ایوب خان نے جرنیلوں کو سیاست کا چسکا کیسے لگایا؟


بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ پاکستان میں پہلا مارشل لاء نافذ کرنے والے فیلڈ مارشل محمد ایوب خان میں شروع دن سے ہی سیاست کے جراثیم تھے جنہیں بھانپتے ہوئے بانی پاکستان محمد علی جناح نے اسے بطور کرنل کمانڈ پوزیشن سے ہٹا کر مشرقی پاکستان ٹرانسفر کر دیا تھا، اس دوران ایوب کے کورٹ مارشل کا بھی فیصلہ ہوا تاہم وہ بچ گیا۔ لیکن جناح کی وفات کے بعد ایوب کے اندر موجود سیاسی کیڑا پاکستان میں پہلے مارشل لاء کا باعث بن گیا۔ بعد ازاں یہی سیاسی وائرس ایوب خان کے بیٹے گوہر ایوب خان اور پھر ان کے بیٹے عمر ایوب خان میں منتقل ہوا۔
تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے کچھ عرصے بعد سردار عبدالرب نشتر نے ایوب خان کے بارے میں ایک فائل قائد اعظم کو بھجوائی اور نوٹ میں لکھا کہ ایوب خان مہاجرین کی بحالی اور ریلیف کے بجائے سیاست میں دلچسپی لیتا ہے اس پر قائد اعظم نے فائل پر یہ آرڈر لکھا: ’’میں اس آرمی افسر کو جانتاہوں۔ یہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاسی معاملات میں دلچسپی لیتا ہے ۔ اس کو فوری مشرقی پاکستان ٹرانسفر کیا جاتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ ایک سال تک کسی کمانڈ پوزیشن پر کام نہیں کرے گا اور اس مدت کے دوران بیج بھی نہیں لگائے گا۔ ‘‘
بحوالہ:کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل، مصنف: قیوم نظامی
لیکن قائد اعظم کا ایوب خان کے بارے میں غصہ بعد میں بھی ٹھنڈا نہ ہوا اور جب وہ ڈھاکہ گئے اور انھیں فوجی سلامی دی گئی تو انھوں نے ایوب خان کو اپنے ساتھ کھڑے ہونے سے روک دیا۔
بحوالہ:کتاب: گوہر گزشت،مصنف: الطاف گوہر
دراصل تقسیم کے زمانے میں امرتسر میں ہندومسلم فسادات پر قابو پانے کے لیے ایوب خان کو ذمہ داری سونپی گئی تھی مگر وہ وہاں جا کر مہاراجہ پٹیالہ کی محبوبہ پر عاشق ہو گیا اور اپنا بیشتر وقت اسکے ساتھ گزارنے لگا اور فسادات پہ کوئی توجہ نہیں دی۔ اس پر قائد آعظم نے سزا کے طور پر انکو ڈھاکہ بھیجا تھا۔
بحوالہ:کتاب: گوہر گزشت،مصنف: الطاف گوہر
اپنی اس تنزلی پر ایوب خان بہت رنجیدہ ہوا اور اس نے قائد آعظم کے احکامات کے برخلاف اسوقت کے فوجی سربراہ سے رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس حوالے سے انہوں نے اپنے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی سے مدد مانگی۔ شیر علی خان پٹودی پہلی فرصت میں کراچی سے راولپنڈی گئے اور کمانڈر انچیف سر فرینک میسروی سے اپنے دوست کی سفارش کی لیکن بات بنی نہیں۔
بحوالہ:کتاب: گوہر گزشت،مصنف: الطاف گوہر
