ایف آئی اے کو چیئرمین پیمرا کے فون کا فرانزک کرانے کا حکم

پیمرا کی جانب سے حکومتی اور ریاستی دباو کے تحت میڈیا پر سنسرشپ عائد کرنے کے الزامات کی تردید کیے جانے پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے پیمرا کے چیئرمین محمد سلیم اور دیگر افسران کے فونز کے فرانزک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور وفاقی تحقیقاتی ایجنسی سے مدد طلب کرلی ہے۔ ساتھ ہی میڈیا سنسرشپ کے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی قائم کردی جو ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرے گی کہ چیئرمین پیمرا کو کس نے میڈیا پر سنسرشپ عید کرنے کے لئے پیغامات دیے یا اگر انہوں نے کسی کے کہنے پر میڈیا کوریج رکوانے کے لیے میسجز کیے تو وہ کون تھا۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سربراہ مصطفی نواز کھوکھر نے یہ احکامات تب جاری کیے جب پیمرا کے ایک سینئر عہدے دار فخر مغل نے چیئرمین پیمرا کی نمائندگی کرتے ہوئے ہر سوال کے جواب میں جھوٹ بولا ۔
کوا کالے نہیں بلکہ سفید رنگ کا ہوتا ہے. یہ کہنا تھا پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یا پیمرا کے نمائندے کا۔
پیمرا حکام نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے کوا سفید تب قرار دیا جب انہوں نے یہ دعوی کیا کہ انہیں میڈیا کو کسی سیاستدان کی کوریج روکنے سے متعلق انٹرسروسز پبلک ریلیشن (آئی ایس پی آر) یا کسی اور کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں ملی اور نہ ہی پیمرا پر ایسا کوئی دباؤ ہے۔ تاہم سینیٹ کمیٹی نے میڈیا سنسر شپ کے معاملے پر
پیمرا حکام کا جھوٹا موقف سختی سے رد کرتے ہوئے ایک ذیلی کمیٹی بھی قائم کردی جو ایک ماہ میں اپنی رپورٹ دے گی۔ 18 اکتوبر کے روز وفاقی دارالحکومت میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اہم اجلاس سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر کی صدارت میں ہوا، جس میں میڈیا سینسرشپ کا معاملہ ایجنڈے میں شامل کیا گیا۔ اس دوران وزارت انسانی حقوق اور ڈی جی پیمرا، پیمرا کے سیکریٹری ٹو اتھارٹی، جی ایم ایچ آر سمیت اجلاس میں شریک دیگر عہدیداروں نے ‘اپوزیشن’ کی میڈیا کوریج پر پابندی سے متعلق بریفنگ دی دوران اجلاس پیمرا عہدیدار فخر مغل نے حسب روایت سفید جھوٹوں پر مبنی ایک بریفنگ دی اور ثابت کیا کہ کوا کالا نہیں بلکہ سفید ہوتا ہے۔
اس دوران چیئرمین کمیٹی نے چیئرمین پیمرا محمد سلیم مغل کی عدم حاضری پر ناراضی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ چیئرمین پیمرا کہاں ہیں؟ جس پر وہاں موجود پیمرا عہدیدار نے بتایا کہ وہ ایک اجلاس میں ہیں، اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ پارلیمںٹ سے زیادہ کوئی اہم اجلاس ہوتا ہے؟ چیئرمین پیمرا سے متعلق ہمارے تحفظات ہیں۔
انہیں بتائیں کہ اپنے معاملات ٹھیک کریں۔ مصطفیٰ کھوکھر نے کہا کہ ڈیڑھ سال سے ملک میں میڈیا کی آزادی سے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں،لاہور ایئرپورٹ پر صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کی تنظیم کے ڈائریکٹر اسٹیون بٹلر کو پاکستان آنے سے روک دیا گیا، ان کے پاس ویزا ہونے کے باوجود انہیں واپس بھیج دیا گیا، اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے بتایا کہ پیمرا براہ راست میڈیا سینسرشپ میں شامل ہے، ریگولیٹری باڈی سے متعلق سامنے آنے والی چیزوں کو سامنے رکھیں گے۔
