ایم کیو ایم کی بانی تنظیم کے تمام رہنما مارے کیوں گے؟

11 جون 1978 کو قائم کی گئی آل پاکستان مہاجر سٹوڈینٹس آرگنائزیشن یا اے پی ایم ایس او نے اپنی ہی سرپرست اور پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی جماعت بن جانے والی مہاجر قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم کو جنم دے کر نہ صرف سیاست میں نئی ریت ڈالی بلکہ ملک کا سیاسی منظر نامہ بھی بدل کر رکھ دیا۔ ایک زمانے میں اپنے تعلیمی اخراجات تک برداشت نہیں کر سکنے والے طالبعلم اتنے طاقتور ہو گئے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں اُن کی مرضی سے قائم ہونی اور گرائی جانے لگیں۔ لیکن یہ تنظیم اس لحاظ سے بدقسمت رہی کہ اس کے قریباً تمام ہی بانی اراکین سیاسی افق پر جگمگانے کے بعد ذیادہ تر اپنوں کی کے ہاتھوں قتل کر دیے گئے۔ اس تنظیم کا بانی الطاف حسین کئی دہائیاں پہلے لندن بھاگ گیا اور زندہ بچ گیا۔
ایم کیو ایم کے موجودہ کرتا دھرتا خالد مقبول صدیقی اے پی ایم ایس او کے قیام کی کہانی سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب ہر شعبہ زندگی میں سندھ کے شہری علاقوں میں آباد مہاجروں سے تفریق برتی جانے لگی اور کوٹہ سسٹم کی وجہ سے مہاجر طلبا کا تعلیمی استحصال زور پکڑنے لگا تو مہاجر طلبا میں بے چینی اور مایوسی بڑھنے لگی۔ نہ تو انہیں تعلیمی اداروں میں داخلہ ملتا تھا اور نہ سرکاری اداروں میں ملازمت۔ ستم بالائے ستم یہ ہونے لگا کہ اندرون سندھ کے تعلیمی اداروں میں اگر ان مہاجر طلبا کو بمشکل تمام داخلہ مل بھی جاتا تھا تو جب یہ وہاں پہنچتے تو ان سے نفرت پر مبنی سلوک کیا جاتا تھا۔ پھر ان کے تعلیمی و معاشی استحصال نے جسمانی تشدّد کی شکل اختیار کر لی۔ ایسے میں 11 جون 1978 کو الطاف حسین نے اپنے ساتھیوں عظیم احمد طارق، عمران فاروق، سلیم شہزاد، طارق جاوید، طارق مہاجر، ایس ایم طارق وغیرہ کے ساتھ اے پی ایم ایس او کی بنیاد رکھی۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی آٹھ ستمبر 1989 کو اے پی ایم ایس او کے پانچویں مرکزی چیئرمین مقرر ہوئے اور 11 جون 1997 تک اس عہدے پر برقرار رہے۔
خالد مقبول بتاتے ہیں کہ اُس زمانے میں کراچی کی طلبا سیاست ’سرخ‘ یعنی بائیں بازو کے حامیوں پر مشتمل ترقی پسند اور ’سبز‘ یعنی دائیں بازو کے خیالات رکھنے اسلام پسند حلقوں میں تقسیم تھی۔ابتدائی کئی برسوں تک الطاف حسین اور اُن کی نومولود تنظیم کو تعلیمی اداروں میں ’سبز‘ حلقے کی شدید بلکہ کئی واقعات میں متشدد مخالفت کا بھی سامنا رہا۔الطاف حسین اس دوران کئی بار براہ راست تشدد کا نشانہ بھی بنے جس کا ذمہ دار وہ اور اُن کے ساتھی مخالفین کو ٹھہراتے رہے۔کئی بار انھیں، اُن کی تنظیم اور اس کے اراکین کو تعلیمی اداروں سے زبردستی بیدخل بھی کیا جاتا رہا۔ ایم کیو ایم کی جانب سے کراچی کے پہلے میئر اور پھر ایک وقت میں پارٹی کے سب سے سینیئر رہنما سمجھے جانے والے ڈاکٹر فاروق ستار بتاتے ہیں کہ ’تین فروری 1981 تک مخالفین کے سکواڈ نے یونیورسٹی سمیت قریباً تمام تعلیمی اداروں میں ہمارا داخلہ بند کر دیا تھا۔’تعلیمی اداروں میں داخلہ بند ہونے کے دو دن بعد یعنی 5 فروری کو الطاف حسین نے فیڈرل بی ایریا میں طارق مہاجر کے گھر ہونے والے اجلاس میں کہا کہ ہم مخالفین کا مقابلہ نہیں کر سکتے، اُن کے پیچھے جنرل ضیا الحق ہیں جن کے ساتھ ریاست کی طاقت ہے۔ فاروق ستار بتاتے ہیں کہ اس اجلاس میں یہ بات زیر غور آئی کہ اے پی ایم ایس او کو یہیں اسی اجلاس میں ختم کر دیتے ہیں اور الطاف حسین کے الفاظ تھے کہ میں تشدد کی سیاست میں نہیں جا سکتا، کیونکہ ہمارے تو سارے کارکنان اور رہنما مارے جائیں گے۔مگر اجلاس کے شرکا کے جذباتی تبادلہ خیال کے بعد اے پی ایم ایس او کو شہری علاقوں میں لے جانے کا فیصلہ ہوا جس کے بعد سب سے پہلا یونٹ آفاق احمدنے لانڈھی میں بنایا۔
