ایف بی آئی کی پاکستانی بلاگرز کو محتاط رہنے کی وارننگ


برطانوی پولیس کی جانب سے بیرون ملک مقیم اینٹی اسٹیبلشمینٹ پاکستانی بلاگرز اورصحافیوں کو محتاط رہنے کی وارننگ ملنے کے بعد اب امریکہ ایف بی آئی اور فرانس اور نیدرلینڈ کی سیکیورٹی ایجنسیز نے بھی اپنے ممالک میں موجود ایسے پاکستانیوں کو جان کے خطرات سے آگاہ کرتے ہوئے اپنی حفاظت و سلامتی سے کے لیے خصوصی احتیاط برتنے کی وارننگز دے دی ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی پولیس کے بعد اب یورپ اور امریکہ میں انسدادِ دہشت گردی سے متعلق اداروں نے پاکستانی خفیہ اداروں، حکومت اور ریاست پر تنقید کرنے والے کئی جلاوطن پاکستانی بلاگرز، صحافیوں، دانشوروں اور سرکردہ ناقدین کو خبردار کیا ہے کہ ملک سے باہر بھی اُن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں اور انہیں نہایت محتاط رہنا ہوگا تاکہ خطرات سے بچا جا سکے۔ ایسے لوگوں کو بتایا گیا ہے کہ وہ اس لیے خطرے میں ہے کیوں کہ وہ پاکستانی فوج، خفیہ اداروں اور حکومت پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات فوّاد چوہدری نے ان خبروں کو “مضحکہ خیز” اور گمراہ کُن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گمراہ کُن معلومات پھیلانے والے کارخانے ایک بار پر فعال ہوگئے ہیں۔ فوّاد نے سوال کیا کہ جب پاکستانی ادارے اور حکومتِ پاکستان ، ایسے افراد کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کررہے جو پاکستان میں بیٹھ کر دن رات اداروں اور حکومت پر تنقید کرتے ہیں تو پھر پاکستانی حکومت یا خفیہ ادارے اُن لوگوں کے بارے میں ایسے منصوبے کیوں بنائیں گے جو ملک سے باہر ہیں؟ تاہم فواد چوہدری کا یہ موقف اس لئے غلط ہے کہ عمران خان کے دور اقتدار میں ریاست اور حکومت پر تنقید کرنے والے درجنوں صحافیوں اور سوشل میڈیا بلاگز کو گرفتار کیا گیا ہے، اغوا کیا گیا ہے، انہیں گولیاں ماری گئی ہیں اور ان کے خلاف کیسز درج کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی حکومت اور خفیہ اداروں پر تنقید کرنے والے افراد کو درپیش خطرات کے حوالے سے خبریں کئی ماہ سے برطانوی پریس میں شائع ہو رہی ہیں۔ برطانوی اخبار دا گارڈیئن کے مطابق یورپی سیکورٹی اداروں نے ایسی وارننگز اب دوبارہ ایک ایسے وقت جاری کی ہیں جب ایک پاکستانی نژاد برطانوی شہری گوہر خان کو نیدر لینڈز میں جلاوطنی گزارنے والے ایک پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایا کے قتل کی سازش کا مجرم قرار دے کر 13 برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ اس مقدمے کی دستاویزات کے مطابق لندن کی کنگسٹن کراؤن کورٹ میں وکیل استغاثہ ایلیسن مورگن کیو۔ سی۔ کا کہنا تھا کہ “قتل کی یہ سازش پاکستان میں تیار کی گئی۔”جس کے تحت جون 2021 میں نیدرلینڈز کے شہر روٹرڈیم میں مقیم پاکستانی بلاگر احمد وقاص گورایہ کو قتل کرنے کے منصوبے میں پاکستانی نژاد برطانوی شہری گوہر خان کو “کرائے کے قاتل” کے طور پر رقم ادا کی گئی جس نے لندن سے روٹرڈیم جاکر وقاص گورایہ کو قتل کرنے کی کوشش کی”۔ جیوری نے متفقہ فیصلہ سناتے ہوئے گوہر خان کو قتل کی سازش کا مجرم قرار دیا ۔ 11 مارچ 2022 کو اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی۔
