ایم کیو ایم رہنما اب جئے بھٹو کے نعرے کیوں لگانے لگے؟

سندھ کے شہری علاقوں سے تین دہائیوں تک اقتدار کے ایوانوں میں جانے والی جماعت متحدہ قومی موومنٹ اپنے برسوں پرانے وفادار کارکنوں اور رہنماؤں سے محروم ہوتی جا رہی ہے۔تنظیمی اختلافات، رہنماؤں کی آپسی چپقلش اور عام انتخابات میں ٹکٹ کی تقسیم کے معاملے پر سیاسی رہنما اپنی وفاداریاں تبدیل کر رہے ہیں جبکہ سندھ میں 10 سال سے حکمرانی کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی، پاک سرزمین پارٹی یعنی پی ایس پی کے ایم کیو ایم میں ضم ہونے کے بعد شروع ہونے والے اختلافات کا بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے۔

ایم کیو ایم پاکستان میں پی ایس پی کے شامل ہونے کے بعد سیاسی کنارہ کشی اختیار کرنے والے ایک درجن سے زائد سابق اراکین قومی و صوبائی اسمبلیوں سمیت کئی علاقائی ذمہ داران اور کارکنان نے ایم کیوایم کو خیر باد کہہ کر باقاعدہ پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

حال ہی میں پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے والے سابق صوبائی وزیر رضا ہارون کا کہنا ہے کہ سندھ کی ترقی کے لیے آگے بڑھ کر سوچنے کی ضرورت ہے۔ اندرونی اور بیرونی سندھ کی باتیں اب ختم ہونی چاہییں۔ان کا کہنا تھا کہ ’بلاول ایک نوجوان سیاسی رہنما ہیں، انہیں بہت آگے جانا ہے۔ ہم نے بہت سوچ سمجھ کر پیپلز پارٹی میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔‘

سابق رہنما ایم کیو ایم اور پی ایس پی انیس ایڈووکیٹ نے بھی سابق صدر آصف علی زرداری سے ملاقات کرکے باقاعدہ پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔اس سے قبل کراچی کے ضلع شرقی کے علاقے گلشن اقبال سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے والے مزمل قریشی بھی ایم کیو ایم کو خیر باد کہہ کر پیپلز پارٹی جوائن کر چکے ہیں۔اسی طرح کراچی کے علاقے کورنگی سے ماضی میں ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی شیراز وحید بھی پیپلز پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔

کراچی کا ضلع وسطی ایم کیو ایم کے مضبوط حمایتی اضلاع میں سے ایک ہے۔ اس ضلع کے علاقے سے کئی بار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہونے والے وسیم قریشی بھی متحدہ سے الگ ہوکر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔ ان رہنماؤں کے علاوہ سابق اراکین اسمبلی خواجہ سہیل منصور، علی راشد، سمیتا افضال، ہیر سوہو سمیت دیگر رہنما بھی ایم کیو ایم کو خیر باد کہہ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہو گئے ہیں۔

سینیئر تجریہ کار مظہر عباس کے مطابق ایم کیو ایم چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں جانے والے متحدہ کے رہنما پی ایس پی کے ایم کیو ایم میں ضم ہونے پر تحفظات رکھتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ’ایم کیو ایم کے تنظیمی معاملات پی ایس پی رہنما چلاتے نظر آ رہے ہیں جس پر ماضی میں ایم کیو ایم کا حصہ رہنے والے رہنما ناخوش ہیں۔ اور اس بات کا اظہار کئی رہنما آن ریکارڈ آ کر بھی کر چکے ہیں۔‘

دوسری جانب ترجمان متحدہ قومی موومنٹ احسن غوری کے مطابق ’ہر شخص کو سیاست کرنے کا مکمل حق حاصل ہے، ایم کیو ایم سے جانے والوں کو یہ سوچنا چاہیے تھا کہ وہ کس جماعت میں شامل ہورہے ہیں۔‘احسن غوری کا کہنا تھا کہ ’یہ بات سب جانتے ہیں کہ ایم کیو ایم متوسط طبقے کی نمائندہ جماعت ہے اور اس جماعت میں ووٹ بینک کسی انفرادی شخص کا نہیں پارٹی کا ہے۔ ایم کیو ایم سندھ کے شہری و دیہی علاقوں کے عوام کی خدمت کا سفر جاری رکھے گی۔ آنے والے انتخابات ثابت کریں گے کہ متحدہ قومی موومنٹ ہی عوامی جماعت ہے۔‘

دوسری جانب پیپلز پارٹی کراچی کے رہنما سعید غنی کے مطابق ایم کیو ایم سے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے والے رہنما اب پیپلز پارٹی کا حصہ ہیں، یہ کارکنان اور رہنما اپنی خوشی سے پارٹی میں شامل ہوئے ہیں۔ کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں یہ بات واضح ہوگئی ہے کہ پیپلز پارٹی ہی سندھ کے شہری علاقوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں کی تقسیم کی کوشش کی گئی، لیکن اب عوام سمجھ چکے ہیں کہ پیپلز پارٹی ہی سندھ میں ترقی لا سکتی ہے۔ لوگ ہمیں ووٹ بھی دے رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما بھی پیپلز پارٹی کا حصہ بن رہے ہیں۔

Back to top button