ایران کو انا کے گھوڑے سے اتر کر مذاکرات کامیاب کیوں بنانے چاہییں؟

 

 

 

معروف صحافی اور تجزیہ کار جاوید چوہدری نے کہا ہے کہ ایران کو انا کے گھوڑے سے اتر کر پوری سنجیدگی کے ساتھ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو کامیاب بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں ایرانی قیادت کے پاس یہی واحد راستہ ہے کہ وہ جذبات سے ہٹ کر ٹھنڈے دماغ سے فیصلے کرے اور مذاکرات کے عمل کو کسی صورت ناکام نہ ہونے دے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر امریکہ کی شرائط سخت یا یکطرفہ بھی ہوں تو ایران کو انہیں وقتی طور پر قبول کرلینا چاہیے، جیسے تاریخ میں صلح حدیبیہ کو قبول کیا گیا تھا، انکا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ حالات بدل جاتے ہیں اور معاہدوں کی نوعیت بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔

 

جاوید چوہدری نے اپنے تجزیے میں کہا کہ ایران نے اب تک جنگی صورتحال میں غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسرائیل کو توقع تھی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ممکنہ شہادت کے بعد ایرانی نظام بکھر جائے گا، مگر اس کے برعکس ایرانی قوم مزید متحد ہو گئی۔ ان کے مطابق مسلسل امریکی اور اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کی مزاحمت میں اضافہ ہوا، یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو وقتی جنگ بندی پر مجبور ہونا پڑا، جسے ایران اپنی کامیابی قرار دے رہا ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران کا ایک ماہ تک امریکہ اور اسرائیل جیسے طاقتور فریقوں کے سامنے ڈٹے رہنا بڑی کامیابی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہوگا۔ ان کے مطابق امریکہ اپنی شکست تسلیم نہیں کرے گا کیونکہ وہ دنیا کی واحد سپر پاور ہے، اور اگر وہ ایران جنگ میں ناکام ہو جائے تو اس کی عالمی حیثیت کو شدید نقصان پہنچے گا۔ خاص طور پر یورپ کی جانب سے حالیہ اختلافات کے بعد امریکہ کے لیے یہ جنگ مزید اہم ہو گئی ہے۔ ایسے میں امریکہ آخری حد تک جائے گا اور ایران کو زیر کیے بغیر پیچھے نہیں ہٹے گا۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق امریکہ کو اس جنگ میں کسی اتحادی کی ضرورت نہیں، حالانکہ ٹرمپ کو اندرون ملک ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے پر شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے ٹیرف بارے فیصلوں کو مسترد کرنے اور مہنگائی، بے روزگاری اور اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت نے ان کی پوزیشن کمزور کر دی ہے۔ اگر وہ ایران جنگ میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ان کے خلاف سخت ردعمل آ سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عرب ممالک بھی امریکہ سے ناراض ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی اڈوں کے اخراجات برسوں سے عرب ممالک اٹھا رہے ہیں، مگر اس جنگ کے دوران ان ممالک کو محسوس ہوا کہ امریکہ نے مشکل وقت میں انہیں تنہا چھوڑ دیا اور اس کے فوجی اڈے ان کے کسی کام نہیں آئے۔ انکا کہنا تھا کہ اگر امریکہ یہ جنگ ہار گیا تو عرب ممالک اس سے دور ہو سکتے ہیں، جس کا مطلب ہوگا کہ امریکہ اپنی علاقائی گرفت کھو دے گا۔

 

جاوید چوہدری کے مطابق اسرائیل میں بھی سیاسی صورتحال غیر یقینی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر میں ہونے والے انتخابات میں بنیامین نیتن یاہو کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ ان پر کرپشن کے مقدمات ہیں اور حالیہ جنگوں نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ اگر وہ یہ جنگ ہار گئے تو ان کا سیاسی مستقبل ختم ہو سکتا ہے اور گرفتاری بھی ہو سکتی ہے، اس لیے یہ جنگ ان کے لیے بقا کی جنگ بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ میں نومبر 2026 کے مڈٹرم انتخابات بھی اہم ہیں۔ اگر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ میں ناکام ہوتے ہیں تو ان کی جماعت کو شکست ہو سکتی ہے، جس سے ان کی سیاسی طاقت محدود ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ چین بھی اس صورتحال میں ایک اہم فریق ہے۔ امریکہ عالمی تیل کے ذخائر پر کنٹرول حاصل کر کے شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات میں برتری حاصل کرنا چاہتا ہے، جبکہ چین ایران کو ایک بفر کے طور پر دیکھ رہا ہے اور مبینہ طور پر خفیہ حمایت فراہم کر رہا ہے۔

 

جاوید چوہدری نے ایران سے جنگ کے ممکنہ نتائج پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تنازع کے تین بڑے اثرات ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک اس وقت پاکستان کے مشورے پر ایران کے خلاف براہ راست کارروائی سے گریز کر رہے ہیں، مگر پاکستان کی پوزیشن نہایت نازک ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلقات، لاکھوں پاکستانیوں کی خلیجی ممالک میں ملازمتیں اور اربوں ڈالر کی ترسیلات زر اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ پاکستان عرب ممالک کا ساتھ دے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر پاکستان نے عرب ممالک کا ساتھ نہ دیا تو اس کے سفارتی اور معاشی نتائج سنگین ہو سکتے ہیں، جبکہ ساتھ دینے کی صورت میں اندرونی طور پر فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھ سکتی ہے، خاص طور پر شیعہ برادری کے ردعمل کی صورت میں۔

امریکہ اور ایران کی ثالثی بارے پاکستان خاموش کیوں ہے ؟

جاوید چوہدری کے مطابق اگر جنگ شدت اختیار کرتی ہے تو ایران کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے، جہاں اس کی فوجی تنصیبات، بنیادی ڈھانچہ اور قیادت نشانہ بن سکتی ہے۔ دوسری جانب ایران کے جوابی حملے خلیجی ممالک کو بھی تباہی سے دوچار کر سکتے ہیں، جس سے پورا خطہ ایک بڑے بحران میں داخل ہو جائے گا۔

جاوید چوہدری کہتے ہیں کہ سب سے خطرناک صورتحال وہ ہو گی جب اس جنگ میں کوئی تیسرا بڑا فریق جیسے روس، چین یا نیٹو شامل ہو جائے۔ ایسی صورت میں عالمی جنگ کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے جو پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔ انکا کہنا تھا کہ ان حالات میں واحد حل مذاکرات ہیں۔ ان کے مطابق یہ مذاکرات ماضی سے مختلف ہیں کیونکہ ان میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر جیسے ممالک شامل ہیں اور انہیں عالمی حمایت بھی حاصل ہے۔ لہذا اگر ایران نے مذاکرات کا موقع ضائع کیا تو اس کے نتائج پوری دنیا کے لیے انتہائی خطرناک ہو سکتے ہیں۔

Back to top button