ایس سی اواجلاس،اسحاق دارکی چینی صدرسےوزرائےخارجہ سےملاقاتیں

ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحق ڈار کی چینی صدر شی جن پنگ سمیت کئی ممالک سے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔

نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزارتی اجلاس میں ایران پر اسرائیل اور امریکا کے حالیہ حملوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔

ایس سی او ایک 10 رکنی یوریشیائی سیکیورٹی و سیاسی تنظیم ہے، جس میں پاکستان، چین، روس، ایران اور بھارت سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔ وزرائے خارجہ کا یہ سالانہ اجلاس، اس سال خزاں میں چین کے شہر تیانجن میں ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل منعقد ہوا۔

اس اجلاس سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ "ہم نے ایران پر اسرائیلی جارحیت اور امریکی حملوں کی شدید مذمت کی ہے، یہ غیر منصفانہ اور غیر قانونی اقدامات ہیں اور ایس سی او کے رکن ممالک کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں ناقابل قبول ہیں۔”

انہوں نے کہا کہ پاکستان پالیسی کے طور پر جارحیت کے بڑھتے ہوئے رجحان پر گہری تشویش رکھتا ہے اور دیرینہ تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات، سفارتکاری اور بین الاقوامی قانون پر مبنی اصولوں کی حمایت کرتا ہے۔

بعد ازاں ایکس (سابق ٹوئٹر) پر بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ "ہم نے کثیرالجہتی، باہمی احترام اور علاقائی استحکام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ شنگھائی اسپرٹ ہمیں مکالمے، اعتماد اور ایک زیادہ منصفانہ عالمی نظام کی جانب رہنمائی کرتی ہے۔”

اس اجلاس سے قبل اسحاق ڈار نے بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ اس موقع پر انہوں نے پاکستان کی حکومت، قیادت اور عوام کی جانب سے نیک تمنائیں پہنچائیں۔

ایکس پر اپنے پیغام میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ چینی صدر سے ملاقات پر خوش ہیں، اور پاکستان-چین "آہنی دوستی” کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہیں تاکہ دونوں ممالک مشترکہ علاقائی اہداف حاصل کر سکیں۔

وزارت خارجہ کے مطابق صدر شی جن پنگ نے اجلاس میں شریک تمام وفود کا خیرمقدم کیا اور ایس سی او کے فریم ورک میں علاقائی تعاون کی اہمیت پر زور دیا۔

Back to top button