اینٹی کرپشن بیانیے والا کپتان ہی سب سے بڑا چور نکلا

معروف اینکر پرسن اور صحافی سلیم صافی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی سکروٹنی کمیٹی کی جانب سے تحریک انصاف کی فارن فنڈنگ بارے تیار کردہ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ پچھلے ساڑھے تین برس سے پاکستان میں نام نہاد کرپشن مخالف بیانیے کا سب سے بڑا نقیب ہی دراصل سب سے بڑا چور تھا جو اپنی چوریاں چھپانے کے لیے سیاسی مخالفین پر کرپشن کے الزامات عائد کر رہا تھا۔
اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں سلیم صافی کہتے ہیں کہ ابھی نہ تو انصاف ہوا ہے اور نہ ہی کوئی حتمی فیصلہ آیا ہے، پی ٹی آئی فارن فنڈنگ کیس سے متعلق اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ کی صورت میں بس بھیانک حقائق سے متعلق ایک ہلکی سی جھلک نظر آئی ہے اور ایک ہلکی سے امید پیدا ہوئی ہے کہ شاید بھائی لوگوں کی لاڈلی تحریک انصاف کے معاملے میں بھی کبھی انصاف ہو۔
صافی کے مطابق پارٹی فنڈنگ کیس سے متعلق الیکشن کمیشن کا رویہ خود اس کے اپاہج ہونے کی ایک واضح دلیل ہے کیونکہ یہ کیس 2014سے چل رہا ہے۔ اب اسے چلتے آٹھ سال ہوگئے۔ اس دوران کیس کی سینکڑوں سماعتیں ہوئیں۔ اکبر ایس بابر نے ہزاروں دستاویزات پیش کیں لیکن اب بھی فیصلہ نہیں ہوا بلکہ صرف اسکروٹنی کمیٹی کی رپورٹ سامنے آئی۔ لیکن اس رپورٹ سے واضح ہوگیا کہ ہر کسی کی تلاشی لینے والے اپنی تلاشی دینے کو تیار نہیں کیونکہ اسکے اپنے ہاتھ صاف نہیں۔ اسٹیٹ بینک کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق تحریک انصاف نے درجنوں اکائونٹس ظاہر نہیں کیے اور مغربی ممالک میں کمپنیاں بنا کر فنڈز لئے۔ صافی کہتے ہیں کہ میں اسے بھیانک حقائق کی ایک ہلکی سی جھلک اس لئے قرار دے رہا ہوں کہ یہ کسی غیرجانبدار عدالت کا فیصلہ یا رپورٹ نہیں بلکہ الیکشن کمیشن کو ایک تنہا شخص یعنی اکبر ایس بابر کے اصرار پر سرکاری اداروں کے فراہم کردہ حقائق ہیں۔خود الیکشن کمیشن کی کمیٹی کہہ رہی ہے کہ اسے مکمل معلومات تک رسائی میں ناکامی ہوئی ہے۔
دوسری بات یہ مدنظر رکھنی چاہئے کہ یہ کیس کسی مخالف پارٹی نے شروع نہیں کیا تھا بلکہ پارٹی کے بانی اور عمران خان کے دست راست اکبر ایس بابر نے فائل کیس تھا جو پورے سات سال تک پارٹی کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات تھے۔
سلیم صافی کہتے ہیں کہ اکبر بابر نے یہ ایسو 2011 میں تب اٹھایا جب وہ پارٹی کے ساتھ تھے۔ پہلے انہوں نے یہ ایشو عمران کے ساتھ خلوتوں میں اٹھایا۔ جب شنوائی نہیں ہوئی تو انہوں نے ای میلز کے ذریعے عمران سے لمبے عرصے تک مکالمہ کیا لیکن جب غیرقانونی طریقے سے فنڈز جمع کرنے اور خورد برد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی بجائے عمران ان سے ناراض ہوئے تو مجبوراً وہ اسے الیکشن کمیشن میں لے آئے۔ ان آٹھ برسوں میں پی ٹی آئی اور اسکے سرپرستوں نے اکبر ایس بابر کے خلاف ہر حربہ استعمال کیا۔ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ان کی کردار کشی کی گئی۔ انہیں دھمکیاں دی جاتی رہیں۔ ان کی والدہ کئی سال سے بستر مرگ پر پڑی تھیں اور اس عظیم ماں کو بھی تڑپایا گیا۔
