امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ عالمی ناانصافی کیوں ہے؟

معروف لکھاری اور تجزیہ کار حماد غزنوی نے ایران کے سیاسی نظام کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے آمرانہ قرار دیا ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کو نیوکلیئر پروگرام کی آڑ میں ایران پر حملے کا کوئی اخلاقی یا قانونی جواز حاصل نہیں تھا۔ انکا کہنا ہے کہ کمزور قوموں پر طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل کرنا دراصل عالمی ناانصافی ہے۔
روزنامہ جنگ کے لیے اپنے سیاسی تجزیے میں حماد غزنوی نے ایران پر حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کو عالمی طاقتوں کی سیاسی حکمت عملی اور معاشی مفادات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست میں اکثر وہ کچھ نہیں ہوتا جو بظاہر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق بڑے فیصلے کرنے والے عالمی قوتیں اپنے اقدامات کے جو اسباب بیان کرتی ہیں، حقیقت میں ان کے پس منظر میں بالکل مختلف مقاصد کارفرما ہوتے ہیں۔ حماد غزنوی کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری تھے اور آئندہ دور بھی طے تھا، لیکن اسی دوران اچانک حملہ کر دیا گیا۔ ان کے بقول ایسا دوسری مرتبہ ہوا ہے جس سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ مذاکرات دراصل ایک پردہ تھے جبکہ اصل فیصلہ پہلے ہی کیا جا چکا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران پر حملے کے جواز کے طور پر اس کے جوہری پروگرام کو پیش کیا گیا، حالانکہ ایران 2015 میں عالمی طاقتوں کے ساتھ معاہدے کے بعد اپنے ایٹمی پروگرام کو محدود کرنے پر آمادہ ہو چکا تھا اور اس پر عالمی نگرانی بھی موجود تھی۔ ان کے مطابق اس پس منظر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر جوہری پروگرام پہلے ہی محدود ہو چکا تھا تو پھر حملے کی اصل وجہ کیا تھی۔
حماد غزنوی نے اس دعوے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کہ ایران پر حملہ ایرانی عوام خصوصاً خواتین کو آزادی دلانے کے لیے کیا گیا۔ ان کے بقول ماضی میں بھی مختلف مسلم ممالک میں اسی طرح کے دعوؤں کے ساتھ فوجی کارروائیاں کی گئیں، لیکن ان جنگوں کے نتیجے میں لاکھوں عام شہری متاثر ہوئے اور خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوا۔
حماد غزنوی کا کہنا تھا کہ عالمی طاقتوں کے اقدامات کو سمجھنے کے لیے عالمی معاشی نظام کو دیکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق گزشتہ صدی میں ایک ایسا عالمی نظام تشکیل دیا گیا جس کی بنیاد امریکی ڈالر پر رکھی گئی اور عالمی تجارت، بینکاری اور مالیاتی اداروں کو اسی نظام کے تحت منظم کیا گیا۔ حماد غزنوی کے مطابق اس نظام کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی مالیاتی ادارے قرضوں اور معاشی پالیسیوں کے ذریعے اثرانداز ہوتے ہیں جبکہ بعض اوقات معاشی پابندیاں یا فوجی کارروائیاں بھی اسی نظام کے تحفظ کے لیے کی جاتی ہیں۔ ان کے بقول جو ممالک اس نظام سے ہٹ کر تجارت کرنے کی کوشش کرتے ہیں انہیں دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ وہ چین کو تیل امریکی ڈالر کے بجائے چینی کرنسی یوآن میں فروخت کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہی اقدام عالمی مالیاتی نظام کے لیے چیلنج سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے ایران کو نسبتاً آسان ہدف تصور کیا گیا۔
حماد غزنوی کے مطابق دوسری جانب اسرائیلی قیادت کے اہداف زیادہ واضح دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے بقول اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو خطے میں اپنی تزویراتی برتری قائم رکھنے اور ایک وسیع تر اسرائیلی ریاست کے تصور کو عملی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے باعث خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ٹرمپ کا ایران میں کٹھ پتلی حکومت لانے کا منصوبہ کیسے ناکام ہوا؟
حماد غزنوی کے مطابق اگرچہ ایران کا سیاسی نظام جمہوری اقدار کے حوالے سے تنقید کا سامنا کرتا ہے، تاہم جب کسی ریاست پر بیرونی طاقتیں حملہ آور ہوں تو اصولی طور پر اس ریاست اور اس کے عوام کی حمایت کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق یہی سبق برصغیر کے عظیم شاعر علامہ محمد اقبال کی فکر سے بھی ملتا ہے کہ کمزور قوموں پر طاقت کے ذریعے غلبہ حاصل کرنا دراصل عالمی ناانصافی کی علامت ہے۔
