ایکدوسرے کو چھوڑنے میں PDM اورPPP کا کتنا نقصان ہے؟

پیپلز پارٹی کی جانب سے اسمبلیوں سے استعفے دینے سے انکار کے بعد اب پی ڈی ایم کی دیگر اتحادی جماعتیں مائنس پی پی پی استعفے دے کر لانگ مارچ کرنے کے امکان پر غور کر رہی ہیں۔ تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی کے بغیر پی ڈی ایم اور پی ڈی ایم کے بغیر پیپلز پارٹی دونوں ہی گھاٹے کا سودا کریں گی اور نقصان میں رہیں گی۔ اگر پیپلز پارٹی استعفوں کے معاملے پر اپوزیشن اتحاد سے الگ ہو جائے تو اس کی سیاسی ساکھ کو شدید نقصان پہنچنے گا اور اس پر اسٹیبلشمنٹ کا کھیل کھیلنے کا الزام عائد ہوگا۔۔
دوسری جانب اگر نواز لیگ کے منتخب اراکین اسمبلی مستعفی ہو جائیں اور پیپلزپارٹی ایسا نہ کرے تو حکومت خالی سیٹوں پر ضمنی الیکشن کروانے کی پوزیشن میں ہوگی جس سے استعفوں کا وار ضائع ہو جائے گا۔ اس صورتحال میں اپوزیشن اتحاد کو برقرار رکھنے کا واحد حل یہی نظر آتا ہے کہ پی ڈی ایم کی قیادت لانگ مارچ تو کرے لیکن استعفوں کے معاملے پر ابھی انتظار کر لے۔ پیپلزپارٹی کا پہلے ہی موقف ہے کہ اس نے لانگ مارچ سے پیچھے ہٹنے کا کویی فیصلہ نہیں کیا اور اسے مولانا فضل الرحمان نے رمضان کی آمد کی وجہ سے ملتوی کیا ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کا موقف ہے کہ وہ استعفوں کے معاملے پر اپنی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں دوبارہ سے بحث کرے گی لیکن غالب امکان یہی ہے کہ آخری فیصلہ ایک مرتبہ پھر پارلیمنٹ کے اندر رہ کر سیاسی جدوجہد کرنے کے حق میں آئے گا۔
لیکن 16مارچ کے پی ڈی ایم سربراہی اجلاس کے بعد سے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کی قیادت کے مابین لفظی جنگ کا آغاز ہو چکا ہے جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ شدت آتی چلی جا رہی ہے اور اپوزیشن اتحاد کا مستقبل مزید مخدوش ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اس جنگ کا آغاز مریم نواز کی ایک ٹویٹ سے ہوا جس میں انہوں نے لکھا کے اسٹیبلشمنٹ اب سلیکٹڈ کے سافٹ متبادل پر کام کر رہی یے۔ اس ٹویٹ سے یہ تائثر ملا کہ انہوں نے بلاول بھٹو کی طرف اشارہ کیا ہے۔ مریم کے اس ٹویٹ کا جواب بختاور بھٹو نے دیا اور کوئی نام لیے بغیر ایک جاہل کو مخاطب کرتے ہوئے آصف زرداری کی سیاسی جدوجہد یاد دلائی اور انکی قربانیاں گنوائیں۔ تاہم معاملہ تب اور بھی خراب ہوگیا جب 22 مارچ کو لاہور میں صحافیوں نے بلاول بھٹو سے مریم کی اسی ٹویٹ کے حوالے سے سوال کیا۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے پیپلز پارٹی اور نواز لیگ میں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے عہدے کے حصول کے لئے کھلی جنگ کا آغاز ہو چکا تھا۔ بلاول بھٹو نے مریم کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے پہلے تو یہ کہا کہ نواز لیگ کی نائب صدر کی بات کا جواب پیپلزپارٹی کا نائب صدر دے گا۔ تاہم جب ایک صحافی کی جانب سے سوال دہرایا گیا تو بلاول غصے میں آگئے اور بولے کہ ہمارا خاندان نہ تو کبھی سلیکٹرز سے مل کر کھیلا ہے اور نہ کبھی ان کی مدد سے اقتدار حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا میری رگوں میں سلیکٹ ہونے والا خون نہیں اور وہ لاہور کا ایک خاندان ہے جو سلیکٹرز سے مل کر اقتدار کا کھیل کھیلتا رہا۔ ان کا واضح اشارہ شریف خاندان کی جانب تھا۔
