ایکسپو سینٹر لاہور کے فیلڈ اسپتال کی حالت زار سے مریض پریشان

کورونا وائرس کے پاکستان میں پنچے گاڑھنے کے بعد ملک میں قائم سرکاری قرنطینہ مراکز سے بد انتظامی کی شکایات مسلسل آرہی ہیں، حال ہی میں ایکسپو سینٹر لاہور میں قائم فیلڈ اسپتال سے کورونا مریضوں کی جانب سے احتجاج کی خبریں سامنے آئیں جس پر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے احتجاج کا روایتی نوٹس بھی لیا تھا۔
ایکسپو سینٹر لاہورمیں داخل مریضوں نے شکایت کی ہے کہ غسل خانے میں ہر وقت پانی کھڑا رہتا ہے اور یہاں داخل تمام افراد کورونا کے مصدقہ مریض ہیں، اس پانی میں کورونا وائرس کی موجودگی کا امکان مسترد نہیں کیا جا سکتا نہ ہی وہ جتنی بار غسل خانے میں جاتے ہیں اس سے بچ پاتے ہوں گے۔
تو سوال یہ ہے کہ ایسے میں پھر کیا ان کا ٹیسٹ کبھی منفی آ پائے گا؟ اور کیا ان کا یہ خوف درست ہے کہ وہ کبھی لاہور کے ایکسپو سنٹر فیلڈ اسپتال سے باہر نہیں نکل پائیں گے؟ یہ وہ خدشات ہیں جو یہاں ٹہرائے کے افراد کے اکثر کرتے دکھائی دیتےہیں۔
لاہور کے ایکسپو سنٹر میں رکھے گئے 400 سے زائد کورونا کے مریضوں کی ایک بڑی تعداد گزشتہ چند روز سے مسلسل احتجاج کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ مناظر دیکھنے کو بھی ملے ہیں۔ ایک روز احتجاج کے دوران مشتعل مظاہرین نے ایکسپو سینٹر سے باہر نکلنے کی کوشش میں داخلی گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔
یاد رہے کہ 1050 بستروں پر مشتمل ایکسپو سنٹر کا یہ فیلڈ اسپتال محض 9 روز کے اندر قائم کر دیا گیا تھا۔
احتجاج کرنے والوں کی شکایات بظاہر معمولی نوعیت کی نظر آتی ہیں جیسا کہ کوڑا نہیں اٹھایا جا رہا، صفائی نہیں کی جاتی، کھانا وقت پر نہیں یا ملتا ہی نہیں، ڈاکٹر ڈیوٹی پر موجود نہیں ہوتے اور ایئر کنڈیشنر نہیں چلتا۔
ایکسپو سینٹر میں داخل ایک مریض کا کہنا ہے کہ انہیں یہ بھی خوف ہے کہ ان کے تین کمسن بچے، اہلیہ اور والدہ کو دوسرے اسپتال کے جس وارڈ میں رکھا گیا تھا اس میں تمام دن کورونا وائرس سے مرنے والے شخص کی لاش پڑی رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ اندازہ کریں بچے کتنے ڈر گئے ہوں گے۔ معلوم نہیں اب وہ کس حالت میں ہوں گے۔ آگے ان کے ساتھ معلوم نہیں کیا ہوگا۔ ان تمام شکایات کے پیچھے بڑا خوف یہ ہے کہ وہ اس ایکسپو سینٹر فیلڈ اسپتال سے نکل نہیں پا رہے۔
ایک اور مریض نے انکشاف کیاکہ یہاں اتنا گند ہے کہ اگر یہاں کوئی پورا سال بھی رک جائے اس کا ٹیسٹ منفی نہیں آنے والا۔ انہوں نے بتایا کہ ہال نمبر ایک کا ایک ائیر کنڈیشنر کئی گھنٹوں سے نہیں چل رہا۔ یہ مریض چیخ رہے ہیں کہ اسے چلاؤ ورنہ سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔
ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا ہر سامنے آئی اس میں ایک مریض نے دعویٰ کیا کہ جس کا سرکاری طور کیا گیا ٹیسٹ مثبت آتا ہے وہی اگر نجی لیبارٹری کے عملے کو بلا کر ٹیسٹ کروائے تو منفی آ جاتا ہے۔ ویڈیو میں انہوں نے نجی لیبارٹری کا عملہ اسپتال کے باہر موجود بھی دکھایا تھا۔
مگر سوال یہ ہے کہ فیلڈ اسپتال کی انتظامیہ کیوں چاہے گی کہ وہاں موجود مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو نہ جائیں؟ اگر وہ ایسا نہ چاہتی تو مریضوں کو شکایات کیوں ہیں؟
سی ای او میو اسپتال لاہور ڈاکٹر اسد اسلم جن کے زیر انتظام ایکسپو سینٹر مرکز بھی ہے۔ لاہور میں کورونا کے مصدقہ مریضوں کو اسپتالوں میں منتقل کرنے کی ذمہ داری بھی انہی کے پاس ہے۔
