ایم کیو ایم کو سی پیک پروجیکٹ کامیاب بنانے کے لیے توڑا گیا

معروف امریکی خبر رساں ادارے بلوم برگ نے دعویٰ کیا ہے کہ الطاف حسین کی متحدہ قومی موومنٹ کے خلاف کراچی میں فوجی آپریشن چینی حکومت کے مطالبے پر کیا گیا تھا تا کہ اسکے حصے بخرے کر کے پاک چائنا سی پیک پروجیکٹ کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ بلوم برگ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چینی صدر شی نے 2013 میں ون بیلٹ ون روڈ منصوبہ شروع کیا تھا جس کے تحت بعد ازاں سی پیک پراجیکٹ شروع کیا گیا۔ لیکن اس منصوبے کی کامیابی سے تکمیل کے لئے ضروری تھا کہ کراچی پرامن ہو اور لا اینڈ آرڈر کی صورت حال قابو میں رہے۔ چینی قیادت نے کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کی طاقت اور غلبے پر تشویش کا اظہار کیا تھا اور یہ مطالبہ کیا تھا کہ سی پیک پروجیکٹ کی تکمیل میں کسی قسم کی رکاوٹ کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے کہ ایم کیو ایم کی عسکری طاقت ختم کی جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آج صورت حال یہ ہے کہ ایم کیو ایم کئی دھڑوں میں بٹ چکی ہے اور الطاف حسین کا نام لیوا کوئی نہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ”بلوم برگ“ نے ایم کیو ایم لندن کے سربراہ الطاف حسین کے حوالے سے ایک تحقیقاتی رپورٹ شائع کی ہے جس میں ان پر اور پاکستانی اداروں پر سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 1980 کی دہائی میں اقتدار میں آنے کے بعد سے ایم کیو ایم اور اس کے قائد الطاف حسین 22 ملین سے زائد کی آبادی والے شہر کراچی میں ایک غالب قوت رہے ہیں۔

بڑی بڑی کمپنیوں کے سی ای اوز سے لے کر معمولی دکانداروں تک ہر کسی نے ان کی تپش محسوس کی ہے، جو جارحانہ طور پر نافذ کی گئی ہڑتالیں تھیں۔ جب بھی ایم کیو ایم کی کسی سینئر شخصیت کو مارا یا گرفتار کیا گیا، یا کوئی سیاسی فیصلہ پارٹی کی خواہشات کے خلاف ہوا شہر بند ہوا، پھر شروع ہونے والا ہنگامہ کراچی کی اسٹاک مارکیٹ کو کریش کر دیتا اور روزمرہ کی زندگی کا تقریباً ہر پہلو متاثر ہوتا۔ ایم کیو ایم کو ایک سیاسی جماعت کے ساتھ ساتھ ایک گروہ قرار دیا گیا جو بڑے پیمانے پر اپنی سرگرمیوں اور لیڈران کے طرز زندگی کے لیے کاروبار اور منشیات کی اسمگلنگ کے ذریعے فنڈز فراہم کرتی تھی۔پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں اس جماعت کے پاس طویل عرصے سے کسی بھی جماعت کا کیریئر بنانے یا توڑنے کا اختیار ہے، جس کا شکار حال ہی عمران خان بھی ہوئے ہیں۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی فوج، جو ملک کا سب سے طاقتور ادارہ ہے، اس نے کراچی کو چینی سرمایہ کاری کے لیے محفوظ ماحول بنانے کی کوششوں کے تحت ایم کیو ایم کے خلاف 2013 سے ہی کارروائیوں کا آغاز کر دیا تھا تاکہ اس کی کمر توڑی جا سکے۔ لیکن ایم کیو ایم کا فوری تیاپانچہ کرنے کا فیصلہ 2016 میں تب ہوا جب الطاف حسین نے لندن سے فوج اور حکومت کے خلاف تقریباً 100 منٹ کا لائیو خطاب کیا اور ریڈ لائن کراس کر گے۔ اس کے بعد لاہور ہائی کورٹ نے ان کی میڈیا کوریج پر مکمل پابندی عائد کر دی اور پارٹی قیادت کو اپنے بانی کا ساتھ چھوڑنے پر آمادہ کر لیا گیا۔ یوں ایم کیو ایم پاکستان وجود میں آ گئی جس میں الطاف حسین کے تمام قریبی ساتھی شامل تھے۔

بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کو توڑنے کی کوششوں کا آغاز 2013 میں ہوا جب چین کے نئے رہنما شی جن پنگ نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کی نقاب کشائی کی تھی، جو کہ پورے ایشیا اور اس سے باہر ایک ٹریلین ڈالر کے بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے۔ چین کے روایتی اتحادی کے طور پر پاکستان کو 60 بلین ڈالر ملنا تھے۔ اس ساری رقم کو نتیجہ خیز طور پر خرچ کرنے کے لیے کراچی میں استحکام کی ضرورت تھی اور اسکا مطلب تھا کہ ایم کیو ایم اب تجارتی امور اور کاروبار کو روکنے کے قابل نہیں رہے گی۔ بعد ازاں الطاف حسین کے 2016 میں اپنے پیروکاروں کو فوج کے خلاف اکسانے کے بعد کریک ڈاؤن ہوا، جو پارٹی کیلئے سیاسی کینسر ثابت ہوا۔ اس کریک ڈاؤن کے بعد ایم کیو ایم نے 2018 کے انتخابات میں صرف سات نشستیں حاصل کیں، جو اس کی اب تک کی سب سے کم تعداد ہے۔
آج صورتحال یہ ہے کہ کراچی پر راج کرنے والے الطاف حسین کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے۔ آپس کی لڑائی اور فوج کے دباؤ میں آکر وہ جماعت جو کبھی پاکستان کے معاشی دل پر حاوی تھی، اب کمزور اورنلاغر دکھائی دیتی ہے۔ لیکن اگر یہ سچ ہے کہ ایم کیو ایم کو اس حالت تک پہنچانے کا بنیادی مقصد پاک چین سی پیک پروجیکٹ کو کامیاب بنانا تھا تو اس منصوبے کی حالت بھی ایم کیو ایم سے زیادہ مختلف نظر نہیں آتی۔

Back to top button