این اے 75 ڈسکہ: ن لیگی امیدوار نے پریذائیڈنگ افسران کی ساکھ پر سوال اٹھا دیا

قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں پاکستان مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار نے پریذائیڈنگ افسران کی ساکھ پر سوال اٹھا دیا۔
تفصیلات کے مطابق ڈسکہ ضمنی انتخاب میں ن لیگ کی طرف سے خاتون امیدوار نوشین افتخار نے چیف الیکشن کمشنر کو ایک خط تحریر کیا ہے، جس میں انہوں نے لکھا کہ یوسی جڑانوالہ کے چند پولنگ اسٹیشنز کے پریذائیڈنگ افسران کی ساکھ پر شکوک و شبہات ہیں، خدشات ہیں کہ پرائیزائیڈنگ افسران فارم 45 میں ردو بدل کر سکتے ہیں، اس ضمن میں پولنگ اسٹیشن نمبر 121، 122، 123، اور 124 پر شکوک و شبہات ہیں، اس لیے صورت حال سے نمٹنے کےلیے خصوصی طریقہ کار بنایا جائے، افسران پر دھاندلی کی روک تھام کےلیے سخت نگرانی کی جائے۔
دوسری طرف این اے 75 ڈسکہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں اسلحہ کی نمائش کرنے پر 9 افراد کو گرفتار کرلیا گیا، ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ملزمان کو پولیس اور رینجرز نے گرفتار کیا، گرفتار کیے گئے ملزمان کا تعلق ن لیگ اور پی ٹی آئی سے ہے، ملزمان سے 2 رائفل، آٹو گن اور 2 پستول برآمد کیے گئے، گرفتار افراد سے ڈی ایس پی پنڈی بھٹیاں تفتیش کر رہے ہیں، علاوہ ازیں ڈسکہ ضمنی الیکشن، ن لیگی رہنما عطا تارڑ کا حساس پولنگ اسٹیشن گوئندکے کا دورہ کیا، اس موقع پر پی ٹی آئی کارکنان کے جمع ہونے پر ن لیگی رہنما عطا تارڑ کی ان سے تلخ کلامی ہوگئی، عطا تارڑ اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں دھکم پیل بھی ہوئی۔
خیال رہے کہ گزشتہ کچھ عرصہ سے ملکی سیاست میں توجہ کا مرکز بننے والے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 75 ڈسکہ میں ضمنی الیکشن کےلیے پولنگ کا عمل جاری ہے ، جو کہ بنا کسی تعطل کے شام 5 بجے تک جاری رہے گا، این اے 75ڈسکہ میں پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارعلی اسجد ملہی اور پاکستان مسلم لیگ ن کی امیدوار نوشین افتخار میں کانٹے کا مقابلہ ہے، اس کے علاوہ تحریک لبیک پاکستان کے امیدوار خلیل سندھو بھی انتخابی میدان میں موجود ہیں، ضمنی انتخاب کے دوران حلقہ میں عام تعطیل کی گئی ہے اور امن وامان کو برقرار رکھنے کےلیے سکیورٹی کے بھی انتہائی سخت انتظامات کیے گئے ہیں، اس مقصد کےلیے رینجرز اور پولیس کے دستوں کو تعینات کیا گیا ہے، حلقے میں مجموعی طور پر 360 پولنگ اسٹیشنز قائم کیے گئے ہیں جن میں سے 47 کو حساس قرار دیا گیا ہے۔
