ایلون مسک کو ٹوئیٹر میں تبدیلیاں کتنی مہنگی پڑیں گی؟

دنیا کے امیر ترین افراد میں شمار ہونیوالے ٹیسلا کمپنی کے مالک ایلون مسک نے ٹوئیٹر کو خرید تو لیا ہے لیکن اس کے انتظامی معاملات سے چھیڑ چھاڑ کرنے پر ان کو بھاری قیمت چکانا پڑے گی، اگر ایلون مسک ٹوئیٹر کے بھارتی نژاد سی ای او پراگ اگروال کو ہٹائیں گے تو ایسا کرنے کے لیے انہیں 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز کی رقم ادا کرنا ہوگی۔
ٹیکنالوجی اورڈیٹا سے متعلق تحقیق کرنے والے امریکی ادارے ’ایکولر‘ کے مطابق سوشل میڈیا کمپنی ’ٹوئٹر‘ کی ملکیت تبدیل ہونے کے بعد پراگ اگروال کو آئندہ 12 ماہ میں عہدے سے ہٹائے جانے پر یہ خطیر معاوضہ ادا کرنا ہو گا۔ یاد رہے کہ دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے ٹوئٹر کو 44 ارب ڈالرز میں خرید لیا ہے جس کے بعد 2013 سے پبلک کمپنی کے طور پر کام کرنے والی ٹوئٹر اب نجی کمپنی بن گئی ہے۔
واضح رہے کہ ایلون مسک ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ انہیں ٹوئٹر کی انتظامیہ پر اعتماد نہیں ہے، تحقیقی ادارے ’ایکولر‘ کے ترجمان نے بتایا کہ ٹوئٹر کے سی ای او پراگ اگروال کو فارغ کرنے کی صورت میں انکی تنخواہ اور دیگر مراعات کا تخمینہ 4 کروڑ 20 لاکھ ڈالرز بنتا ہے۔ پراگ اگروال چھ ماہ قبل ہی نومبر 2021 میں ٹوئٹر کے سی ای او مقرر کیے گئے تھے، اس سے قبل وہ کمپنی میں چیف ٹیکنالوجی آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ بھارت سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ پراگ اگروال ممبئی ہی میں پلے بڑھے اور وہاں کے انسٹی ٹیوٹ آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد مزید تعلیم کے لیے امریکہ منتقل ہوئے تھے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ پراگ امریکہ کی اسٹینفرڈ یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنسز میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر چکے ہیں، پراگ 2011 میں ٹوئٹر سے منسلک ہوئے جب کمپنی کی افرادی قوت محض ایک ہزار تھی، 2017 میں پراگ ٹوئٹر کے چیف ٹیکنیکل آفیسر مقرر کیے گئے تھے۔ سی ای او بننے پر ان کا شمار طاقت ور بھارتی نژاد امریکیوں میں کیا جانے لگا، جو امریکہ میں صف اول کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی قیادت کر رہے ہیں۔
نومبر 2021 میں جب ٹوئٹر کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر جیک ڈورسی اپنے عہدے سے سبکدوش ہو رہے تھے تو انہوں نے نئے سی ای او کے طور پر پراگ اگروال کا نام تجویز کیا تھا۔ مائیکرو بلاگنگ پلیٹ فارم ٹوئٹر کی بنیاد 45 سالہ ڈورسی نے 2006 میں رکھی تھی، وہ 2008 تک اس ادارے کے سی ای او رہے، بعد ازاں وہ 2015 میں ایک بار پھر اس اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہوئے اور 2021 تک اس کمپنی کی قیادت کی۔