ایکسپو سنٹر کے احتجاج کے حوالے سے ڈاکٹر اسد اسلم کا کہنا تھا کہ یہ احتجاج نہیں تھا۔ بنیادی طور پر یہ لوگ گھروں کو جانا چاہتے ہیں۔ مگر ہم کورونا کے مصدقہ مریضوں کو کیسے گھر جانے دیں۔ وہ جا کر مزید افراد میں وائرس پھیلا دیں گے۔
ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق یہ تاثر درست نہیں ہے کہ ٹیسٹ دانستہ مثبت بتائے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو مسلسل ٹیسٹ منفی آنا ضروری ہے جس کے بعد مریض کو گھر جانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
اس سوال پر کہ ایک ہی مریض کا نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ منفی کیسے آ جاتا ہے اگر اس کا پہلا ٹیسٹ مثبت آیا ہو؟ پر ڈاکٹر اسد اسلم کا کہناتھا کہ ہم ایک دن میں دو منفی ٹیسٹ نہیں مانتے۔ ایک مریض کا ٹیسٹ ایک مرتبہ منفی آنے کے کم از کم دو روز بعد پھر سے منفی آئے تو اس کو کورونا سے پاک مانا جائے گا۔
اگر ایسا نہیں ہوتا یعنی کسی مریض کا ٹیسٹ 14 روز قرنظینہ میں گزارنے کے بعد ایک مرتبہ منفی آئے لیکن دوسری مرتبہ مثبت آ جائے تو اسے پانچ دن مزید قرنظینہ میں گزارنے ہوں گے۔ اس کے بعد پھر دو ٹیسٹ مسلسل منفی آنا ضروری ہوں گے۔
ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق ایکسپو سینٹر سے 199 مریض صحت یاب ہو کر گھروں کو جا چکے ہیں جب کہ 430 لوگ فی الوقت یہاں زیرِ علاج ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدا میں مریضوں کو اپنے خرچ پر نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کروانے کی اجازت دی گئی لیکن اب ختم کر دی گئی ہے۔
ڈاکٹر اسد اسلم کا کہنا ہے کہ صفائی کا نظام مؤثر طریقے سے کام کر رہا ہے لیکن کوڑا اٹھانے سے پہلے باہر ہی اکٹھا کیا جائے گا اب اس وقت کوئی اس کی تصویر بنالے تو ہم کیا کر سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ چونکہ فیلڈ اسپتال ایک ایکسپو سنٹر میں قائم کیا گیا ہے تو فرش پر قالین ویسے نہیں بچھائے جا سکتے اور اس کا فرش اس نوعیت کا ہے کہ اسے دھویا نہیں جا سکتا۔ ‘لیکن اس کو جراثیم سے پاک اور صاف ضرور کیا جاتا ہے۔
ایکسپو سینٹر میں موجود ایک اور مریض کے مطابق رات کے وقت میں مناسب تعداد میں ڈاکٹرز فیلڈ اسپتال میں موجود نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے احتجاج کے بعد اب یہاں ڈاکٹرز نظر آ رہے ہیں۔
تاہم میو اسپتال کے سی ای او ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق سینٹر پر ہر وقت مناسب تعداد میں ڈاکٹرز موجود ہوتے ہیں۔
ہم نے فیلڈ اسپتال کےلیے نئے ڈاکٹروں کی بھرتی کی ہے جو مختلف اوقات میں ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسپتال میں تین ہالز ہیں۔ ہر ہال میں 300 سے زائد مریضوں کی گنجائش ہے۔ ڈاکٹرز چھ گھنٹے کی شفٹ میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مریض جن میں شدید علامات ظاہر ہوں انہیں فوری طور میو اسپتال منتقل کر دیا جاتا ہے۔
اس فیلڈ اسپتال میں زیادہ تر ایسے مریض میں جن میں علامات یا تو نہیں ہیں یا معمولی نوعیت کی ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان مریضوں کے جب تک کورونا سے پاک ہونے کی تصدیق نہیں ہو جاتی انہیں گھر جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ورنہ ’یہ مریض چار سو سے زیادہ خاندانوں کو متاثر کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔‘
