ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور شہباز شریف کے خلاف مقدمات درج کرلیے

ایف آئی اے نے شوگر ملز مافیا کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے جہانگیر ترین، علی ترین، شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔ ایف آئی اے نے مقدمات اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت درج کیے ہیں۔ جہانگیر ترین اور علی ترین پر 4 ارب 35 لاکھ روپے کی منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہوا ہے۔
جب کہ رمضان شوگر ملز کے شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز پر 25 ارب روپے کی خورد برد پر مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کچھ عرصہ قبل وزیراعظم عمران خان نے چینی اچانک مہنگی ہونے کی وجوہات کی تحقیقات کےلیے ایک تین رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن بنایا تھا ، چینی بحران پر وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ملک میں چینی بحران کا سب سے زیادہ فائدہ جہانگیر ترین، وفاقی وزیر خسرو بختیار کے بھائی اور مونس الہٰی کی کمپنیوں کو ہوا ہے، جس کے بعد اس انکوائری کمیٹی کی تفصیلات لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔ شوگر انکوائری کمیشن کی رپورٹ لیک کرنے کے جرم میں ایف آئی اے کے افسر کو برطرف کردیا گیا، ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے سجاد باجوہ پر شوگر کمیشن کی رپورٹ لیک کرنے کا الزام تھا، سجاد باجوہ چینی بحران اسکینڈل کا فرانزک آڈٹ کرنے والی ٹیم میں شامل تھے، ان پر شوگر مل مالکان کو رپورٹ لیک کر کے انہیں فائدہ دینے کا الزام تھا جس پر انہیں معطل کیا گیا تھا، ان پر محکمانہ انکوائری بٹھائی گئی تھی جس کی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ سجاد باجوہ نے شوگر مل مالکان سے بھاری رقم لے کر انہیں شوگر انکوائری کی تفصیلات فراہم کیں۔ علاوہ ازیں صوبہ پنجاب میں شوگر ملوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر چوری چھپے چینی کی فروخت کا بھی انکشاف ہوگیا، اس ضمن میں کین کمشنر پنجاب کی جانب سے پنجاب حکومت کو خط لکھ دیا گیا ہے، کین کمشنر پنجاب کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ گنا بھی چوری چھپے خریدا جا رہا ہے۔