کئی مرتبہ مختلف طریقوں سے رابطہ کرکے انہیں عہدوں کی پیشکشیں بھی ہوئیں لیکن اکبر ایس بابر ڈٹے رہے ۔اسی طرح اکبر ایس بابر کے پیچھے کوئی اور جماعت بھی کھڑی نہیں تھی ۔ وہ اب بھی پی ٹی آئی کے ممبر ہیں اور حکمران جماعت بننے کے بعد تو پی ٹی آئی اور اس کے سرپرستوں نے ان کا جینا حرام کیا تھا۔ صافی کہتے ہیں کہ ایک اور حقیقت یہ پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اسکروٹنی کمیٹی نے صرف فنڈز جمع کرنے کے معاملے کی چھان بین کی ہے جس میں اس حد تک گھپلے نکل آئے ہیں اور یہ پتہ چلا ہے کہ نہ صرف بڑی رقم الیکشن کمیشن کے سامنے ظاہر نہیں کی گئی بلکہ کئی اکائونٹس بھی چھپائے گئے۔ لیکن یہ بات تو زیرغور یا زیرتفتیش ہی نہیں آئی کہ وہ فنڈز کس نے اور کہاں خرچ کئے؟ جب اس کی تحقیقات ہوں گی اور ضرور کسی نہ کسی دن ہوں گی تو بڑے بڑے پردہ نشینوں کے نام سامنے آئیں گے اور پتہ چلے گا کہ پی ٹی آئی کے کس کس رہنما نے اس رقم سے کیسی جائیدادیں خریدیں اور کاروبار شروع کروائے۔
سلیم صافی کے بقول ایک اور حقیقت یہ مدنظر رہے کہ یہ الیکشن کمیشن کی رپورٹ 2008 سے 2013 تک کے دور کا احاطہ کرتی ہےحالانکہ پی ٹی آئی کا اصل کھیل تو 2013 کے بعد شروع ہوا ۔
عارف نقوی، زلفی بخاری ، انیل مسرت جیسے مشکوک کرداروں کا کردار تو اس کے بعد نمایاں ہوگیا۔ جہانگیر خان ترین اور علیم خان جیسے اے ٹی ایمز تو اس کے بعد متحرک ہوئے۔ مختلف مافیاز جو اس وقت تبدیلی سرکار چلارہی ہیں، 2014کے بعد عمران خان کے گرد جمع ہونے لگے۔ دھرنوں کے لئے کتنی رقم کہاں سے آئی اور کیسے خرچ ہوئی، سب سے بڑھ کر یہ کہ الیشن 2018 کے لئے بیرون ملک اور اندرون ملک سے کتنی رقم اور کس طریقے سے آئی، اس کا تو نہ رپورٹ میں ذکر ہے اور نہ ہی الیکشن کمیشن میں زیر سماعت کیس اس دور کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ رپورٹ توصرف پی ٹی آئی کے بُرے دنوں یعنی 2008 سے 2013 تک کے دور سے متعلق ہے ۔ اس رپورٹ میں ابراج گروپ کے عارف نقوی کے کردار کا بھی ذکر ہے جو برطانیہ میں فراڈ کے جرم میں گرفتار ہوئے۔ لیکن ان کے اس کردار کا ذکر نہیں کہ کس طرح وہ 2019 تک عمران خان سے منسلک رہے۔ حکومت بننے کے بعد وزیراعظم ہائوس میں نظر آتے رہے اور کس طرح سرکاری سطح پر ان کی کمپنی کو چین کے حوالے کرنے کی کوششیں ہوئیں۔
یہ معاملات کتنے گہرے ہیں اور کس کس طرح کے لوگوں کے ساتھ کس کس طرح کے درپردہ روابط خود عمران خان نے استوار کئے تھے، اس کا اندازہ ریحام خان صاحبہ کی کتاب میں عارف نقوی سے متعلق اس اقتباس سے لگایا جاسکتاہے۔ ریحام خان کی کتاب کے مطابق عمران خان نے انہیں بتایا تھا کہ عارف نقوی نے 2013 کے الیکشن میں میری انتخابی مہم کے اخراجات کا 66 فی صد حصہ فراہم کیا تھا۔