ان حالات میں اب پی ڈی ایم اپوزیشن الائنس اپنی تشکیل کے کچھ ہی ماہ بعد ایک دوراہے پر کھڑا نظر آتا ہے اور اس کی دو بڑی اتحادی جماعتیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا نظر آتی ہیں۔ آصف زرداری پارلیمینٹ میں رہ کر حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے خواہش مند ہیں جب کہ باقی جماعتیں پارلیمانی جدوجہد کو فائدہ مند تصور نہیں کرتیں اور پارلیمنٹ کو بے وقعت قرار دیتی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ اسمبلیوں سے استعفے دے کر حکومت کے لیے بحران پیدا کیا جائے تاکہ وہ نہئے الیکشن کروانے پر مجبور ہو جائے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ نئے الیکشن کی صورت میں بھی پیپلز پارٹی کو تو صرف سندھ کی حد تک ہی حکومت ملنے کا امکان ہے کیونکہ پی ڈی ایم کو ابھی تک اپوزیشن اتحاد نہیں بنایا گیا اور نہ پی ہی ہی اور ن لیگ میں 2008 جیسا کوئی شرکت اقتدار کا فارمولا طے کیا گیا یے۔ دوسری جانب پیپلزپارٹی کا یہ موقف بھی ہے کہ اگر نواز لیگ کی پنجاب میں حکومت ہوتی تو کیا وہ مستعفی ہوتی جیسا کہ پیپلزپارٹی سے مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن اتحاد میں ان بڑھتے ہوئےاختلافات کی وجہ سےحکومت کو قدرے سکون کا سانس لینے کا موقع ملا ہے جو اپوزیشن کے لانگ مارچ سے کافی گھبرائی ہوئی تھی۔ لیکن دوسری جانب مولانا فضل الرحمن میاں نواز شریف کے ساتھ مل کر مائنس پیپلزپارٹی استعفے دینے اور لانگ مارچ کرنے کے منصوبے پر غور کر رہے ہیں۔ بتایا گیا یے کہ پی ڈی ایم کے آخری سربراہی اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کا رویہ بڑا جارہانہ تھا کیونکہ وہ سینیٹ میں مولانا غفور حیدری کی شکست پر بڑے برہم تھے۔ مولانا نے پارلیمنٹ سے مستعفی ہوئے بغیر لانگ مارچ کرنے کی شدت سے مخالفت کی حالانکہ پیپلزپارٹی استعفے دیئے بغیر لانگ مارچ کرنے کو تیار تھی۔ نواز شریف، جو سیاست میں اپنی کشتیاں پہلے ہی جلا چکے ہیں، نے بھی اپنا وزن مولانا فضل الرحمان کے پلڑے میں ڈال دیا۔ اپوزیشن جماعتوں کے پرزور اصرار پر آصف زرداری نے اس معاملے کو اپنی پارٹی کی سی ای سی میں رکھنے اور فیصلے کے لئے کچھ وقت مانگ لیا لیکن آثار یہی دکھائی دے رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی اپنے موقف پر قائم رہے گی۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرداری سیاست کے میدان کے بڑے گھاگ کھلاڑی ہیں۔ وہ پی ڈی ایم کی جارحانہ سیاست کے برعکس مفاہمتی سیاست کرتے ہیں۔ 14 برس جیل کاٹنے والے زرداری صاحب کو ماضی میں اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکی دینے کے بعد جو پریشانی اٹھانا پڑی تھی، وہ بھی ان کے ذہن میں موجود ہے۔ اب وہ پھونک پھونک کر اپنے قدم آگے بڑھا رہے ہیں اور نہیں چاہتے کہ جارحانہ انداز سیاست اپنا کر بلاول کے مستقبل کو بھی داؤ پر لگا دیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے آصف زرداری کی اب تک کی سیاسی حکمت عملی کافی کامیاب رہی ہے اور ان کا خیال ہے کہ وہ آئندہ بھی پارلیمنٹ کے اندر رہ کر ہی سیاسی چالوں کے ذریعے حکومت کو مات دے پائیں گے۔ اپنی سیاسی چالوں سے زرداری نے نہ صرف یوسف رضا گیلانی کو سینٹر منتخب کروا لیا بلکہ انہیں سینیٹ کا چیئرمین بھی بنوانے جارہے تھے لیکن سات ووٹوں کا پھڈا پڑ گیا وگرنہ سینیٹ الیکشن کے بعد حکومت کی رخصتی کے واضح آثار نمایاں ہو چکے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا پی ڈی ایم اتحادی جماعتیں مائنس پیپلزپارٹی استعفے دے کر لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کرتی ہیں یا نہیں اور کیا پیپلز پارٹی آگے چل کر اپوزیشن اتحاد میں شامل رہتی ہے یا نہیں۔
مبصرین کے مطابق اگر پیپلز پارٹی اپوزیشن اتحاد سے الگ ہو جاتی ہے تو یہ اس کے لئے بڑے گھاٹے کا سودا ہو گا۔ کیونکہ اس طرح ایک طرف اس کی بارگیننگ پوزیشن قدرے کمزور ہو جائے گی اور دوسری طرف سیاسی طور پر بھی اسکی ساکھ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
یہ بھی سچ یے کہ پیپلز پارٹی نے پی ڈی ایم میں رہ کر بڑی بڑی کامیابیاں سمیٹی ہیں۔ یوسف رضا گیلانی کا اسلام آباد سے سینیٹر منتخب ہونا اپوزیشن اتحاد کا مرہون منت تھا۔ درحقیقت اب اس کی نظریں پنجاب کی سیاست پر تھیں اور وہ نون لیگ کی مدد سے بزدار سرکار کو ہٹا کر چوہدری پرویز الٰہی کو پنجاب کے تخت پر بٹھانے کی خواہش مند تھی۔ اس طرح پیپلز پارٹی پنجاب میں اپنے قدم جمانے کی کوششوں میں مصروف تھی لیکن نواز شریف نے آصف زرداری کی اس خواہش پر پانی پھیرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے سے صاف انکار کر دیا۔ دراصل نواز شریف چوہدری پرویزالٰہی کی صورت میں اسٹیبلشمنٹ کے ڈھول کو اپنے گلے میں نہیں ڈالنا چاہتے تھے۔ میاں صاحب کو اس بات کا بھی اندیشہ تھا کہ پیپلز پارٹی چوہدری برادران کے ساتھ مل کر مستقبل کی سیاست میں پنجاب کی حد تک نون لیگ کے لئے خطرہ بن سکتی ہے۔ اسی لئے باوجود اس کے بلاول نے حمزہ شہباز کو رام کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن شریف خاندان نے پنجاب میں تبدیلی کے خلاف فیصلہ دے دیا۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی اپوزیشن اتحاد سے نکلتی ہے تو پی ڈی ایم کو بھی اس کا بڑا سیاسی نقصان ہوگا اور اس کی افادیت وہ نہیں رہے گی جو اس کے قیام کے وقت تھی۔ یاد رہے کہ سنھ میں حکومت کرنے والی پیپلزپارٹی اس وقت سینیٹ میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے جس کے قومی اسمبلی میں بھی بڑی تعداد میں اراکین موجود ہیں۔ لہذا اگر اپوزیشن اتحاد پی پی پی کے بغیر لانگ مارچ کرنا چاہے تو اس میں سندھ کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوگی اور یوں حکومت مخالف تحریک ایک ملک گیر تحریک ہونے کا تاثر قائم نہیں کر پائے گی۔ لہذا پیپلزپارٹی پی ڈی ایم چھوڑے یا پی ڈی ایم والے پیپلز پارٹی کو چھوڑ دیں، دونوں صورتوں میں دونوں کا نقصان ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button