لیکن بد نصیبی یہ ہے کہ جس ایوب خان سے قائداعظم اسقدر نالاں تھے اسی ایوب خان کو لیاقت علی خان نے اسوقت کے سینئرترین جنرل، جنرل افتخار پر فوقیت دے کر فوج کا سربراہ بنا دیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس حوالے سے بھی انکے دوست بریگیڈیئر شیر علی خان پٹودی اور دیگر رفقاء نے اہم کردار ادا کیا۔ اور بد نصیبی دیکھئے، وہی ایوب خان پاکستان کا پہلا مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بنا اور ملک پر گیارہ سال گک حکومت کرتا رہا۔
بحوالہ:کتاب: The Crossed Sword،مصنف: شجاع نواز
قائد اعظم خاص جمہوری انداز میں مملکت چلانا چاہتے تھے۔ اور اسی حوالے سے کسی کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ اس حوالے سے قائد اعظم نے ایک اور فوجی افسر اکبر خان کے مشوروں سے زچ ہو کر اس سے کہا تھا کہ آپ کا کام پالیسی بنانا نہیں، حکومت کے احکامات کی تعمیل کرنا ہے۔ اور بعد ازاں وہی جنرل اکبر وزیر اعظم لیاقت علی خان کے خلاف بغاوت کے جرم میں گرفتار ہوا اور تقریباََ پانچ سال جیل میں رہا۔ مذید بد نصیبی دیکھئیے، عدالت سے غداری کی سزا پانے والے، اسی جنرل اکبر کو 1973 میں بھٹو مرحوم قومی سلامتی کونسل کا رکن نامزد کر دیتے ہیں۔
بحوالہ:کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل،مصنف: قیوم نظامی
کہتے ہیں کہ بانی پاکستان جون 1948 میں سٹاف کالج کوئٹہ گئے تو وہاں گفتگو کے دوران انکو اندازہ ہوا کہ اعلیٰ فوجی افسران اپنے حلف کے حقیقی معنوں سے واقف نہیں ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے اپنی لکھی ہوئی تقریر ایک طرف رکھ کے فوجی افسران کو یاددہانی کے طور پر ان کا حلف پڑھ کر سنایا، اور انہیں احساس دلایا کہ انکا کام حکم دینا نہیں صرف حکم ماننا ہے۔
بحوالہ:کتاب: قائد اعظم بحیثیت گورنر جنرل،مصنف: قیوم نظامی
بعد کے ادوار میں فوجی جرنیلوں نے اس حلف کی اتنی خلاف ورزی کی کہ ائیر مارشل اصغر خان کو لکھنا پڑا کہ میری تجویز ہے کہ اگر ہم پر جرنیلوں ہی نے حکمرانی کرنی ہے تو یہ الفاظ حلف سے حذف کردیے جائیں: ’’ْمیں کسی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں، خواہ ان کی نوعیت کچھ بھی ہو، حصہ نہیں لوں گا۔‘‘
بحوالہ:کتاب: جنرل اور سیاست،مصنف: اصغر خان
جنرل گریسی جب اپنے پیشہ ورانہ دورے پر لاہور گئے تو کرنل ایوب کو دیکھا اور بلا کو پوچھا کہ "آپ کو تو ڈھاکہ میں رپورٹ کرنی تھی تو آپ یہاں کیا کر رہے ہیں”جس پر ایوب خان نے کہا کہ وہ کراچی وزیر اعظم لیاقت علی خان سے ملنے جا رہے ہیں۔۔اس پر جنرل گریسی نے ایوب کے کورٹ مارشل کے آرڈر کیئے اور انہیں اپنے ساتھ کراچی لے آئے۔ تاہم ایوب کے تعلقات نے اسے کورٹ مارشل سے بچا لیا۔
بحوالہ میموریز آف اے سولجر ۔۔جنرل وجاہت حسین”سیکریٹری جنرل گریسی”
