این آر او مخالف عمران نے ہیلی کاپٹر کیس میں NRO لے لیا

کرپشن اور این آر او مخالف عمران خان کو ہیلی کاپٹر کیس میں قانونی کارروائی سے بچانے کے لئے این آر او دیتے ہوئے خیبر پختونخوا حکومت صوبائی اسمبلی کے ذریعے عام افراد کیلئے سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال پچھلی تاریخ سے جائز قرار دے دیا ہے۔ اپوزیشن کی تمام تر مخالفت کے باوجود صوبائی اسمبلی نے ایک ترمیمی بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت صوبائی حکومت کا سرکاری ہیلی کاپٹر یا جہاز سرکاری امور کے ساتھ ساتھ نجی مقاصد کے لیے کرائے پر بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ اس مقصد کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سے اجازت لینا ہوگی، تاہم جہاز کے کرائے کا تعین حکومت خود کرے گی۔ ترمیمی بل میں ایک اور ترمیم شامل کی گئی ہے جس کی منظوری کے بعد یکم نومبر 2008 سے اب تک سرکاری ہیلی کاپٹر کا استعمال قانونی ہو جائے گا اور اس حوالے سے کوئی سوال نہیں کر سکے گا۔ یوں عمران کے خلاف زیرالتوا خیبر پختونخوا حکومت کے ہیلی کاپٹر کو غیرقانونی طور پر استعمال کرنے کا ریفرنس بھی غیر موثر ہو گیا ہے اور خان صاحب کو این آر او مل گیا ہے۔ تاہم خیبرپختونخوا اسمبلی کی اپوزیشن نے اس این آر او کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
یاد رہے کہ 12 دسمبر کو خیبر پختونخوا اسمبلی نے صوبائی وزرا کی تنخواہ، الاؤنس اور مراعات کا ترمیمی بل 2022 اپوزیشن بنچوں کے احتجاج کے باوجود منظور کر لیا۔ اپوزیشن ارکان نے بل کو عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس اقدام کا مقصد عمران خان اور محمود خان سمیت ان لوگوں کو ’استثنیٰ‘ فراہم کرنا ہے جنہوں نے صوبائی حکومت کے ہیلی کاپٹر کا غیر قانونی استعمال کیا۔ وزیر محنت و ثقافت شوکت علی یوسفزئی کی جانب سے پیش کیا گیا بل اپوزیشن ارکان کی تجویز کردہ ترامیم کو مسترد کرنے کے بعد ایوان سے منظور کر لیا گیا۔ رکن اسمبلی متحدہ مجلس عمل عنایت اللہ نے مجوزہ ترامیم کی شکست کے بعد کہا کہ ’اس ترمیم شدہ بل کے سنگین اثرات ہوں گے کیونکہ اس سے صوبائی اسمبلی میں اکثریت رکھنے والی کسی بھی جماعت کے لیے ماضی میں کیے گئے ’جرائم‘ کو تحفظ دینے کا راستہ کھل جائے گا۔
موجودہ قانون میں تبدیلیوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے ترمیم شدہ بل کے سیکشن 7 بی (7) کو سرکاری ہیلی کاپٹروں کا غیر قانونی استعمال کرنے والوں کے لیے قانونی جواز فراہم کرنے کی کوشش قرار دیا۔ ترمیم شدہ بل کے سیکشن 7 بی (7) میں کہا گیا کہ ’یکم نومبر 2008 سے یہ بل پیش کیے جانے تک وزیر اعلیٰ، وزیر، مشیر، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی، سرکاری ملازم یا اس کا کوئی معاون عملے کی جانب سے سرکاری دوروں یا سیر و سیاحت کے لیے صوبائی حکومت کے ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر کا استعمال جائز سمجھا جائے گا اور اس ایکٹ کے تحت ان سے کوئی پوچھ گچھ نہیں کی جائے گی‘۔ رکن اسمبلی عنایت اللہ نے اعلان کیا کہ اگر ترمیمی بل متعلقہ ہاؤس کمیٹی کو نہیں بھیجا گیا اور اسے منظور کر لیا گیا تو اپوزیشن اراکین اسے عدالت میں چیلنج کریں گے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سردار حسین بابک نے کہا کہ ہیلی کاپٹر کا استعمال غیر قانونی طور پر کیا گیا لیکن اب ایوان میں اپنی اکثریت کا غلط استعمال کرتے ہوئے اس عمل کو قانونی تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپیکر کو چاہیے کہ وہ بل کو متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھیجیں یا اس حوالے سے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دے کیونکہ مجوزہ ترمیم کا کوئی جواز پیش نہیں کیا جا سکتا۔مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی سردار یوسف نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام قانون میں ان ترامیم پر حکومت کو کبھی معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اس بل کو واپس لے یا اسے بحث اور سفارشات کے لیے متعلقہ کمیٹی کو بھیجے اور اس بارے میں ایوان اور عوام کو اعتماد میں لے۔
تاہم شوکت علی یوسفزئی نے اپنا مؤقف دیا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت کو یہ کام محض اپنے لیے کرنا ہوتا تو بل میں درج مدت کا آغاز ’2013‘ سے ہوتا۔ انہوں نے قومی احتساب بیورو قانون میں ہونے والی ترامیم پر اپوزیشن کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا، ان کا کہنا تھا کہ ’جب نیب قوانین میں ترمیم کی جارہی تھیں تب اپوزیشن ارکان خاموش رہے اور عوام کی پرواہ نہ کی لیکن اب انھیں تکلیف ہو رہی ہے۔ صوبائی وزیر برائے محنت شوکت یوسف زئی نے ترمیمی بل سے متعلق موقف اپنایا کہ سرکاری ہیلی کاپٹر وزیراعلیٰ اور وزرا اہم امور کے لیے استعمال کرتے ہیں جس سے وقت کی بچت ہوتی ہے، حال ہی میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا گیا اور متاثرین کی امداد کی گئی، انہوں نے کہا کہ ہم نے کبھی نواز شریف کی طرح ناشتہ منگوانے کے لیے ہیلی استعمال نہیں کیا۔ شوکت یوسف زئی نے بتایا کہ’2008 سے ہیلی کاپٹر کا استعمال ہوا لیکن اس وقت ہماری حکومت نہیں تھی ہم تو 2013 میں اقتدار میں آئے ہیں۔
دوسری جانب مسلم لیگ ن کے ایم پی اے اختیار ولی نے نئی ترمیم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ہیلی کاپٹر کو رکشہ بنایا ہوا ہے، عوام کے پیسوں پر عمران سرکاری ہیلی کا استعمال کرتے آئے ہیں۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ’اس بل کے ذریعے ہیلی کاپٹر کے غیر قانونی استعمال کو قانونی راستہ دیا گیا ہے تا کہ اس کے خلاف کوئی انکوائری نہ کی جا سکے۔ واضح رہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین کی ہدایت پر نیب نے ہیلی کاپٹر کے مفت استعمال سے متعلق تفصیلات جمع کی تھیں جن کے مطابق عمران خان نے 137 مرتبہ سرکاری ہیلی کاپٹر پر سفر کیا تھا۔ عمران کے سفر پر سرکاری ریٹ کے مطابق 5 کروڑ 55 لاکھ 67 ہزار روپے اور کمرشل ریٹ کے مطابق 6 کروڑ 39 لاکھ 2 ہزار روپے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا۔نیب کی ایک فہرست کے مطابق عمران خان سمیت 1800 افراد نے ہیلی کاپٹر استعمال کیا تھا۔
