ایران پر حملہ کرنے والا امریکہ دلدل میں کیوں پھنس گیا ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار عمار مسعود نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر حالیہ حملوں کے بعد اپنی فوری فتح کا پورا یقین تھا مگر یہ خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو پا رہا۔ ایران کی جنگ امریکا کے لیے دلدل بنتی جا رہی ہے۔ امریکا میں ٹرمپ کی ریٹنگ کم ہو گئی ہے۔ اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو امریکا خود اپنے ہی کھودے ہوئے گڑھے میں گرتا جائے گا۔ ظالم کو اپنے ظلم کی سزا اپنی ہی تخلیق کردہ دلدل میں مل جائے گی اور یہ جنگ امریکا کی آخری جنگ ثابت ہو گی۔
عمار مسعود اپنے سیاسی تجزیے میں کہتے ہیں کہ ایک عمومی نگاہ سے لمحۂ موجود میں دنیا کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو لگتا ہے یہ دنیا اب امریکا کی طاقت کے سامنے سرنگوں ہو چکی ہے۔ اب اختلاف کی گنجائش ہے نہ انحراف کی۔ کوئی ٹرمپ کی بدمست طاقت کا مقابلہ کرنے کو تیار نہیں۔ کسی جانب سے کوئی حرفِ انکار نہیں۔ نہ روس امریکی طاقت سے ٹکرا رہا ہے، نہ چین اس جنگ میں کود رہا ہے، نہ یورپی یونین کا حوصلہ پڑ رہا ہے، نہ برطانیہ میں انکار کی جرات ہے، نہ مسلم امہ کا اتحاد رکاوٹ بن رہا ہے، نہ اقوام متحدہ کی جانب سے کوئی قرارداد آ رہی ہے، نہ ورلڈ بینک امریکا پر کوئی پابندیاں لگا رہا ہے، نہ انسانی حقوق کی تنظیمیں آواز اٹھا رہی ہیں، نہ سرحدوں کا احترام باقی ہے، نہ ممالک کا وجود معنی رکھتا ہے، نہ مظلوم ممالک کی قیادت کچھ کر پا رہی ہے، نہ ان کے عوام کی بے بسی پر کسی کو ترس آ رہا ہے۔
عمار مسعود کے بقول لگتا ہے کہ دنیا کا انتظام ٹرمپ نامی ایک آمرانہ قیادت کے حوالے کر کے سب نے آنکھیں موند لی ہیں اور ریت میں سر دے دیا ہے۔ کوئی بھی دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کی جرات نہیں کر رہا۔ 161 نوعمر بچیوں کے جنازے دیکھ کر بھی دنیا کے لب سلے ہوئے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ کسی ملک کے سربراہ کو سرعام شہید کرنے والے اب دنیا کو انسانی حقوق کا درس دے رہے ہیں۔ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو اغوا کرنے والے خود کو معصوم بتا رہے ہیں۔ جو ہتھیار عراق میں تلاش کرنے کے بہانے عراق برباد کیا گیا، اب انہی ہتھیاروں کی تلاش میں ایران کو مسمار کیا جا رہا ہے۔ صیہونی درندگی کے پنجے پوری دنیا پر گاڑے جا رہے ہیں۔ فرعونیت اس عہد میں عود کر سامنے آ رہی ہے۔ ظالم، مظلوم کے لبادے میں رقص کر رہا ہے۔
عمار مسعود بتاتے ہیں کہ ایسا دنیا میں پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔ نمرود، شداد اور فرعون سب ہی اسی زعم میں رہے۔ سب کو یہی گمان تھا کہ وہ اٹل ہیں، حتمی ہیں۔ ان کے بغیر دنیا کا وجود ہے نہ بنی نوع انسان کے کوئی معنی۔ نہ مظلوم کی بددعا انہیں لگ سکتی ہے، نہ محروم کی سسکیاں ان کے رستے میں حائل ہو سکتی ہیں۔ وہی اول و آخر ہیں، وہی لازم و ملزوم ہیں۔ وہی دنیا کی راہِ نجات ہیں اور وہی دنیا کا سب سے بڑا اثبات ہیں۔ انکے مطابق ایک زمانہ تھا جب سوویت یونین بھی یہی سمجھتا تھا۔ اسی سوچ کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا تھا۔ گرم پانیوں تک پہنچنے کی اسے جلدی تھی۔ لیکن اسے ادراک ہی نہیں رہا کہ یہ جنگ اس کی آخری جنگ ثابت ہو گی۔ اس کے بعد روس کے ٹکڑے ہو جائیں گے۔
