ایک اور لاک ڈاؤن معیشت کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہوگا؟

گزشتہ برس کورونا وائرس کی روک تھام کےلیے لگنے والے لاک ڈاؤن سے ملکی معیشت منفی زون میں چلی گئی تھی جس کے مضر اثرات سے پاکستان ابھی نکل ہی نہ پایا تھا کہ ایسے میں قرض کے حصول کےلیے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کی وجہ سے معیشت کی بحالی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ وہیں ماہرین معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ اگر کورونا وائرس کی تیسری لہر کی وجہ سے حکومت مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جاتی ہے تو یہ معیشت کےلیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ ملک میں گزشتہ برس بہت سارے پیداواری شعبوں کو اس وقت بندش کا سامنا کرنا پڑا جب کورونا وائرس کی وجہ سے ملک میں لاک ڈاؤن لگانا پڑا۔ اس کے اثرات معیشت پر بہت زیادہ منفی انداز میں مرتب ہوئے اور ملک کی معاشی شرحِ نمو گزشتہ مالی سال کے اختتام پر منفی ہوگئی تھی۔ موجودہ مالی سال کے شروع ہونے کے بعد پیداواری شعبے میں بہتری کے امکانات پیدا ہونے شروع ہوئے اور ملک کا لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کا شعبہ بہتری کی جانب گامزن نظر آیا اور ملک کی برآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اب جہاں کورونا کی تیسری لہر کے مضر اثرات پر تشویش پائی جاتی ہے تو وہیں قرض کے حصول کےلیے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل درآمد کی وجہ سے معاشی بحالی پر سوالات اٹھ رہے ہیں اور ان خدشات کی تصدیق معیشت کے بارے میں ورلڈ بینک کی تازہ رپورٹ کرتی ہے جس میں آئی ایم ایف کے پروگرام کی وجہ سے معیشت میں سست روی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ حماد اظہر نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کی معیشت رواں برس پہلے سے کی گئی پیش گوئیوں سے زیادہ تیزی سے ترقی کرے گی۔ حماد اظہر نے اعداد و شمار تو نہیں دیے کہ رواں برس کے اختتام تک ملکی معیشت کتنی ترقی کرے گی، تاہم اگلے مالی سال کےلیے انہوں نے پیش گوئی کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی میں اضافے کی شرح چار فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع ہے۔ حماد اظہر نے اپنے پیغام میں گروتھ ریٹ بھلے ہی نہیں بتایا، مگر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف نے اس سال معیشت کے بالترتیب 1.3 فیصد اور 1.5 فیصد تک بڑھنے کی پیش گوئی کی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ برس ملکی معیشت منفی زون میں چلی گئی تھی اور اس کا ریٹ منفی 0.40 فیصد ریکارڈ کیا گیا تھا۔

موجودہ مالی سال کے بجٹ میں معیشت میں ترقی کی رفتار کا ہدف 2.1 فیصد رکھا گیا تھا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی آخری زرعی پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے میں ملکی ترقی کی اب تک کی شرح نمو کو تین فیصد ظاہر کیا ہے اور اس کے مزید بڑھنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
ورلڈ بینک نے تازہ ترین پاکستان ڈویلپمنٹ اپ ڈیٹ میں ملکی معیشت کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشی بحالی سست ہوگی جس کی وجہ ملک میں کورونا کیسز کی تازہ ترین لہر ہے۔ ورلڈ بینک نے معاشی بحالی میں سست روی کی ایک وجہ آئی ایم ایف پروگرام کو بھی قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف نے گزشتہ ماہ پاکستان سے چھ ارب ڈالر قرضے کے پروگرام کو بحال کیا ہے جس میں دوسری شرائط کے علاوہ بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور ٹیکس چھوٹ کا خاتمہ بھی شامل ہے۔
ورلڈ بینک نے آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت مالیاتی نظم و ضبط کی وجہ سے معیشت کی بحالی میں سست روی کی پیش گوئی کی ہے۔ اسی بنیاد پر عالمی بینک نے معاشی ترقی میں صرف 1.3 فیصد ترقی کا امکان ظاہر کیا ہے۔

