ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک پاکستان کو25کروڑڈالردے گا

ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کو کورونا وائرس کی وبا کے اثرات سے نمٹنے کے لیے 25 کروڑ ڈالر کا قرض دے گا۔
بینک پاکستان کو یہ رقم ورلڈ بینک کے اشتراک سے فراہم کرے گا بینک نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس سے پاکستانی حکومت کو اپنا طبی انفراسٹرکچر بہتر بنانے، سماجی تحفظ کا دائرہ وسیع کرنے، افرادی تربیت میں اضافہ کرنے اور اقتصادی ترقی کے حصول میں مدد ملے گی‘اس سے قبل اے آئی آئی بی پاکستان کو کورونا سے نمٹنے کے لیے 50 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دے چکا ہے‘دونوں قرض اس بینک کی جانب سے سرکاری و نجی شعبے کو اس وبا کے خلاف لڑنے کے لیے 10 ارب ڈالر کی فنڈنگ کا حصہ ہیں۔ ادھر کورونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثرہ افراد کی تعداد ایک کروڑ 49 لاکھ کے قریب پہنچ گئی ہے جبکہ اب تک اس مرض کے باعث چھ لاکھ 15 ہزار سے زیادہ افراد مر چکے ہیں‘پاکستان میں متاثرین کی تعداد دو لاکھ 66 ہزار جب کہ ساڑھے پانچ ہزار سے زیادہ اموات ہو چکی ہیں ایک لاکھ 14 ہزار متاثرین کے ساتھ سندھ سب سے متاثرہ صوبہ ہے جبکہ سب سے زیادہ اموات پنجاب میں ہوئی ہیں۔
دنیا میں کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکہ ہے جہاں تقریباً 39 لاکھ افراد اس مرض سے متاثر ہیں جب کہ وہاں اب تک ایک لاکھ 41 ہزار سے زیادہ افراد فوت ہو چکے ہیں آکسفورڈ یونیورسٹی کی طرف سے بنائی گئی کورونا وائرس کی ویکسین کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ بظاہر مدافعتی نظام کو بیماری کا مقابلہ کرنے کے قابل بنا رہی ہے لیکن ابھی اس پر مزید تجربات کی ضرورت ہے۔
کورونا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں سے ایک اسپین میں کئی ہفتوں تک وائرس کے پھیلاﺅ میں کمی کے بعد گزشتہ دو ہفتوں میں نئے متاثرین کی تعداد میں 160 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہےلاطینی امریکہ کورونا وائرس کی اموات کے حوالے سے دنیا میں سب سے متاثرہ علاقوں میں دوسرے نمبر پر آ گیا ہے جب کہ یورپ کا خطہ اب بھی اموات کے حساب سے دنیا میں پہلے نمبر پر ہے۔
کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے خدشات کی بدولت نوبیل انعام کی تقریب 60 سال سے زیادہ عرصے کے بعد پہلی مرتبہ منسوخ کر دی گئی ہے دوسری جانب آسٹریلیا میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے 501 نئے متاثرین سامنے آئے ہیں جو کہ مارچ میں یہاں وبا کے آنے کے بعد سے لے کر اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ آسٹریلوی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہاں دو مزید افراد ہلاک بھی ہوئے جس کے بعد ہلاک شدگان کی کل تعداد 128 ہوگئی ہے ریاست وکٹوریا میں سب سے زیادہ یعنی 484 نئے متاثرین سامنے آئے۔
ریاست کے وزیر اعظم ڈینیئل اینڈریوز نے کہا کہ پریشان کن بات یہ ہے کہ 2000 سے زیادہ لوگ جو وکٹوریا میں سات سے 21 جولائی کے درمیان متاثر ہوئے، انہوں نے خود ساختہ تنہائی اختیار نہیں کی تھی‘انہوں نے کہا کہ اگر لوگ متاثر ہونے کے بعد خود کو تنہا نہیں کریں گے تو متاثرین کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہی رہے گا اب ریاست کے دارالحکومت میلبرن میں گھر سے باہر نکلنے والے لوگوں پر ماسک پہننے کی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
میلبرن میں حالیہ سالوں میں کورونا وائرس متاثرین میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے مجموعی طور پر ریاست وکٹوریا میں کورونا کے 6700 سے زائد متاثرین سامنے آ چکے ہیں جو کہ پورے آسٹریلیا کا نصف ہے اسی باعث ریاست نیو ساﺅتھ ویلز اور وکٹوریا کے درمیان سرحد کو 100 سال میں پہلی مرتبہ بند کر دیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button