ایل این جی کیس: شاہد خاقان سمیت دیگر ملزمان کیخلاف ضمنی ریفرنس دائر

قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور ان کے بیٹے عبداللہ خاقان سمیت دیگر ملزمان پر ایل این جی کیس میں ضمنی ریفرنس بھی دائر کر دیا۔
نیب راولپنڈی نے سابق وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی اور دیگر ملزمان کے خلاف ایل این جی کیس کا ضمنی ریفرنس احتساب عدالت میں دائر کیا۔ ضمنی ریفرنس میں شاہد خاقان کے بیٹے عبداللہ خاقان سمیت پانچ نئے ملزمان کو نامزد کیا گیا ہے جس کے بعد ایل این جی ریفرنس میں ملزمان کی تعداد 15 ہو گئی ہے۔ شاہد خاقان عباسی کی ائیر لائن کے ایم ڈی چوہدری اسلم، ایل این جی ٹرمینلز کے لیے ہائر کیے گئے کنسلٹنٹ فلپ ناٹمین اور ثنا صادق بھی نامزد ملزمان میں شامل ہیں۔اس کے علاوہ سوئی سدرن گیس کمپنی کے ایم ڈی محمد امین کو بھی نیب نے ملزم نامزد کیا ہے۔
ضمنی ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ ائیر لائن کے ایم ڈی چوہدری اسلم کو ائیر لائن کے اکاؤنٹس میں مبینہ منی لانڈرنگ کی رقوم رکھنے اور منتقل کرنے کے الزام پر نامزد کیا گیا، ائیر لائن کے اکاؤنٹس مبینہ کِک بیکس اور منی لانڈرنگ کی رقوم کے لیے استعمال ہوئے۔ضمنی ریفرنس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ائیر لائن کے اکاؤنٹس سے رقوم عبداللہ خاقان اور دیگر کے اکاؤنٹس میں جاتی رہیں۔
نیب کے ضمنی ریفرنس میں عبداللہ خاقان عباسی، فلپ ناٹمین، محمد امین اور ائیر بلیو کے ایم ڈی چودھری اسلم کو بھی ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ نیب نے ضمنی ریفرنس میں موقف اپنایا ہے کہ شاہد خاقان عباسی سمیت تمام ملزمان نے ایل این جی کا غیر قانونی ٹھیکہ دے کر عوامی عہدے اور اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ نیب کے مطابق ملزمان نے نجی کمپنی کو ایل این جی ٹھیکہ دے کر 14 ارب روپے کا نقصان پہنچایا، جب کہ اس کیس میں قومی خزانے کو مجموعی طور پر 21 ارب روپے کا نقصان پہنچایا گیا، جو کہ آئندہ دس سال میں بڑھ کر 47 ارب روپے ہو جائے گا۔ نیب کے مطابق شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر ملزمان نے کرپشن اور منی لانڈرنگ بھی کی۔
لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا پہلے دن سے کہہ رہے ہیں نیب کو ختم کر دیں ورنہ یہ پاکستان کو ختم کر دے گا، آج ہر ادارہ زوال پذیر ہے، عوام مشکل میں ہیں، دو سال سے انکوائری شروع ہے، لیکن ریفرنس دائر نہ ہوسکا، اپنی اور خاندان کی ہر ٹرانزکشن نیب کے حوالے کی تھی، میرے اور بیٹے کے اکاؤنٹ کے پیسے پر ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا ہم نیب ادارے کو ختم نہیں کرسکے کوئی ایک جماعت یہ کام نہیں کر سکتی تھی، حکومت 2 سال میں کسی ادارے کا سربراہ نہیں لگا سکی، کوئی شخص حکومت کیلئے کام کرنے کو تیار نہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button