لاک ڈاؤن کا خاتمہ: ایکسپورٹرز نے حکومت پر دباؤ بڑھادیا

ٹیکسٹائل اور چمڑے سے وابستہ ایکسپورٹرز نے برآمدی آرڈرز پورا کرنے کےلیے حکومت سے کام کرنے کی اجازت دینے کا مطالبہ کردیا۔ علاوہ ازیں انہوں نے زور دیا کہ دیگر صوبائی حکومتوں نے تاجروں کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے۔
برآمد کنندگان نے بتایا کہ سندھ حکومت 125 ٹیکسٹائل اور چمڑے کے برآمد کنندگان کو اجازت دینے میں سستی کا مظاہرہ کررہی ہے۔
خیال رہے کہ کمشنر ملتان ڈویژن نے 15 کے قریب ٹیکسٹائل یونٹوں کو اپنے برآمدی آرڈروں کی تکمیل 14 اپریل تک مکمل کرنے کی اجازت دے دی ہے جب کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر حکومت پنجاب کے جاری کردہ حفاظتی اقدامات اور معیاری آپریٹنگ طریقہ کار پر سختی سے عمل کیا جارہا ہے۔
اسی طرح کمشنر لاہور ڈویژن نے نشاط ملز کو 31 مارچ تک برآمدی آرڈروں کےلیے کارخانے فعال کرنے کی اجازت دے دی۔
خیبرپختونخوا میں بھی 31 مارچ سے محکمہ صنعت، تجارت اور تکنیکی تعلیم سمیت ٹیکسٹائل ایکسپورٹ یونٹ اور جانوروں کی فیڈ ملز، پی وی سی پائپ، زراعت سے متعلق صنعت، صحت عامہ اور صفائی ستھرائی، دفاع اور توانائی سے متعلق صنعتوں کو عام تعطیلات سے مستثنیٰ قرار دے دیا تھا۔
واضح رہے کہ برآمد کنندگان نے مذکورہ معاملہ اسلام آباد میں وزیر خزانہ کے سامنے اٹھایا جس میں ٹیکسٹائل اور چمڑے کو اجازت دینے کے معاملے پر تبادلہ خیال ہوا۔
کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران آل پاکستان کسٹمز کلیئرنگ ایجنٹس ایسوسی ایشن، آل سٹی تاجیر اتحاد، کراچی ٹمبر گروپ ، کراچی آئرن اینڈ اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن اور آل پاکستان ٹمبر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے عہدیداروں کے ایک گروپ نے روز دیا ک کہ تقریبا 16 سو کنٹینرز ہر روز درآمدی سامان لے جانے والے بندرگاہ پر پہنچتے ہیں لیکن لاک ڈاؤن شروع ہونے کے بعد سے اب تک 20 ہزار کنٹینر جمع ہوچکے ہیں۔
انہوں نے 15 مارچ سے 15 اپریل تک اضافی چارجز کے علاوہ کنٹینرز پر چارجز واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
لاہور میں چھوٹے تاجروں اور دکانداروں نے مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف سے ملاقات میں زور دیا کہ وہ ان کی مالی پیکج کے حصول میں مدد کریں۔
آل پاکستان انجمن تاجران پاکستان کے جنرل سیکریٹری نعیم میر نے ڈان کو بتایا ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران ہم نے اپوزیشن لیڈر کو ان مشکل صورتحال سے آگاہ کیا جن کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہم نے شہباز شریف کو بتایا کہ میڈیکل اور فوڈ چین کے علاوہ تمام کاروبار بند ہیں اور سب سے زیادہ متاثرہ دوکاندار ہیں۔
اس بارے میں تنظیم تاجران پاکستان کے چیف کاشف چوہدری تبصرہ کرنے سے گریزاں رہے۔
