اسلام آباد میں ایران۔امریکا مذاکرات کی 2 کوششیں ناکام

ایران اور امریکا کے درمیان جاری جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی سفارتی کوششیں دو مرتبہ بریک تھرو کے قریب پہنچ کر اس لیے ناکام ہو گئیں کہ ایران نے آخری لمحات میں سیکیورٹی خدشات کے باعث اسلام آباد آنے سے انکار کر دیا۔
باخبر حکومتی ذرائع کے مطابق اسلام آباد کو دونوں ممالک کے درمیان براہ راست مذاکرات کے لیے میزبان بنانے کی کوششیں عین آخری لمحات میں ناکام ہوئیں، جب تہران نے اچانک مذاکرات کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ حکومتی سفارت کاری سے واقف ایک سرکاری عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطحی وفد دو مختلف مواقع پر ایرانی حکام سے براہ راست مذاکرات کے لیے اسلام آباد آنے کو تیار تھا۔ تاہم دونوں مواقع پر ایران نے آخری وقت میں اپنا فیصلہ بدل دیا، جس کے باعث یہ اہم پیش رفت ممکن نہ ہو سکی۔ بتایا جاتا ہے کہ ایرانی حکام کو یہ یقین دہانی چاہیے تھی کہ وہ کسی ایرانی یا امریکی حملے کا شکار ہوئے بغیر بحفاظت اسلام آباد پہنچ جائیں گے۔
ذرائع کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دو مرتبہ پاکستان ایک انتہائی اہم سفارتی اجلاس کی میزبانی کے قریب پہنچ چکا تھا، امریکی وفد پاکستان آنے کو تیار تھا، مگر بدقسمتی سے ایران نے آخری لمحے اپنی مذاکراتی ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ امریکا مذاکرات کے لیے آمادہ تھا، تاہم ایران موجودہ حالات میں اس عمل کے ممکنہ خطرات کا زیادہ محتاط انداز میں جائزہ لے رہا تھا۔
پاکستان نے ثالثی کے عمل میں خود کو ایک غیر جانب دار فریق کے طور پر پیش کرتے ہوئے تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سرگرم کردار ادا کیا۔ اسلام آباد کی جانب سے نہ صرف مذاکرات کے لیے اپنی سرزمین پیش کی گئی بلکہ پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے دونوں ممالک کو قریب لانے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حالیہ حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی اپنی انتہا کو چھو رہی ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق موجودہ صورتحال میں سفارت کاری کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے، تاہم ایرانی قیادت کی جانب سے مزاکراتی ٹیم کو درپیش سیکیورٹی خدشات کے باعث کوئی بڑی پیش رفت سست روی کا شکار ہے۔ اسلام اباد میں سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا کہ موجودہ کشیدگی سے قبل پاکستان نے ایران کے ساتھ اعلیٰ سطحی رابطوں کی بھی کوشش کی تھی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی اعلیٰ عسکری قیادت کے ہمراہ تہران کا دورہ کر کے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے ملاقات کی تیاری کر لی تھی، تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث یہ دورہ مؤخر کر دیا گیا۔
یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ خطے میں پس پردہ کوششیں کس قدر فعال ہیں، اگرچہ یہ عوامی سطح پر کم نظر آتی ہیں مگر ان کے اثرات نہایت گہرے ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کا کردار محض ثالثی تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے علاقائی فورمز پر بھی متوازن مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کی ہے۔ 19 مارچ کو ریاض میں ہونے والے 12 مسلم ممالک کے اجلاس میں پاکستان نے مشترکہ اعلامیے کے مسودے پر سخت اعتراضات اٹھائے۔ حکام کے مطابق اس مسودے میں ایران کو یک طرفہ طور پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا جبکہ اسرائیلی حملوں کا ذکر شامل نہیں تھا۔ اجلاس کے موقع پر پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور ترکیے کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کے درمیان رابطہ ہوا، جس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کو بھی شامل کیا گیا۔ ایرانی حکام نے درخواست کی کہ اعلامیہ متوازن رکھا جائے اور ایران پر غیر متناسب تنقید سے گریز کیا جائے۔
پاکستان نے اس مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے اعلامیے میں ترامیم پر زور دیا اور کئی گھنٹوں کی مشاورت کے بعد متن میں تبدیلیاں کروانے میں کامیاب رہا۔ تاہم اس سخت مؤقف پر بعض خلیجی ممالک نے ناراضی کا اظہار بھی کیا اور اسے ایران کے ساتھ حد سے زیادہ ہمدردی قرار دیا۔حکومتی ذرائع کے مطابق پاکستان نے نہ صرف سفارتی سطح پر بلکہ عسکری نوعیت کے اقدامات میں بھی محتاط پالیسی اپنائی ہے۔ اسلام آباد نے آبنائے ہرمز میں ممکنہ کثیرالملکی ٹاسک فورس کی تشکیل کی تجویز کی مخالفت کی، جسے بعض حلقے اشتعال انگیز اقدام قرار دے رہے ہیں۔
کیا پاکستان کی قیادت میں جنگ بندی مذاکرات ناکام ہو گئے؟
اسی تناظر میں پاکستان نے برطانیہ کی میزبانی میں ہونے والے ایک اہم اجلاس میں شرکت سے بھی انکار کیا، جس میں آبنائے ہرمز میں بحری آمد و رفت کی بحالی پر غور ہونا تھا۔ پاکستانی حکام کے مطابق یہ فیصلہ ملک کی غیر جانب دار اور کشیدگی کم کرنے کی پالیسی کے عین مطابق تھا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اسلام آباد کی کوششیں فوری طور پر کسی بڑے بریک تھرو میں تبدیل نہیں ہو سکیں، تاہم یہ سفارتی سرگرمیاں مستقبل میں مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، بشرطیکہ فریقین کشیدگی کم کرنے کے لیے سنجیدہ رویہ اختیار کریں۔
