پاک ایران گیس پائپ لائن کی بحالی کا امکان کیوں پیدا ہو گیا؟

 

 

 

اگر ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو قوی امکان ہے کہ پاکستان برسوں سے ایران کے ساتھ تعطل کا شکار گیس پائپ لائن منصوبے کو مکمل کرنے کے لیے امریکہ سے عائد پابندیوں کے خاتمے کی راہ ہموار کروا لے۔ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ پیش رفت عملی شکل اختیار کر لیتی ہے تو پاکستان کو نہ صرف توانائی کے شدید بحران سے ریلیف مل سکتا ہے بلکہ اس منصوبے کو مکمل نہ کرنے پر پاکستان کو درپیش 18 ارب ڈالرز کے جرمانے کے خاتمے کا امکان بھی پیدا ہو سکتا ہے۔

 

تجزیہ کار یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ اگر ان مذاکرات کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی یا کسی جامع معاہدے کی طرف پیش رفت ہوتی ہے تو کیا پاکستان اپنی اس سفارتی کامیابی کو کسی واضح معاشی فائدے میں تبدیل کرنے میں بھی کامیاب ہو سکے گا۔ ان کے مطابق بین الاقوامی سیاست میں محض سفارتی کریڈٹ سے زیادہ اہمیت عملی معاشی نتائج یعنی “کیش ویلیو” کی ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں اگر ایران اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں بہتری آتی ہے تو پاکستان کے لیے یہ ایک نادر موقع ہو گا کہ وہ امریکہ کو قائل کرے کہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن پر عائد پابندیاں ختم کی جائیں تاکہ منصوبے کو مکمل کیا جا سکے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے کا بنیادی مقصد ایران کے جنوبی پارس گیس فیلڈ سے پاکستان کو قدرتی گیس کی فراہمی تھا۔ اس منصوبے پر 2011 میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری نے تہران جا کر دستخط کیے تھے، جس کے بعد دونوں ممالک نے اپنی اپنی حدود میں پائپ لائن کی تعمیر کا آغاز کیا۔ ایران اپنی سرحد تک اپنے حصے کی پائپ لائن مکمل کر چکا ہے، تاہم پاکستان اپنی جانب سے منصوبے پر عملی پیش رفت نہ کر سکا، جس کی وجہ سے یہ منصوبہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار ہے۔

 

اس تعطل کی سب سے بڑی وجہ بین الاقوامی سطح پر ایران پر عائد امریکی اور مغربی پابندیاں قرار دی جاتی ہیں، جن کے باعث پاکستان کو شدید سفارتی دباؤ کا سامنا رہا۔ پاکستان کی معیشت چونکہ عالمی مالیاتی اداروں اور مغربی مالیاتی نظام کے ساتھ گہرائی سے جڑی ہوئی ہے، اس لیے کسی ایسے بڑے توانائی منصوبے پر پیش رفت جس سے پابندیوں کے خطرات وابستہ ہوں، ایک پیچیدہ پالیسی فیصلہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں اس منصوبے کو یا تو مؤخر کیا جاتا رہا یا اس پر عملی پیش رفت روک دی گئی۔

مالیاتی مشکلات بھی اس منصوبے کی تکمیل میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آتی رہی ہیں۔ پاکستان کو اپنی سرحد کے اندر پائپ لائن بچھانے کے لیے اربوں ڈالرز کی سرمایہ کاری درکار تھی، جبکہ ملک پہلے ہی توانائی کے مہنگے درآمدی ذرائع خصوصاً ایل این جی پر انحصار بڑھا رہا تھا۔ اس صورتحال میں اضافی مالی گنجائش پیدا کرنا ایک بڑا چیلنج رہا۔

 

اسی طرح بلوچستان سے گزرنے والے مجوزہ گیا پائپ لائن روٹ پر موجود سیکیورٹی خدشات بھی ایک اہم رکاوٹ رہے ہیں۔ خطے میں امن و امان کی غیر یقینی صورتحال اور مسلح گروہوں کی دہشت گرد سرگرمیوں نے اس نوعیت کے بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں کے لیے خطرات میں اضافہ کیا، جس کے باعث گیس پائپ لائن منصوبے کی رفتار مزید سست پڑ گئی۔

 

