ایف آئی اے جج ارشد ملک کیخلاف کارروائی سے گریزاں

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے سابق جج اور ایک نازیبا ویڈیو سکینڈل کے مرکزی کردار ارشد ملک کیخلاف کوئی تادیبی کارروائی نہ کرنے پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے ایف آئی اے سے وضاحت طلب کی ہے کہ آن کیمرہ غیر اخلاقی حالت میں پائے گئے سابق جج کے خلاف ابھی تک کوئی کارروائی کیوں نہیں کی گئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے ویڈیو تنازع کے مرکزی کردار میاں طارق محمود کی بعد از گرفتاری ضمانت کی درخواست پر سماعت کی جس کے دوران جسٹس اطہرمن اللہ نے حیرت کا اظہار کیا کہ 18 سال بعد سابق جج کو یاد آیا کہ انہیں نشہ آور ادویات دے کرغیر اخلاقی حالت میں ان کی ویڈیو بنائی گئی۔ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کہا کہ ارشد ملک نے مذکورہ ویڈیو کو نہ تو ترمیم شدہ کہا اور نہ ہی جعلی قرار دیا۔ اس کے بجائے انہوں نے ویڈیو کےاصلی ہونے کی تصدیق کی جسکے بعد ان کے خلاف ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی کارروائی ہونی چاہیئے تھی جوکہ ابھی تک نہیں ہوئی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کا اعتراف بذات خود ماتحت اور اعلیٰ عدالتوں کے ججز کے لئے باعث شرمندگی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے تفتیشی افسر سے ملزم کے جرم کی وضاحت کرنے کی ہدایت کی۔ تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم پر سال 2001 سے 2003 کے درمیان جج کو بلیک میل کرنے کے لیے ان کی نازیبا ویڈیو بنانے کا الزام ہے۔ جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ کیا آپ نے جج ارشد ملک کا بیان ریکارڈ کیا کیا؟ ان سے پوچھا کہ جس گھر میں ان کی ویڈیو بنائی گئی تھی وہ وہاں کیوں گئے تھے؟۔عدالت نے ایف آئی اے کی تفتیش پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 21 مئی تک مکمل تفتیشی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کردی۔
واضح رہے کہ جج ارشد ملک کی مبینہ غیر اخلاقی ویڈیو اس وقت بنائی گئی تھی جب وہ ملتان میں بطور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔ ارشد ملک کی غیر اخلاقی ویڈیو کا تنازع اس وقت سامنے آیا جب مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک پریس کانفرنس میں ارشد ملک کی ایک خفیہ ویڈیو جاری کی تھی جس میں انہوں نے ’اعتراف‘ کیا تھا کہ العزیزیہ ریفرنس کیس میں نواز شریف کو سزا اپنی ایک نازیبا ویڈیو کے ذریعے بلیک میل کیے جانے پر سنائی۔ ارشد ملک نے اعتراف کیا تھا کہ وہ ویڈیو میں غیر اخلاقی حالت میں تھے تاہم ان کا دعویٰ تھا کہ انہیں نشہ آور ادویات دے کر ٹریپ کیا گیا۔
بعدازاں ہائیکورٹ میں جمع کرائے گئے بیان حلفی میں جج ارشد ملک نے کہا تھا کہ ایک تقریب میں ناصرجنجوعہ اور مہر غلام جیلانی نے انہیں ایک کونے میں لے جا کر نواز شریف کی دونوں ریفرنسز سے بریت کے لیے منت سماجت کی تھی۔ بعد ازاں ناصر جنجوعہ اور مہر جیلانی نے انہیں نواز شریف کے حق میں فیصلہ دینے کیلئے 10 کروڑ روپوں کی پیشکش کی تھی۔ بیان حلفی میں الزام لگایا گیا تھا کہ ملزم ناصر بٹ نے ان سے ملاقات کی اور ناصر جنجوعہ کی بنائی گئی انکی نازیبا ویڈیو مارکیٹ کرنے کی دھمکی دی لیکن جب جج ارشد ملک نے ایسی کسی ویڈیو کے حوالے سے لاعلمی کا مظاہرہ کیا تو ناصر بٹ نے انہیں کہا کہ وہ جلد انہیں یہ ویڈیو دکھائیں گے۔ چنانچہ چند روز بعد میاں طارق محمود سابق جج کی رہائش گاہ پر گئے اور انہیں وہ ویڈیو دکھائی اور ان سے اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کے لئے دباؤ ڈالا۔
واضح رہے کہ 6 جولائی کو سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ایک پریس کانفرنس کے دوران العزیزیہ اسٹیل ملز کیس کا فیصلہ سنانے والے جج ارشد ملک کی مبینہ خفیہ ویڈیو سامنے لائی تھیں جس میں مبینہ طور پر جج ارشد ملک، مسلم لیگ (ن) کے کارکن ناصر بٹ سے ملاقات کے دوران نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس سے متعلق گفتگو کر رہے تھے۔ ویڈیو میں نظر آنے والے جج نے فیصلے سے متعلق ناصر بٹ کو بتایا کہ ‘نواز شریف کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، فیصلے کے بعد سے میرا ضمیر ملامت کرتا رہا اور رات کو ڈراؤنے خواب آتے ہیں، لہٰذا نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہوا ہے‘۔ انہوں نے ویڈیو میں جج ارشد ملک ناصر بٹ کے سامنے اعتراف کر رہے ہیں کہ نواز شریف کے خلاف کوئی ثبوت نہیں تھا، اور ان کے خلاف ایک دھیلے کی منی لانڈرنگ کا بھی ثبوت نہیں۔
یاد رہے کہ ارشد ملک وہی جج ہیں جنہوں نے نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں 7 سال قید بامشقت اور بھاری جرمانے کی سزا سنائی تھی جبکہ فلیگ شپ ریفرنس میں انہیں بری کردیا تھا۔احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر ریفرنسز پر 19 دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ 24 دسمبر 2018 کو سنایا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button