انہوں نے کہا کہ میڈیا پر پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین آصف زرداری اور مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے انٹرویوز روکے گئے، کیا پیمرا کی جانب سے اس حوالے سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، اس پر پیمرا عہدیدار نے موقف اپنایا کہ سینسرشپ ہوتی تو سب سے پہلے پیمرا کے خلاف ہونے والے پروگرام سینسر ہوتے۔ اپنے جھوٹ کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیمرا نے سینسرشپ سے متعلق کوئی ہدایات جاری نہیں کیں، پاکستان براڈکاسٹنگ ایسوسی ایشن (پی بی اے) اور پیمرا حکام کا ایک اہم اجلاس ہوا تھا،جس میں پی بی اے سے ضابطہ اخلاق اور اس پر عمل کرنے کی بات کی۔ پیمرا عہدیدار نے اپنی جھوٹ کی دکان مزید چمکاتے ہوئے بتایا کہ پیمرا نے کسی پارٹی کو کوریج دینے یا نہ دینے سے متعلق کوئی ہدایت جاری نہیں کی،
پھر فخر مغل نے یہ انکشاف بھی کر دیا کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) جے یو آئی ایف کو کوریج دی جا رہی ہے۔ تاہم وہ یہ بتانے سے قاصر رہے کہ مولانا کو یہ خفیہ کوریج کہاں پر دی جا رہی ہے۔ دوران اجلاس چیئرمین کمیٹی نے پوچھا کہ کیا پیمرا کی جانب سے کوئی میسج جاری کیا گیا؟ جس پر پیمرا عہدیدار نے بتایا کہ اس بارے میں مجھے علم نہیں، اس پر چیئرمین کمیٹی نے پوچھا کہ کیا پیمرا پیغامات بھیجتا ہے، جس پر جواب دیا گیا کہ ویسے کوئی معاملہ ہو تو پیغام بھیج دیتے ہیں۔ پیمرا عہدیدار نے بتایا کہ اشتہار سے متعلق بھی پیغام بھیجا جاتا ہے، اس پر سینیٹ کمیٹی کے چیئرمین نے پوچھا کہ کیا آصف زرداری اور مریم نواز کے انٹرویوز نشر کرنے سے روکنے کے لیے کوئی پیغام بھیجا گیا، جس پر پیمرا عہدیدار نے کہا کہ اس حوالے سے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
سینیٹ کمیٹی کے اجلاس کے دوران بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے پوچھا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے پیمرا کو کوئی ہدایت ہے؟ جس پر عہدیدار نے ایک اور سفید جھوٹ بولتے ہوئے بتایا کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے کوئی ہدایت نہیں۔ جہانزیب جمالدینی نے کہا کہ چیئرمین پیمرا ریاست کے مکمل کنٹرول میں ہے، کیا پیمرا پر کسی کا دباؤ ہے، پیمرا پر کسی پارٹی کی کوریج زیرو کرنے سے متعلق دباؤ ہے؟، اس پر پیمرا عہدیدار نے دوبارہ جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ کسی پارٹی کی کوریج زیرو کرنے سے متعلق کوئی دباؤ نہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ میڈیا کوریج روکنے سے متعلق آئی ایس پی آر یا کسی اور کی کوئی ہدایت نہیں، نہ ہی پیمرا پر کوئی دباؤ ہے۔
بعد ازاں کمیٹی نے اس معاملے پر پیمرا کے چیئرمین اور تمام افسران کے فونز کے فرانزک کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے وفاقی تحقیقاتی ایجنسی سے مدد طلب کرلی۔ ساتھ ہی میڈیا سینسرشپ کے معاملے پر ایک ذیلی کمیٹی قائم کردی جو ایک ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرے گی کہ چیئرمین پیمرا کو کس نے پیغامات دیے یا اگر انہوں نے کسی کے کہنے پر میڈیا کوریج رکوانے کے لیے میسجز کیے تو وہ کون تھا۔ ذیلی کمیٹی چیئرمین پیمرا اور دیگر حکام کی جانب سے خلاف ورزی کرنے کے معاملے کو بھی دیکھے گی اور ذمہ داران کا تعین بھی کرے گی۔