دوسری جانب ایران نے اپنے حصے کی پائپ لائن نسبتاً جلد مکمل کر لی کیونکہ اس کے لیے یہ منصوبہ داخلی توانائی حکمت عملی اور گیس کی برآمد کے تناظر میں فوری اور عملی اہمیت رکھتا تھا۔ ادھر پاکستان کی جانب سے تاخیر کے باعث یہ منصوبہ مجموعی طور پر عملی شکل اختیار نہ کر سکا اور وقت کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے درمیان مختلف ادوار میں مذاکرات، ڈیڈ لائنز اور توسیعات کا سلسلہ جاری رہا۔ اب موجودہ سفارتی صورتحال کے تناظر میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں کمی یا مستقل معاہدہ ہو جاتا ہے تو اس کے اثرات صرف توانائی کے شعبے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی تیل منڈی پر بھی نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں پر کشیدگی کم ہونے سے عالمی سپلائی چین بہتر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں کمی کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق موجودہ حالات میں پاکستان کو تیل کی قلت سے زیادہ اس کی بلند قیمتوں کا مسئلہ درپیش ہےخام تیل مہنگا ہو جاتا ہے۔ اگر خطے میں کشیدگی کم ہوتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ براہ راست پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو پہنچ سکتا ہے، جس سے درآمدی بل میں کمی، مہنگائی میں کمی اور روپے پر دباؤ میں نرمی جیسے مثبت اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔

 

اسی طرح بیرونی مالیاتی دباؤ میں کمی کی صورت میں پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر، جو حالیہ بڑے ادائیگیوں کے بعد تقریباً 11 ارب ڈالرز کی سطح تک آ چکے ہیں، کو مستحکم کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے مقررہ اہداف کے مطابق انہیں 18 ارب ڈالرز تک لے جانے کی کوششوں میں بھی آسانی پیدا ہو سکتی ہے۔

سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امن کی صورتحال بہتر ہونے کی صورت میں پاکستان زیادہ سازگار شرائط پر قرضوں اور مالی معاونت حاصل کرنے کی پوزیشن میں آ سکتا ہے، جس سے معیشت پر دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملک میں براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے امکانات بھی بہتر ہو سکتے ہیں، کیونکہ خطے میں استحکام سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھاتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ بیرونی دنیا میں پاکستان کی جغرافیائی و سفارتی اہمیت میں اضافہ سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔

 

اسکے علاوہ ترسیلات زر میں بھی بہتری کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم لاکھوں پاکستانی کارکنان کی بھیجی جانے والی رقوم پاکستان کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں، اور خطے میں استحکام کی صورت میں ان معاشی سرگرمیوں میں اضافہ ممکن ہے۔ اسی طرح پاکستان اور ایران کے درمیان موجودہ تقریباً تین ارب ڈالر کی تجارت کو پہلے ہی 10 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا جا چکا ہے، جو مستقبل میں مزید وسعت اختیار کر سکتی ہے۔ توانائی کے شعبے میں یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اگر پابندیوں میں نرمی آتی ہے تو پاکستان ایران سے نسبتاً سستی گیس اور بجلی حاصل کر سکتا ہے، جس سے عام صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں میں کمی کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔ بلوچستان میں پہلے ہی بعض علاقوں میں ایرانی تیل اور توانائی کی ترسیل موجود ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان توانائی تعاون کی ایک عملی مثال سمجھی جاتی ہے۔

ایران امریکہ جنگ بندی کے بعد کوئٹہ کے بازاروں کی رونقیں بحال

تجزیہ کاروں کے مطابق ماضی کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ جب بھی پاکستان کی جغرافیائی اور سفارتی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے، عالمی مالیاتی اداروں اور بڑی طاقتوں کے رویے میں نسبتاً نرمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اسی تناظر میں بعض تجزیہ کار 2013 سے 2016 کے آئی ایم ایف پروگرام کا حوالہ دیتے ہیں، جب پاکستان نے مختلف اہداف کے باوجود متعدد مرتبہ رعایتیں حاصل کیں۔ اس وقت بھی عالمی حالات، خصوصاً افغانستان سے امریکی انخلا کی تیاری، نے پاکستان کی جیوپولیٹیکل اہمیت کو بڑھا دیا تھا، جس کے اثرات معاشی پالیسیوں پر بھی مرتب ہوئے تھے۔ اگر موجودہ حالات میں بھی پاکستان اس سفارتی موقع کو مؤثر معاشی حکمت عملی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں نمایاں تبدیلیاں ممکن ہیں۔ تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ یہ پیش رفت اگرچہ قلیل مدت میں فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے، لیکن طویل مدت میں پاکستان کو اپنی معاشی اصلاحات، برآمدی بنیاد اور تجارتی پالیسیوں کو بہتر بنانا ناگزیر ہو گا تاکہ وہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں مستقل بنیادوں پر مستحکم مقام حاصل کر سکے۔

Back to top button