ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے بے نتیجہ کیوں رہیں گے؟

معروف تجزیہ کار زاہد حسین نے کہا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر جو جنگ تھوپی ہے وہ بے نتیجہ ثابت ہوگی کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کا ایران میں رجیم چینج کرنے کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔
زاہد حسین نے معروف انگریزی روزنامہ ڈان میں اپنے سیاسی تجزیے میں کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی غیر قانونی جنگ یقیناً ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو بدل دے گی، مگر شاید اس انداز میں نہیں جسکی خواہش واشنگٹن کو ہے۔ ان کے مطابق اس جنگ سے مشرق وسطی مزید انتشار، عدم استحکام اور جغرافیائی کشیدگی کا شکار ہوگا، جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔
سینیئر صحافی نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ جنگ نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور عالمی سیاست کو بھی ایک گہرے بحران میں دھکیل سکتی ہے۔ زاہد حسین کہتے ہیں کہ خود کو امن کا سفیر قرار دینے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایسے ملک کے خلاف کھلی فوجی جارحیت کا آغاز کیا جو براہِ راست امریکہ کے لیے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔ چھ ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ ان کی دوسری بڑی فوجی مہم جوئی ہے، جس نے انہیں امریکہ کے ان صدور کی صف میں لا کھڑا کیا ہے جو جنگیں کرنے اور تباہی مچانے کے لیے جانے جاتے ہیں۔
ان کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف مشترکہ کارروائی غیر متوقع نہیں تھی، کیونکہ کئی ہفتوں سے واشنگٹن خطے میں بڑے بحری بیڑے تعینات کر رہا تھا، حالانکہ بظاہر تہران کے ساتھ جوہری مذاکرات جاری تھے۔ یہ 2003 میں عراق پر حملے کے بعد یہ مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ کی سب سے بڑی فوجی تعیناتی تھی۔ زاہد حسین کے مطابق یہ بات واضح ہوتی جا رہی تھی کہ مذاکرات دراصل فوجی تیاریوں کے لیے پردے کا کام کر رہے تھے۔ اطلاعات تھیں کہ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے، اس کے باوجود حملے کا آغاز کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس فیصلے کے پیچھے نیتن یاہو کا مسلسل دباؤ اور وینزویلا میں امریکی حکمتِ عملی کو کامیاب سمجھنے کا تاثر بھی کارفرما تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل گزشتہ برس دسمبر میں ہی ایک جنگی منصوبے پر متفق ہو چکے تھے، جس کے تحت ایرانی عسکری تنصیبات کے ساتھ ساتھ اعلیٰ قیادت کو بھی نشانہ بنایا جانا تھا۔
یاد رہے ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کے خاندان کے افراد اور درجنوں اعلیٰ حکام کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی دعوؤں کے مطابق ان حملوں میں 40 سے زائد سینئر ایرانی عہدیدار مارے گئے، جن میں پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر، وزیر دفاع اور مسلح افواج کے سربراہ بھی شامل تھے۔ اسکے علاوہ ایک پرائمری سکول پر حملے میں 165 طالبات اور ٹیچنگ عملہ جاں بحق ہوا، جسے زاہد حسین نے بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی اور جنگی جرم قرار دیا ہے۔
سینئیر تجزیہ کار کے مطابق ٹرمپ اپنی فوجی مہم کے اہداف میں مسلسل تبدیلی کرتے رہے ہیں۔ ابتدا میں انہوں نے مختصر اور فیصلہ کن جنگ کی بات کی، مگر اب تسلیم کیا جا رہا ہے کہ تنازع طویل ہو سکتا ہے۔ شدید فضائی حملوں کے باوجود ایران کی میزائل صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی اور ایرانی میزائل اسرائیل کے اندرونی علاقوں اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ حیران کن طور پر بعض ایرانی میزائل اسرائیل کے دفاعی نظام کو عبور کرنے میں کامیاب رہے، جبکہ ایک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا گیا جس میں امریکی فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے۔
زاہد حسین کا کہنا ہے کہ ایران نے قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور سعودی عرب میں امریکی فوجی تنصیبات پر بھی میزائل اور ڈرون حملے کیے، حتیٰ کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ تہران نے ان اہداف کو امریکی جارحیت کے جواب میں جائز قرار دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل نے لڑائی کا دائرہ لبنان تک پھیلا دیا اور ایران نواز حزب اللہ کو نشانہ بنایا، جس سے جنگ کے مزید پھیلنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
زاہد حسین خبردار کرتے ہیں کہ اگر امریکہ زمینی افواج بھی تعینات کرتا ہے تو یہ اقدام خطے کو مکمل تباہ کن جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایران پر حملے اور آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد کئی ممالک میں شدید امریکہ مخالف مظاہرے دیکھنے میں آئے، خصوصاً پاکستان، عراق اور بحرین میں جہاں شیعہ آبادی نمایاں ہے۔ ان احتجاجوں میں فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر ہو کر مختلف طبقات نے شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنی عسکری برتری کے باوجود ایران کے خلاف اپنی فتح کو یقینی نہیں سمجھ سکتا۔ افغانستان میں دو دہائیوں پر مشتمل جنگ اور 2003 کے عراق حملے کے نتائج اس کے سامنے ہیں۔ اس نئی جنگ نے عالمی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور گیس گزرتی ہے، ایران کی جانب سے راستہ بند کرنے کی دھمکی کے بعد تقریباً مفلوج ہو چکی ہے۔ عالمی شپنگ کمپنیوں نے اپنی سروس معطل کر دی ہے، جس سے توانائی کی سپلائی چین متاثر اور تیل و گیس کی قیمتوں میں تیزی آ گئی ہے۔ فضائی حدود کی بندش نے عالمی سفر اور معیشت دونوں کو نقصان پہنچایا ہے، اور عالمی کساد بازاری کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔
امریکہ اور اسرائیل کا ایران میں رجیم تبدیلی کا خواب کیسے ٹوٹا؟
زاہد حسین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر بھی اس جنگ پر تقسیم واضح ہے۔ چین اور روس نے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائی کی مذمت کی ہے، جبکہ مغربی ممالک نے براہِ راست مذمت سے گریز کیا، جسے مبصرین دوہرے معیار سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ایسے میں ایران کے ساتھ طویل سرحد رکھنے والا پاکستان اس صورتحال سے براہِ راست متاثر ہو سکتا ہے۔ زاہد حسین کے مطابق یہ جنگ کسی واضح اور پائیدار کامیابی پر منتج ہونے کی بجائے مشرقِ وسطیٰ کو مزید عدم استحکام اور سیاسی افراتفری کی طرف لے جائے گی، جس کے اثرات عالمی نظام پر بھی دیرپا اور گہرے ہوں گے۔
