ایک اور اسٹیبلشمنٹ مخالف شمالی علاقوں کی سیر کو روانہ

شمالی علاقہ جات کے ٹور آپریٹرز کی جانب سے ایک مختصر وقفے کے بعد فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ناقد سمجھے جانے والی سوشل میڈیا پر سرگرم شخصیت سرمد سلطان کو خوبصورت وادیوں کی سیر کے لیے اٹھا لیا گیا ہے۔
حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے سرمد سلطان کے اٹھائے جانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے۔ یاد رہے کہ صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک کے رہائشی سرمد سلطان ایم ایس سی ریاضی کے ساتھ ساتھ اردو ادب اور فلسفہ میں ایم اے کر چکے ہیں اور تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ وہ ٹوئٹر پر خاصے سرگرم تھے اور زیادہ تر پاکستان کی تاریخ اور دیگر معاملات پر لکھا کرتے تھے اور اسٹیبلیشمنٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔
سرمد اکثر ماضی میں ہونے والے واقعات کو آج رونما ہونے والے واقعات سے جوڑ کر لوگوں کو یاد دہانی کراتے رہتے تھے اور ان کے تمام تر ٹوئٹس کے نیچے ہیش ٹیگ ’ذرا سوچیے‘ لکھا ہوتا تھا۔ یکم اپریل کو رات گئے جب سرمد سلطان کا نام ٹوئٹر پر ٹرینڈ کرنا شروع ہوا تو ایک لمحے کے لیے سوشل میڈیا صارفین بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوئے کہ شاید اداکار اور ہدایت کار سرمد سلطان کھوسٹ کی کوئی نئی فلم سامنے آئی ہے یا آنے والی ہے۔ تاہم پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سرمد سلطان نامی معروف ٹوئٹر صارف نہ صرف اچانک سے لاپتہ ہو گئے ہیں بلکہ ان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بھی بند کر دیا گیا ہے۔ اس حوالے سے یہ معلومات بھی سامنے آنے لگیں کہ جن دوستوں نے انھیں فون کرنے کی کوشش کی انھیں ان کے دونوں فون بند ملے۔ جب ان کے دوستوں نے ان کے خاندان سے رابطہ کیا تو ان کی اہلیہ نے پہلے بتایا کہ وہ کسی رشتہ دار کی وفات پر تعزیت کے لیے کسی دور دراز علاقے گئے ہوئے ہیں۔ تاہم اس بات پر کالم نگار محمد تقی نے تبصرہ کیا کہ ’یہ کون سا قبائلی علاقہ ہے جہاں فون کا نیٹ ورک نہیں آ رہا؟ اور کچھ نہیں تو کہانی ہی درست کر لیں۔‘
تاہم سرمد سلطان کے قریبی ذرائع نے یہ دعوی کیا ہے کہ ان کو شمالی علاقہ جات کی سیر کے لئے ٹور آپریٹر زبردستی اپنے ساتھ لے گئے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز نے بھی سرمد کی مبینہ گمشدگی پر اپنی رائے کا اظہار کیا ہے۔
اغوا کے بعد سرمد سلطان کا ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کیے جانے کے باوجود سوشل میڈیا پر سرمد کے تاریخ پر تبصرے اور مباحثے اب بھی موجود ہیں جہاں وہ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کے ذریعے پاکستان میں مذہبی انتہا پسندی، مذہبی تعصب اور لسانیت کا تاریخی تناظر میں موازنہ کرتے رہے ہیں۔ وہ ہر روز اپنے 48 ہزار ٹوئٹر فولوورز کو نئی باتیں بتایا کرتے تھے جن کے ذریعے وہ موجودہ نظام پر نکتہ چینی کے ساتھ ساتھ تبصرہ بھی کرتے ہیں۔ سرمد کے لاپتا ہونے کے بارے میں سب سے پہلے ایڈووکیٹ علی عبداللہ ہاشمی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی گئی تھی۔ ’بدتمیز‘ نامی ٹوئٹر ہینڈل سے لگاتار 50 سے زیادہ ٹوئٹس کی گئیں جن میں صارف اور سرمد کے دوست نے بتایا کہ ’ان کے دونوں فون اور ٹوئٹر اکاؤنٹ بند ہیں‘ اور انھوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔ اسی کے ساتھ ہیش ٹیگ ’برنگ سرمد سلطان بیک‘ ٹرینڈ کرنے لگا اور اب بھی کر رہا ہے۔ اسی بارے میں ایک ٹوئٹر صارف جاوید اقبال نے لکھا کہ ’جو شخص درست تاریخ بتائے اور تاریخ کے تلخ ترین حقائق سے آگاہ کرے اسے اٹھا کر لاپتا کر دیا جاتا ہے۔‘ یہاں یہ واضح کرنا بھی ضروری ہے کہ سرمد سلطان کی اہلیہ سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا اور ان کی جانب سے تاحال اس حوالے سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
تین روز سے زیادہ وقت گزرنے کے باوجود اب تک پولیس کی جانب سے سرمد کی گمشدگی کے حوالے سے ایف آئی آر درج نہیں ہو سکی ہے۔ اس حوالے سے محقق اور صحافی رابعہ محمود نے لکھا کہ سرمد سلطان کے خاندان نے پہلے متضاد بیانات دیے اور پھر خاموش ہو گئے۔ ’ایسا کرنا غیر معمولی اس لیے نہیں ہے کیونکہ عام طور پر لاپتا ہونے والوں کے خاندان میں ایسا تاثر پایا جاتا ہے کہ خاموش رہنے سے لاپتا شخص جلدی گھر واپس آ جائیں گے۔‘ ان کے بارے میں جب سماجی کارکن عمار علی جان سے بات کی گئی تو انھوں نے بتایا کہ وہ ذاتی طور پر تو سرمد کو نہیں جانتے لیکن ان کو ’ٹوئٹر کے ذریعے پتا چلا کہ انھیں غائب کر دیا گیا ہے۔‘ بہت سے کالم نگاروں اور صحافیوں نے بھی اس بارے میں ٹویٹ کی ہے۔ کالم نگار عمار مسعود نے بتایا کہ ’میں ذاتی طور پر سرمد کو نہیں جانتا ہوں اور مجھے ان کی گمشدگی کا ٹوئٹر کے ذریعے پتا چلا لیکن اس کے باوجود میں اس پر اس لیے بات کر رہا ہوں کیونکہ کسی بھی تاریخ دان اور بحث کرنے والے کا اچانک سے لاپتا ہونا تشویشناک ہے اور آواز اٹھا کر ہی یہ روایت ختم کی جا سکتی ہے۔‘ صحافی اور اینکر حامد میر نے لکھا کہ ’سرمد سلطان سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اسے غیر قانونی طریقے سے غائب کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس جواب دینے کے لیے کوئی دلیل نہیں ہے۔۔۔ کل تک وہ ایک آواز تھا آپ نے اسے غائب کر دیا، اب اس کی آواز میں کئی آوازیں شامل ہو گئی ہیں۔ وہ ایک ہیرو بن چکا ہے۔‘
