ایل سلواڈور "بِٹ کوائن” کو قانونی شکل دینے والا پہلا ملک بن گیا

وسطی امریکا کا ملک ایل سلواڈور بٹ کوائن کو قانونی شکل دینے والا دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے۔ایل سلواڈور کی حکم ران جماعت نے چند دن قبل ہی ملک میں کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دینے کی تجویز پیش کی تھی، آج ہونے والے اجلاس میں کانگریس نے صدر Nayib Bukele کی تجویز کی توثیق کردی۔ کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دینے کے لیے ہونے والی حق رائے دہی میں 84 میں سے 62 ووٹ ملک میں کرپٹو کرنسی کو قانونی قرار دینے کے حق میں ڈالے گئے۔
ایل سلوا ڈور کے صدر نے اس فیصلےکو تاریخ ساز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے بیرون ملک موجود شہریوں کو رقوم گھروں میں بھیجنے میں زیادہ سہولت ہوجائے گی۔واضح رہے کہ ایل سلوا ڈور کی معیشت کا زیادہ تر انحصار بیرون ممالک سے آنے والی ترسیلات زر پر ہے جو کہ ملک کی مجموعی پیداوار کا 20 فیصد ہے۔ وسطی امریکا کے اس ملک کی بیس لاکھ سے زائد آبادی بیرون ملک ہے، لیکن اپنی جائے پیدائش سے دلی تعلق رکھنے والے یہ شہری سالانہ 4 ارب ڈالر کا زر مبادلہ اپنے ملک بھیجتے ہیں۔
ایل سلوا ڈور کے اس فیصلے کو کچھ قانونی مبصرین اور مالیاتی اداروں نے سراہا ہے تو کچھ نے کرپٹو کرنسی کے غیر محفوظ ہونے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایل سلوا ڈور کے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ( آ ئی ایم ایف) کے ساتھ معاملات پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی مدد سے ایل سلواڈور میں 1 ارب ڈالر سے زائد کے پروگرام چل رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بِٹ کوائن کو ڈالر کے خلاف دھوکہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بٹ کوائن ایسا ’فراڈ‘ ہےجو امریکی ڈالر کی قدر کو متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ ڈالر کو دنیا کی کرنسی کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اور مجھے پسند نہیں ہے کہ کوئی دوسری کرنسی امریکی ڈالرکا مقابلہ کرے۔

Back to top button