یاد رہے کہ یہی آفاق احمد آگے چل کر الطاف حسین کے سب سے بڑے مخالف اور ایم کیو ایم حقیقی کے سربراہ بنے۔ اس حوالے سے فاروق ستار بتاتے ہیں کہ سنہ 1983 میں الطاف حسین اپنے بھائیوں کی جانب سے بلائے جانے پر مایوس ہو کر امریکہ چلے گئے تھے۔ پھر عظیم احمد طارق نے اے پی ایم ایس او کو دوبارہ جمع کیا۔ بعد ازاں وہ ایم کیو ایم کے چیئرمین بنے لیکن انھیں یکم مئی 1993 کو قتل کر دیا گیا۔ یاد رہے کہ 18 مارچ 1984 کو جب اے پی ایم ایس او کی قیادت نے مہاجر قومی موومنٹ یعنی ایم کیو ایم بنانے کا اعلان کیا تو الطاف حسین ملک میں موجود نہیں تھے۔ فاروق ستار نے بتایا کہ ’عظیم احمد طارق، سلیم شہزاد ، طارق جاوید اور الطاف بھائی کی ٹیم کے سب لوگ کام کرتے رہے اور الطاف حسین بیرون ملک ہونے کے باوجود عظیم طارق سے رابطے میں تھے۔15 اپریل 1985 کو جنرل ضیا کی حکومت کو مارشل لا کی سب سے زیادہ مزاحمت کرنے والے صوبہ سندھ میں زبردست سیاسی حمایت حاصل کرنے کا شاندار موقع تب ملا جب کراچی کے وسطی علاقے ناظم آباد کی چورنگی پر ٹریفک کے ایک حادثے میں سرسید گرلز کالج کی ایک طالبہ بشریٰ زیدی کی جان چلی گئی۔ طالبہ کی ہلاکت پر شروع ہونے والا احتجاج شام تک لسانی رنگ اختیار کر گیا اور اُردو سپیکنگ شہریوں کا احتجاج پبلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ تر پشتون مالکان کے خلاف محاذ کی صورت میں ڈھل گیا۔ طالبہ کی ہلاکت نے کوٹہ سسٹم اور شہری آبادی کی محرومیوں کی پہلے ہی سے موجود دیگر وجوہات کی وجہ جاری لسانی کشیدگی میں جلتی پر تیل کا کام کیا۔
یوں ’مہاجر نعرے‘ کو وہ سیاسی مقبولیت ملنے لگی جس کی توقع نہ تو خود اے پی ایم ایس او کو تھی اور نہ ہی اس کے مخالفین کو۔ اسی اثنا میں الطاف حسین امریکہ سے واپس آ گئے۔ فاروق ستار نے یہ عمومی رائے یکسر مسترد کر دی کہ ایم کیو ایم کو جنرل ضیا نے پیپلز پارٹی کو کاؤنٹر کرنے کے لیے بنایا تھا حالانکہ حقیقت یہی ہے۔ لیکن فاروق ستار نے یہ تسلیم کیا کہ ’ایم کیو ایم جنرل ضیا کے مارشل لا دور میں ہی پروان چڑھی اور اسکی توپوں کا رخ پیپلز پارٹی کی جانب رہا۔
اب ایک جانب اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم فقیدالمثال مقبولیت حاصل کر رہی تھیں اور دوسری جانب تواتر سے سیاسی پیشرفت اور پرتشدد واقعات رونما ہو رہے تھے۔ اسی اثنا میں بانی پاکستان کے مزار پر ایک مظاہرہ ہوا جہاں پاکستان کا قومی پرچم جلانے کے الزام میں الطاف حسین کو گرفتار کیا گیا اور انھیں فوجی عدالت سے نو ماہ قید کی سزا سنائی گئی اور وہ جیل بھیج دیے گئے۔آنے والے برسوں میں جب شہری سندھ میں لسانی سیاست شروع ہوئی اور ایم کیو ایم اور اُس کے سیاسی مخالفین کو زبردست نقصانات اور فوائد دونوں کا اندازہ ہوا تو پھر ’علاقہ گیری‘ کا آغاز ہوا۔اسی دوران شہر میں لسانی تفریق اور نسلی منافرت پر مبنی کئی بڑے واقعات رونما ہوئے جن میں ’منشیات فروشوں کے خلاف‘ سہراب گوٹھ کے علاقے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کا ’آپریشن کلین‘ یا پھر علی گڑھ کالونی اور قصبہ کالونی میں فائرنگ سے درجنوں افراد کی ہلاکت جیسے بڑے اور سیاسی طور پر انتہائی اہم سمجھے جانے والے واقعات شامل رہے۔