گوہر خان کو مجرم پائے جانے کے بعد میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی حُکّام نے جن افراد کو “خطرات” سے آگاہ کیا گیا ہے اُن میں معروف لکھاری ڈاکٹر عائشہ صدیقہ بھی شامل ہیں۔ “واراسٹدیز” کے موضوع پر کنگز کالج برطانیہ سے پی ایچ ڈی کرنے والی عائشہ صدیقہ کی وجۂ شہرت اُن کی شہرۂ آفاق کتاب “ملٹری انکاررپوریٹڈ” ہے جس میں انہوں نے پاک فوج کے اقتصادی مفادات کے بارے میں اپنی تحقیق پیش کی ہے۔ وہ واحد سویلین اور خاتون ہیں جو پاکستان کی بحری فوج کی ڈائریکٹر آف نیول ریسرچ رہی ہیں۔
اپنی جان کو درپیش خطرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے کہا ہے کہ 2016 سے ریاست کے مزاج میں کافی سختی اور درشتگی آگئی ہے اور ہر وہ آواز جو اُن کی آواز سے نہیں ملتی اُسے خاموش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہون نے کہا کہ احمد وقاص گورایہ کے مقدمے نے یہ تو واضح کردیا ہے کہ وہ پاکستانی جو ملک سے باہر ہوتے ہوئے بھی پاکستان کی حکومت یا ریاست کو تنقیدی نظر سے دیکھتے ہیں اُن کو دھمکایا جاتا ہے اور ان کی سیکورٹی کے مسائل ہیں۔
مگر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کہتے ہیں کہ “بیرونِ ملک ایسے افراد کو امیگریشن اور سیاسی پناہ کے مسائل درپیش ہیں لہٰذا وہ ایسی “کہانیاں” بناتے ہیں تاکہ سیاسی پناہ کے حصول کے لئے اُن کے دعووں کو اعتبار مل سکے۔” 16 دسمبر 2014 کو پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر طالبان کے حملے میں اپنا چودہ برس کا بیٹا کھونے والے قانون دان فضل خان ، آرمی پبلک اسکول شہدا فورم کے صدر ہیں اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکن بھی۔ 21 جولائی 2020 کو پشاور میں خود پر قاتلانہ حملے کے بعد اب وہ بھی برطانیہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کے بقول انہیں بھی برطانوی حُکّام نے خطرے سے خبردار کیا ہے۔ فضل خان نے بتایا کہ “سانحے کے بعد شہدا کے ورثا نے عدالتی کمیشن کے ذریعے تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ پھر تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان کو گرفتار کیا گیا اور اس پر میں نے عدالتی کارروائی میں ڈی جی آئی ایس آئی، آرمی چیف، اور وزارت داخلہ سمیت کئی ذمہ داران کو فریق بنایا کہ ہمیں خطرہ ہے کہ احسان اللہ احسان کو بھی معافی دے دی جائے گی”۔
واضح رہے اس سے پہلے کہ احسان اللہ احسان کو کسی عدالت میں پیش کیا جاتا وہ سیکورٹی اداروں کی تحویل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ فضل خان نے دعوی کیا کہ،”مجھے درجنوں بار انٹیلیجینس اہلکاروں نے ڈرانے دھمکانے کی کوششیں کیں”۔ انہوں نے بتایا کہ 21 جولائی 2020 کو پشاور میں دو موٹر سائیکل سوار افراد نے ان کی گاڑی پر گولیاں چلائیں۔بقول ان کے، ” مجھے نہیں پتہ کہ اُن کو کس نے بھیجا تھا مگر وہاں ہر طرف سی سی ٹی وی کیمرہ نصب تھے۔ حُکّام چاہتے تو حملہ آوروں کو گرفتار بھی کیا جاسکتا تھا”۔ چنانچہ اکتوبر 2020 میں فضل برطانیہ منتقل ہو گئے۔
