ایل پی جی کی قیمت 11روپے بڑھا دی گئی

حکومت نے اکتوبر میں تیزی سے کمی کے بعد مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) کی قیمت میں 11 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا ، لیکن دیگر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں وہی رہیں اور حکومت نے قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں کمی کے باوجود 4.2 ارب روپے کی آمدنی دیگر پٹرولیم مصنوعات سے حاصل ہوتی ہے۔ وزارت خزانہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ قیمتوں کو متوقع قیمتوں میں اضافے کے لیے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام نے نومبر 2019 میں کہا کہ حکومت نے اکتوبر میں 2.4 بلین ڈالر جاری کیے جب تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ الہ انتظامیہ نے کہا کہ بین الاقوامی قیمتوں میں کمی سے عوام کو فائدہ ہوگا۔ وزارت خزانہ نے اعلان کیا کہ اس نے عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اکتوبر کے وسط سے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ستمبر 2019 میں ایک اپ ٹرینڈ دیکھا گیا اور نومبر 2019 میں اس میں تیزی آنے کی توقع ہے۔ مشرق وسطیٰ میں خام تیل کی قیمتیں اگست کے آخر میں 58 بیرل فی ڈالر تک گر گئیں جو 63 بیرل فی ڈالر تھیں۔ اکتوبر میں پٹرولیم مصنوعات 2.6 فیصد گر گئیں۔ ہم نے پٹرول کی قیمت 23 روپے ، پٹرول کی قیمت 2.55 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت 2.41 روپے فی لیٹر کم کر دی۔ قیمت 9957 روپے سے بڑھا کر 10039 روپے کرنے کی تجویز تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button