپان کے درمیان وسیع فاصلہ تھا‘ ایران اور امریکا کے درمیان بھی ٹھیک ٹھاک دوری ہے چناںچہ امریکی عوام تو تابکاری کے اثرات سے بچ جائیں گے لیکن تمام عرب ریاستیں بالکل ایران کے منہ پر ہیں۔ وہ ایٹمی حملے سے براہ راست تابکاری کا شکار ہوں گی جس کے بعد گلف کی رونقیں ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں گی۔ عرب شاہی خاندان بھی گلف میں نظر نہیں آئیں گے اور اگر خدانخواستہ اس جنگ کے دوران ایران نے ایٹم بم بنا لیا تو اسرائیل کے علاوہ عرب ریاستوں میں موجود امریکی بیس اس کا ہدف ہوں گے اور اس صورت میں بھی عرب برباد ہو جائیں گے۔

 

چناںچہ جاوید چوہدری کے مطابق اس جنگ میں ایران جیتے یا امریکا، نتیجہ اسلامی دنیا کے خلاف ہی نکلے گا جس کی بربادی نوشتہ دیوار ہے۔

انکے مطابق موجودہ صورتحال کو سمجھنے کے لیے دوسری جنگ عظیم کے آخری مراحل کا جائزہ لینا ضروری ہے۔ 1945 میں جرمنی شکست کے قریب پہنچ چکا تھا اور ایڈولف ہٹلر برلن میں زیر زمین بنکر میں چھپا ہوا تھا جبکہ اتحادی افواج یورپ کا بڑا حصہ واپس لے چکی تھیں، تاہم جاپان ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں تھا اور مسلسل مزاحمت جاری رکھے ہوئے تھا۔ اسی دوران امریکہ کے خفیہ پروگرام مین ہیٹن پراجیکٹ کے تحت دنیا کا پہلا ایٹم بم تیار کیا گیا۔ اپریل 1945 میں واشنگٹن میں ہونے والے اجلاس میں جاپان کے متعدد شہروں کو ایٹمی حملوں کے لیے ہدف بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ابتدا میں 17 شہروں کو نشانہ بنانے کی تجویز تھی تاہم بعد ازاں اس فہرست کو کم کر کے پانچ شہروں تک محدود کر دیا گیا۔

 

16 جولائی 1945 کو امریکہ نے پہلا کامیاب ایٹمی تجربہ کیا جس کے بعد جوہری بم جاپان کے قریب امریکی جزیرے ٹینین منتقل کر دیے گئے اور حملے کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ 6 اگست 1945 کی صبح ہیروشیما پر پہلا ایٹم بم گرایا گیا جس کے نتیجے میں چند لمحوں میں درجہ حرارت ہزاروں ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا اور شہر مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ ابتدائی آدھے گھنٹے میں تقریباً 80 ہزار افراد ہلاک ہو گئے جبکہ ہزاروں افراد تابکاری کے اثرات سے بعد میں موت کا شکار ہوئے۔ جاپان کی جانب سے ہتھیار ڈالنے سے انکار کے بعد امریکہ نے تین روز بعد 9 اگست کو ناگاساکی پر دوسرا ایٹمی بم گرا دیا جس کے نتیجے میں تقریباً 75 ہزار افراد فوری طور پر ہلاک ہو گئے اور شہر مکمل تباہی کا شکار ہو گیا۔ اس کے بعد جاپان نے ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا اور 15 اگست 1945 کو سرینڈر کے معاہدے کے ساتھ جنگ کا خاتمہ ہو گیا۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق تاریخ کا یہ واقعہ اس بات کی مثال ہے کہ جب طاقتور ممالک کو اپنی طاقت اور برتری کو چیلنج محسوس ہوتا ہے تو وہ انتہائی سخت اقدامات سے بھی گریز نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ نے صدیوں کی محنت سے خود کو عالمی سپر پاور بنایا ہے اور اگر کوئی نسبتاً کمزور ملک اس کی طاقت کو چیلنج کرے تو اس کے لیے پیچھے ہٹنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ جنگ میں ایران ایک ایسی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے جس کے تحت وہ مخالف ممالک کے دفاعی نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران کم لاگت والے ڈرونز تیار کر کے انہیں اسرائیل اور خلیجی ممالک کی طرف بھیجتا ہے جبکہ ایک ڈرون کو مار گرانے کے لیے مہنگے انٹرسیپٹر میزائل استعمال کرنا پڑتے ہیں جس سے مخالف فریق کے دفاعی ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔

 

ان کا کہنا تھا کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے مطابق ایران ہر ماہ بڑی تعداد میں میزائل تیار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ امریکہ کے لیے انٹرسیپٹر میزائلوں کی تیاری محدود رفتار سے ہو رہی ہے۔ ایران کے پاس میزائلوں کی مختلف نسلیں موجود ہیں اور وہ ابتدائی مرحلے میں پرانے میزائل استعمال کر کے مخالف فریق کے دفاعی ذخائر ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ یہ حکمت عملی عملی طور پر انتہائی خطرناک ہو سکتی ہے کیونکہ جیسے جیسے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے دفاعی ذخائر کم ہوں گے ویسے ویسے ایران کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کیے جانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق اگر جنگ طویل ہو گئی تو امریکہ یا اسرائیل کم طاقت کے جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ایران میں تباہی جاپان سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول ایسی صورت میں خلیجی عرب ریاستیں بھی براہ راست تابکاری کے اثرات سے متاثر ہو سکتی ہیں اور پورا خطہ شدید تباہی کا شکار ہو سکتا ہے۔

انہوں نے تجویز دی کہ اس خطرناک صورتحال سے بچنے کے لیے مسلم دنیا کو فوری طور پر متحد ہو کر سفارتی کوششیں کرنا ہوں گی تاکہ جنگ بندی ممکن ہو سکے۔ ان کے مطابق اگر مسلم ممالک مشترکہ دفاعی حکمت عملی اور اتحاد کی طرف نہ بڑھے تو خطے میں مزید بڑے بحران جنم لے سکتے ہیں۔

اسرائیل،امریکہ اور ایران کی جنگ پاکستانیوں کو کیوں بھگتنا پڑگئی؟

جاوید چوہدری کا کہنا تھا کہ خطے میں دفاعی معاہدوں اور عسکری رابطوں میں تیزی آ رہی ہے اور اگر جنگ مزید پھیلی تو اس کے اثرات دیگر مسلم ممالک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ جاوید چوہدری کے مطابق موجودہ حالات میں دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ کشیدگی کو فوری طور پر کم کیا جائے کیونکہ اس جنگ کا پھیلاؤ پورے خطے اور مسلم دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

Back to top button