فضل خان کا دعوی ہے کہ اپریل 2021 میں انہیں برطانوی پولیس حُکّام نے کہا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ اور اس ملاقات میں کریمہ بلوچ اور ساجد حسین کے واقعات کا ذکر بھی آیا۔
یاد رہے کہ 39 ساجد حسین بلوچ کراچی میں انگریزی اخبار "دی نیوز” کے رپورٹر تھے۔ انہوں نے دو ہزار سترہ میں سویڈن میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی جہاں وہ ’بلوچستان ٹایمز‘ نامی ایک نیوز ویب سائٹ بھی چلا رہے تھے۔ وہ مارچ 2020 میں لا پتہ ہوئے اور کچھ روز بعد اپریل میں ان کی لاش اپسالہ کے علاقے میں دریا سے ملی تھی۔ تاہم پولیس نے اسے واردات قرار نہیں دیا بلکہ ان کا اندازہ تھا کہ یہ حادثہ یا خودکشی تھی۔ مگر ساجد بلوچ کے خاندان ، صحافیوں کی عالمی تنظیموں اور بین الاقوامی اداروں سب نے ہی سوئیڈش پولیس کے سرکاری موقف سے اتفاق نہیں کیا۔
صحافتی آزادی پر نظر رکھنے والے ادارے رپورٹرز ودآوٹ باڈرز کے ایشیا پیسیفک خطے کے ڈائریکٹر ڈینیئل بیسٹارڈ کا کہنا ہے کہ ہر سراغ اشارہ کر رہا ہے کہ یہ ایک جبری گمشدگی تھی۔ انہوں نے سوئیڈش پولیس سے مطالبہ کیا کہ اس ہلاکت میں "قتل کا امکان رد نہ کیا جائے”۔
اسی طرح کینیڈا میں مقیم 37 سالہ کریمہ بلوچ انسانی حقوق کی سرکردہ کارکن اور بلوچ قوم پرست تھیں جو پر اسرار طور پر ایک جھیل میں ڈوب کر ہلاک ہوگئیں۔ ان کی موت کو بھی مشکوک قرار دیا جاتا ہے اور الزام لگایا جاتا ہے کہ اس کے پیچھے بھی پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کا ہاتھ ہے۔ کریمہ نے 2006 میں بلوچ اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن میں شمولیت اختیار کی اور 2015 میں بی ایس او کی تاریخ کی پہلی خاتون سربراہ مقرر ہوئیں۔ اسی سال ریاست کی جانب سے دہشت گردی کے الزامات لگنے کے بعد وہ خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے کینیڈا پہنچیں۔ 20 دسمبر 2020 کو وہ کینیڈا میں “لاپتہ” ہوگئیں۔ دو دن بعد 22 دسمبر کو اُن کی لاش ٹورنٹو واٹر فرنٹ میں تیرتی ہوئی ملی۔ کینیڈئین پولیس نے بھی کسی “گڑبڑ” کا امکان رد کرتے ہوئے اس پُر اَسرار موت کو “ڈوب کر ہلاک” ہونے کا واقعہ قرار دیا۔ لیکن جب فضل خان سے سوال کیا گیا کہ پاکستانی حُکّام کا موقف تو یہ ہے کہ “پاکستانی خفیہ اداروں کو بدنام کرنے کے لیے آپ جیسے عناصر اپنے آقاؤں اور سرپرستوں کے مقاصد پورے کرنا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا “دنیا کی نمبر ون ایجنسی” ہونے کا دعویٰ کرنے والے ہمارے خلاف پیسے لینے یا کوئی اور فائدہ حاصل کرنے کا ثبوت پیش کیوں نہیں کر سکے۔ وہ ایک ثبوت تو لاتے کہ ہم نے ایک پاؤنڈ یا ایک ڈالر بھی لیا ہو۔ الٹا پاکستانی ایجنسی پر برطانیہ کی عدالت میں احمد وقاص گورایہ کو قتل کروانے کی خاطر کرائے کے قاتل کو پانچ ہزار پاؤنڈز دینے کا الزام ثابت ہو گیا۔

Back to top button