لیکن عمار مسعود کے مطابق قدرت کو ایک کمزور ملک کے ہاتھوں سپر پاور کی شکست کا تماشا دنیا کو دکھانا مقصود تھا۔ افغانستان کے اونچے پہاڑ پاکستانیوں اور امریکیوں کی مدد سے روسیوں کے قبرستان بن گئے۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت ریت کا ڈھیر ثابت ہوئی اور جس میں سوویت یونین دفن ہو گیا۔ عمار کے مطابق اب بھی یہی ہو رہا ہے۔ امریکا ایران کو تر نوالہ سمجھ رہا ہے۔ جب چاہتا ہے اور جسے چاہتا ہے قتل کر دیتا ہے۔ امریکہ اپنی انٹیلی جنس اور ایران کی صفوں میں چھپے غداروں کی مدد سے ایرانی قیادت پر تاک تاک کر حملے کرتا ہے اور پوری عسکری قیادت کے چیتھڑے اڑا دیتا ہے۔ امریکہ زیر زمین چھپے لوگوں کو تہس نہس کر دیتا ہے۔ کبھی بچیوں کے سکولوں پر حملہ، کبھی بازاروں پر بمباری، کبھی نہتے شہریوں پر گولہ باری، کبھی تاریخی اثاثوں پر میزائل باری۔ یہ سب کچھ سرعام ہماری آنکھوں کے سامنے ہو رہا ہے۔ کچھ ڈھکا چھپا نہیں، نہ امریکا کے گندے ارادے اور نہ ہی امریکا کا مکروہ کردار۔
عمار مسعود کا کہنا ہے کہ دراصل موجودہ جنگ امریکا اور ایران کی نہیں بلکہ دو مذاہب کی جنگ ہے جس کا جال اسرائیل نے بچھایا ہے۔ابھی جو حملے خلیجی ممالک پر ہو رہے ہیں اس کے پیچھے بھی ایران نہیں بلکہ صیہونی سازش ہے۔ اسرائیل کے ارادے اتنے گندے ہیں کہ اب اس کی جانب سے یہ کہا جا رہا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ ایران کا کوئی میزائل غلطی سے بیت المقدس میں جا گرے۔ اگر ایسی کوئی حرکت کی جاتی ہے تو خلیجی ممالک اور ایران میں جنگ چھڑ جائے گی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسرائیل مشرق وسطی پر دھاوا بول سکتا ہے۔
ایران پر حملے کے بعد ٹرمپ کے اندازے غلط کیسے ثابت ہوئے؟
عمار کہتے ہیں کہ حق و باطل کا قصہ بہت پرانا ہے۔ ظالم اور مظلوم کی کہانی بہت پرانی ہے۔ جابر اور مجبور کی داستان نئی نہیں۔ جب سے انسان کا اس روئے زمین پر وجود ہے یہی کہانیاں دہرائی جا رہی ہیں۔ کہانی وہی رہتی ہے مگر کردار بدلتے جاتے ہیں۔ کبھی یہ فرعون کہلاتے ہیں اور کبھی ٹرمپ کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔ ساری انسانی تاریخ کو چھان لیں تو نتیجہ ایک ہی نکلتا ہے کہ کوئی انسان فیصلہ کن نہیں ہوتا۔ فیصلہ کن وہی ہے جو “کن” کہتا ہے۔ وہی مظلوم کا ساتھ نبھاتا ہے، وہی ننھی بچیوں کی قبروں کا حساب لیتا ہے اور وہی جواب مانگتا ہے۔ اس کی اپنی عدالت ہے اور اس کے اپنے فیصلے ہیں۔ لیکن سبق یہی ہے کہ ہر فرعون کا انجام بھیانک ہوتا ہے۔ کوئی لازوال نہیں رہتا، لازوال صرف وہی ہے جو ایک ہے، جو خدا ہے۔