برطانوی فوج کی نوکری کے دوران ایوب خان کا کیا کردار رہا آئیے اس پر بھی روشنی ڈالتے ہیں: کہتے ہیں کہ تاجِ برطانیہ نے تقسیم ہند کے وقت فسادات کی روک تھام کے لیئے پنجاب باؤنڈری فورس تشکیل دی جس کا ہیڈ آفس لاہور میں تھا ۔پاکستان سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان کرنل کو بھی اس باؤنڈری فورس میں اہم عہدہ دیا گیا ۔ایک روز خبر ملی کہ بھارت سے پاکستان کی طرف آنے والے مہاجرین کی ٹرین کو مشرقی پنجاب میں روک کر تمام مسافروں کو قتل کر دیا گیا ہے اور اس ٹرین کی حفاظت پر مامور پاکستانی کرنل خاموش تماشائی بنے رہے۔یہ خبر سنتے ہی لوگ مشتعل ہوگئے ،اس بات کا امکان پیدا ہوگیا کہ غصے میں بپھرے ہوئے لوگ راولپنڈی میں اس کرنل کے گھر کو نذرآتش نہ کردیں ،حالات اس قدر سنگین ہوئے کہ ممکنہ خدشات کے پیش نظر گھر میں موجود اس کرنل کی اہلیہ اور بچوں کو ایک اور فوجی افسر کی رہائشگاہ پر منتقل کرنا پڑا۔اس کرنل کا نام ایوب خان تھا۔
کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق عسکری حکمت عملی کے اعتبار سے کرنل ایوب خان اوسط درجے کا افسر تھا ۔دوسری جنگ عظیم کے دوران برما میں تعینات آسام رجمنٹ کے کمانڈنٹ کرنل ڈبلیو ایف براؤن کی ہلاکت کے بعد رجمنٹ کی کمان کرنل ایوب خان کو سونپی گئی مگر جنگی حکمت عملی میں بزدلانہ ناکامی کے بعد کمان واپس لیکر نہ صرف بھارت بھیج دیا گیا بلکہ ملازمت سے برطرف کرنے کی سفارش بھی کی گئی۔
اور پھر ایک ایسا فوجی افسرجسے نااہلی کے باعث فوج سے نکالنے کا فیصلہ ہو چکا تھا ،قیام پاکستان کے بعد اس کی صلاحیتیں ایسی نکھر کر سامنے آئیں کہ اس نے 4 سال کے مختصر عرصہ میں نہ صرف کرنل سے جنرل تک ترقی کا سفر باآسانی طے کرلیا بلکہ سنیئر فوجی افسروں کو مات دیکر سپہ سالار بننے میں کامیاب ہوگیا۔
لیکن سوال یہ ہے کہ یہ سب کیسے ممکن ہوا؟جنرل گریسی کی مدت ملازمت ختم ہونے سے پہلے ہی ان کے جانشین کے طور پر میجر جنرل افتخار خان کا انتخاب ہو چکا تھا ،کمانڈر انچیف نامزد ہونے پر جنرل افتخار کو امپیریل ڈیفنس کورس کے لیئے برطانیہ بھیجا گیا ،بریگیڈیئر شیر خان جو ڈی ڈی ایم او تھے اور اب انہیں میجر جنرل کے عہدے پر ترقی دی جانا تھی ،وہ بھی کورس کے لیئے برطانیہ جا رہے تھے ۔ جنرل افتخار اوریئنٹ ایئرویز کی لاہور سے کراچی جانے والی فلائٹ پر سوار ہوئے تو ان کے اہلخانہ کے علاوہ بریگیڈئر شیر خان بھی اسی جہاز میں سوا رتھے ،یہ جہاز اپنی منزل کے قریب پہنچ کر کراچی کے نواحی علاقے جنگ شاہی میں گر کر تباہ ہوگیا اور تمام مسافر لقمہ اجل بن گئے۔
پاکستان کی عسکری وسیاسی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ یہ حادثہ پیش نہ آتا اور جنرل افتخار کمانڈر انچیف بننے سے پہلے شہید نہ ہوتے تو آج پاکستان کی تاریخ مختلف ہوتی کیونکہ ایوب خان کے برعکس جنرل افتخار اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے غیر سیاسی جرنیل تھے۔ لیکن ستم یہ ہے کہ پاکستان میں پہلا مارشل لاء نافذ کرنے والے جنرل ایوب خان کا بیٹا گوہر ایوب اور پھر آگے اس کا بیٹا عمر ایوب آج بھی ملکی سیاست میں سرگرم عمل ہیں۔

Back to top button