کورونا وائرس کی تیسری لہر پر بھی ورلڈ بینک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نئے متاثرین سامنے آنے اور ویکسین کی فراہمی پر اٹھنے والے سوالات کی وجہ سے بھی معاشی بحالی سست رہے گی۔
دوسری جانب آئی ایم ایف نے ملکی ترقی کی شرحِ نمو ڈیڑھ فیصد رہنے کی پیش گوئی کرتے ہوئے ملک میں مہنگائی کی شرح بڑھنے اور بیروزگاری مین اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر کی وجہ سے بڑھتے ہوئے متاثرین اور اس کے تدارک کےلیے ویکسین کی فراہمی کے موضوعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ورلڈ بینک نے اس کی وجہ سے معیشت کےلیے خطرات کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ صنعت کار نوید پیرانی نے کہا کہ نئی لہر کی وجہ سے اگر حکومت مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جاتی ہے تو یہ معیشت کےلیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اگرچہ ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں ہے، تاہم دنیا میں اس خطرناک وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن ہو رہے ہیں جو پاکستان کےلیے بھی خطرناک ہے کیوں کہ ہمارے پیداواری شعبے کا زیادہ تر خام مال بیرونی دنیا سے درآمد کیا جاتا ہے اور اس کی رسد اس وقت مسائل کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بیرونی دنیا سے خام مال کی رسد متاثر ہو رہی ہے تو وہیں مقامی مارکیٹ میں بننے والا خام مال بھی مہنگے داموں مل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ معیشت میں گراوٹ لوگوں کی قوت خرید کو بھی متاثر کرتی ہے اس لیے طلب نہ ہونے کی وجہ سے پیداوار کم کر دی جاتی ہے جو ملک کی مجموعی معاشی ترقی کےلیے نقصان دہ ثابت ہو تی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر نے کاروبار کو کچھ حد تک محدود کیا ہے کیوں کہ ملک کے مختلف حصوں میں اسمارٹ لاک ڈاؤن کی پالیسی کے تحت دو دن کاروبار بند کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق کورونا کی تیسری لہر اس وقت ابھری ہے جب رمضان اور عید کے تہوار کی مناسبت سے ملک میں پیداواری شعبہ مصنوعات کی بڑی مقدار میں تیاری کرتا ہے تاہم کاروبار کے محدود اوقات کار اس پیداواری عمل کو متاثر کر رہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کے اثرات اس وقت شدید ہوتے ہیں جب حکومت یکطرفہ فیصلہ کرکے اسے صنعت و تجارت کے شعبوں پر تھوپ دیتی ہے۔ اگر حکومت مکمل لاک ڈاؤن کی طرف جاتی ہے تو لازمی طور پر پیداواری شعبہ تو متاثر ہو گا لیکن اس کے ساتھ عام مزدور اور دیہاڑی دار طبقہ شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گا۔

ماہر معیشت ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی بھی اتفاق کرتے ہیں کہ ایک سخت لاک ڈاؤن کی صورت میں معیشت اور کاروبار لازمی طور پر متاثر ہوں گے جیسا کہ گزشتہ برس دیکھا گیا جب پیداواری عمل بہت زیادہ نیچے چلا گیا تھا۔ انکامکہنا تھا کہ ملک کے پیداواری شعبے کےلیے بجلی کے نرخ ابھی بھی زیادہ ہیں اور آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت اس میں اضافہ معیشت کے ان شعبوں کےلیے مزید خطرناک ثابت ہوگا۔ انہوں نے شرح سود کے سات فیصد کو بھی بلند سطح قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شرح سود ابھی بھی کاروباری لاگت میں اضافے کا سبب ہے اور آئی ایم ایف پروگرام کے تحت اس میں اضافہ خطرناک ہوگا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button