ایسے کئی سانحوں کے بعد پشتون اور مہاجر آبادیوں میں شدید لسّانی کشیدگی پھیل گئی جس کا فائدہ الطاف حسین اور اُن کی تنظیموں یعنی اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم کو کسی نہ کسی صورت ہوتا رہا۔ڈر اور خوف کی یہ فضا مہاجر نعرے کی مزید مقبولیت کا سبب بنی اور اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم دونوں ہی کو مضبوط تر کرتی چلی گئی۔ایم کیو ایم نے اس ماحول کا فائدہ اٹھایا اور آٹھ اگست 1986 کو کراچی کے نشتر پارک میں جلسہ منعقد کیا جہاں اُردو بولنے والوں کو شعلہ بیانی پر قدرت رکھنے والے الطاف حسین میں اپنا ایک جارح اور زبردست ترجمان دکھائی دینے لگا۔ نشتر پارک جلسے کی کامیابی نے ہی اُن کے لیے 1987 کے بلدیاتی انتخابات میں اے پی ایم ایس او کی کامیابی کی راہ ہموار کی۔نوبت یہ آ گئی کہ ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات میں اپنے کارکنوں کی بجائے ہمدردوں کو انتخابی امیدوار بنایا اور مقبولیت کا یہ عالم تھا وہ سب بھی جیت کر کامیاب ہوگئے۔ان انتخابات میں اے پی ایم ایس او کے جوائنٹ سیکریٹری ڈاکٹر فاروق ستار ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر کراچی کے پہلے میئر منتخب ہوئے۔
1988 میں جب بہت طویل عرصے کے بعد ملک میں جماعتی بنیادوں پر عام انتخابات ہوئے تو الطاف حسین کی ایم کیو ایم نہ صرف کراچی و حیدرآباد کی تمام نشستوں پر فاتح رہی بلکہ سندھ کے کئی دیگر شہری علاقوں میں بھی نشستیں جیت جانے میں کامیاب رہی۔1988 کے انتخابات میں سندھ واضح طور پر دو سیاسی حصّوں میں منقسم دکھائی دیا اور شہری سندھ پورا ایم کیو ایم اور دیہی سندھ مکمل طور پر پیپلز پارٹی میں بٹ کر رہ گیا۔1988 کے انتخابات کے بعد ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے سندھ اور وفاق میں مل کر صوبائی اور وفاقی حکومتیں تشکیل دیں۔اس دوران الطاف حسین کی تنظیمیں یعنی اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم بلا شرکت غیرے کراچی کی تعلیمی، سیاسی، بلدیاتی، انتظامی اور مالی معاملات کی مالک بن گئی اور اس طاقت نے صورتحال کو بہت پیچیدہ بنا دیا۔
ایم کیو ایم میں جرائم پیشہ عناصر کے در آنے کی اطلاعات پر جنرل آصف نواز کی قیادت میں فوجی اسٹیبلشمنٹ نے نواز شریف حکومت کو کارروائی کے لیے اُس فوجی آپریشن کا مشورہ دیا جو بعد میں کراچی آپریشن کلین اپ کی نام سے جاری رہا۔اس آپریشن سے وقتی طور پر ایم کیو اور اے پی ایم ایس او کو سیاسی محاذ پر زبردست نقصانات اٹھانے پڑے۔وزیر اعلیٰ سندھ جام صادق علی کے مشورے پر الطاف حسین لندن بھاگ گئے، ملک سے چلے جانے کے بعد رفتہ رفتہ پارٹی پر اُن کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی بالآخر اے پی ایم ایس او اور ایم کیو ایم کے اندر بھی زبردست دھڑے بندیاں اور اندرونی سیاسی کشمکش کا آغاز ہوا۔خالد مقبول کہتے ہیں کہ گذشتہ دس برس اے پی ایم ایس او کا بدترین دور ہے۔ طلبا سیاست کمزور ہوئی۔ آج بھی اے پی ایم ایس او کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔خالد مقبول صدیقی کہتے ہیں کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اے پی ایم ایس او کو دوبارہ ابتدائی زمانے کی طرح فعال کیا جائے۔ ایم کیو ایم کی قیادت آخر تک اے پی ایم ایس او سے آتی رہی، ہماری تو تربیت کا ادارہ وہی ہے۔ تاہم وہ اس سوال کا کوئی تسلی بخش جواب نہ دے پائے کہ اے پی ایم ایس او کے زیادہ تر بانی اراکین اپنے ہی ساتھیوں کے ہاتھوں قتل کیوں ہو گئے؟
