ایف ڈبلیو او کا 17 ارب روپے کا کرتارپورمنصوبہ کاغذی نکلا

پاکستان آرمی کی فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن کے ہاتھوں 17 ارب روپے کی بھاری لاگت سے تعمیر کردہ کرتار پور راہداری منصوبے کے معیار کی قلعی اس وقت کھل گئی جب 18 اپریل کو آنے والی آندھی نے گوردوارہ کے آٹھ گنبد اڑا دئیے۔ زمین پر گرنے والے گنبدوں کا معائنہ کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ تو فائبر کے بنے ہیں حالانکہ انہیں سیمنٹ اور سریے کا بنا ہونا چاہیے تھا۔ گردوارہ کے آٹھ گنبد گرنے کے واقعہ پر تبدیلی سرکار کو سوشل میڈیا پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے پہلے ہی بغیر کسی پیشگی منظوری کے تعمیر کیے جانے والے کرتاپور راہداری منصوبے کے جامع آڈٹ کی ہدایت کر رکھی ہے جبکہ ایف ڈبلیو او حکام آڈیٹر جنرل آف پاکستان کوکرتارپور راہداری منصوبے کا ریکارڈفراہم کرنے سے انکاری ہیں۔ 9 نومبر 2019 کو منصوبے کا افتتاح کرنے کے صرف 5ماہ بعد نارووال کے قریب سکھوں کے مذہبی مقام کرتار پور گوردوارہ کے گنبد ناقص میٹریل کے استعمال کی وجہ سے تیز ہواؤں کے ساتھ اڑ کر دور زمین پر جا گرے۔ یہ آٹھ گنبد گردوارہ کی درشن دیوڑھی، میوزیم، دیوان استھان اور لنگر خانے کی بلڈنگ پر لگے ہوئے تھے جو تیز ہواؤں میں اڑ کر زمین پر گرنے کے بعد ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق ایک سال سے بھی کم مدت میں تیار کیے جانے والے گردوارہ کے گنبد سیمنٹ اور سریے سے بنانے کی بجائے فائبر گلاس سے تیار کیے گئے تھے جب کہ ان کو جوڑنے کے لیے نٹ بولٹ بھی استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ ناقص تعمیر کے باعث سکھوں اور سیاسی و سماجی حلقوں کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔ گردوارہ کامنصوبہ چند ماہ پہلے ہی 17 ارب روپے کی لاگت سے مکمل کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری سے اس معاملے کی تحقیقات کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب نارووال سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی احسن اقبال نے گوردوارے کے گنبد ٹوٹنے کے واقعے پر نیب سے نوٹس کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ٹوئٹر پر کہا ” کیا نیب اس معاملے پر حرکت میں آئے گا؟ کرتارپور منصوبہ پی ٹی آئی حکومت نے 17ارب کی خطیر رقم سے حال ہی میں مکمل کیا تھا اور اس کے معیار کا یہ حال ہے- اگر یہ حادثہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں ہوا ہوتا تو اب تک نیب بریکنگ نیوز چلا رہا ہوتا۔”
دریں اثناء سابق بھارت ٹیسٹ کرکٹ نوجوت سنگھ سندھو نے وزیراعظم عمران خان کے مابین ٹیلیفونک رابطے میں کرتارپور گردوارہ میں گنبدوں کے گرنے کے حوالے سےبات چیت ہوئی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر رہنما تحریک انصاف شہباز گل نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سابق بھارتی ٹیسٹ کرکٹر نوجوت سنگھ سندھو نے وزیراعظم عمران خان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ۔ جس میں کرتارپور گردوارہ میں گنبد کے گرنے کے حوالے سے بات چیت کی گئی ۔ نوجوت سنگھ سندھو کے کرتارپور گردوراہ میں گنبد گرنے کی خبروں بارے استفسار پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ تسلی رکھیں، گنبدوں کو صفائی کے لئے اتارا گیا تھا ۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مخالفین کے پراپیگنڈے پر یقین نہ کریں، جس پر نوجوت سدھو نے ہنستے ہوئے فون رکھ دیا
یاد رہے کہ گردوارے کی تعمیر پر 17 ارب خرچ ہوئے تھے۔ 17 مارچ کے روز قومی اقتصادی کونسل یعنی ایکنک اجلاس میں کرتارپور راہداری کی بعداز تعمیر قواعد میں نرمی کے تحت 20 فیصد زائد لاگت پر منظوری دی گئی۔ تعمیر ہوجانے کے بعد کرتار پور راہداری منصوبے کی انجینئرنگ، پروکیورمنٹ اور تعمیر کی بنیاد پر 16 ارب 54 کروڑ 60 لاکھ روپے کی لاگت پر گردوارا کرتار پور صاحب کی منظوری دی گئی تھی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ ایکنک نے 16.55 ارب روپے کی نظرثانی شدہ لاگت پر کرتارپور کوریڈور کی تعمیر منظور کی۔ 5 ماہ کے دوران یہ دوسری بار تھا جب ایکنک میں منظوری کے لیے یہ منصوبہ زیرغور لایا گیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن ایف ڈبلیو او کو منصوبے پر کام کرنے کی اجازت دی تھی۔ جب کہ پپرا قواعد 2004 کے تحت مسابقتی بولی کے عمل سے گزارے بغیر کوئی بھی سرکاری ٹھیکہ کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔ قواعد کے تحت کوئی بھی سرکاری منصوبہ مجاز فورم جیسے سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی اور ایکنک سے پیشگی منظوری حاصل کیے بغیر شروع نہیں کیا جاسکتا۔ اس بارے میں وزارت خزانہ کا جاری کردہ بیان خاموش ہے کہ آیا پپرا کی جانب سے وزارت مذہبی امور کو اس منصوبے پر کام شروع کرنے کی اجازت کے بعد ایکنک نے اس کی منظوری دی تھی یا نہیں۔ واضح رہے کہ کرتارپور راہداری بھارتی پنجاب سے آنے والے سکھ یاتریوں کی سہولت کے لیے تعمیر کی گئی۔ گذشتہ برس جولائی میں وزارت مذہبی امور نے کرتار پور راہداری کا پی سی ون جمع کرایا تھا جس میں اس منصوبے کی لاگت 13.8 ارب روپے تھے۔ تاہم صرف دو ماہ کے بعد دوبارہ پی سی ون جمع کرایا گیا جس میں منصوبے کی لاگت 2.7 ارب روپے یعنی 19.6 فیصد بڑھاکر 16.5 ارب روپے کردی گئی۔ یہ اضافہ نومبر 2021 تک آپریشن اور مینجمنٹ پر آنے والی لاگت کی مد میں کیا گیا جو پہلے پی سی ون میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ 30 کروڑ روپے منصوبے کے افتتاح کی مد شامل کیے گئے۔
دوسری طرف پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کرتار پور راہداری منصوبے کا ریکارڈ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کو فراہم نہ کرنے پر فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن یا ایف ڈبلیو او سے وضاحت طلب کر چکی ہے۔ دوسری طرف ایف ڈبلیو او نے آڈیٹر جنرل کو ریکارڈ فراہم کرنے سے انکار کردیا تھا جس پر پی اے سی نے ایف ڈبلیو او کے ڈائریکٹر جنرل کو کمیٹی میں پیش ہونے کی ہدایت کی تھی۔
