ایک زرداری ساری PDM پر بھاری کیسے ثابت ہوئے؟


حالیہ دنوں پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے سیاسی فہم اور شطرنجی چالوں کی بدولت ایک مرتبہ پھر سے خود کو پوری پی ڈی ایم پر بھاری ثابت کیا ہے۔ پیپلز پارٹی میں آج بھی بلاول بھٹو کے مقابلے میں اصل سیاسی حقیقت یا طاقت آصف زرداری کے ہی سیاسی فیصلے ہوتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ سیاست کی باریکیوں کو سمجھنے والے اہم ترین سیاسی فیصلوں کے وقت زرداری کی جانب ہی دیکھتے ہیں۔ آصف زرداری کو بلاشبہ پاکستانی سیاست میں پاور پالیٹیکس کے کھیل کو سمجھنے والے اور بروقت اور بہترین سیاسی چالیں چلنے والے ایک بڑے کنگ میکر کی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے بارے میں انکے سیاسی مخالفین اور سیاسی پنڈت بھی اعتراف کرتے ہیں کہ وہ اقتدار کے کھیل میں اپنے سیاسی کارڈ نہایت سمجھداری سے کھیلنے کا فن جانتے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ زرداری نظریاتی سیاست کے مقابلے میں عملی سیاست کے قائل ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ سیاسی فیصلوں میں جوش کی بجائے ہوش اور جذباتیت کی بجائے عملیت پسندی کو ہی بنیاد بنا کر اپنے سیاسی کارڈ کھیلنے چاہئیں۔ چنانچہ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں زرداری کی سیاسی تقریر، استعفوں کی سیاست سے لاتعلقی، نواز شریف سے ملک واپس آنے کا مطالبہ، اور پہاڑوں کی بجائے پارلیمنٹ کے پلیٹ فارم سے جنگ کرنے کا مشورہ، کوئی غیر متوقع عمل نہیں تھا۔ سیاست کی سمجھ بوجھ رکھنے والے بہت پہلے ہی یہ کہہ چکے تھے کہ پیپلزپارٹی بالخصوص آصف زرداری کی سیاسی سوچ یا حکمت عملی نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی سیاست سے مختلف ہو گی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی اقتدار کے کھیل میں شریک ہے اور سندھ میں اس کی مضبوط حکمرانی ہے۔ آصف زرداری کو اندازہ ہے کہ اگر وفاقی حکومت کو گھر بھیجا گیا تو اس صورت میں ان کی اپنی سندھ حکومت کی بھی سیاسی قربانی ہو گی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ پی ڈی ایم کی قیادت کو استعفوں سے گریز کرنے اور فوجی اسٹیبلیشمنٹ سے براہ راست ٹکر نہ لینے کا مشورہ دیتے آ رہیے ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق بنیادی طور پر زرداری سمجھتے ہیں کہ ان کو بلاوجہ اسٹیبلشمنٹ سے ٹکراؤ کی سیاست سے گریز کر کے نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی حکمت عملی سے خود کو دور رکھنا چاہیے۔ اور اس کی وجہ ان کے خلاف قائم نیب کے مقدمات ہی نہیں بلکہ ان کی سیاسی حکمت عملی بھی ہے۔ زرداری یہ بھی سمجھتے ہیں کہ نواز شریف پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم سے فوج کی اعلیٰ قیادت کے نام لے کر تنقید کر کے دراصل فوج پر دباؤ ڈال رہے ہیں تاکہ وہ ان کے ساتھ ڈیل پر آمادہ ہوجائے۔ ان کا موقف ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ڈیل وہ نہیں کر رہے بلکہ نواز شریف پہلے ہی کر چکے ہیں اور اسی لیے وہ جیل سے نکل کر آج لندن کی آزاد فضاؤں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ لہذا ایسے میں آصف زرداری بھی فوجی اسٹیبلشمنٹ پر حملہ آور نہیں ہونا چاہتے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں اپنی تقریر میں اپنے سیاسی کارڈز کھیل کر اسٹیبلشمینٹ کو واضح پیغام دیا ہے کہ ان کی سیاسی حکمت عملی ٹکراؤ پر مبنی مولانا فضل الرحمان اور نواز شریف کی حکمت عملی سے الگ ہے۔ زرداری اس نکتہ کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ نواز شریف یا مولانا فضل الرحمان یا پوری پی ڈی ایم کی تحریک دراصل طاقت کے مراکز میں اپنی سیاسی حیثیت منوانے یا طاقت کے مراکز سے کچھ لو اور کچھ دو کی کوشش پر مبنی ہے۔ تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ آصف زرداری نے پی ڈی ایم کے سیاسی مستقبل اور اس میں پیپلز پارٹی کی موجودگی سے متعلق اپنے سیاسی کارڈ شو کر کے گیند بنیادی طور پر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان کی کورٹ میں ڈال دی ہے۔ یعنی اب فیصلہ پی ڈی ایم کی دیگر قیادت بالخصوص نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے کرنا ہے کہ وہ آصف زرداری کے سیاسی ایجنڈے کو بنیاد بنا کر پی ڈی ایم کی سیاست کو آگے بڑھائیں یا پیپلز پارٹی کو پی ڈی ایم سے بے دخل کر کے استعفوں اور لانگ مارچ کے لیے سولو فلائٹ لیں۔
پی ڈی ایم قیادت کے لیے مشکل یہ ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کو اتحاد سے باہر نکال کر آگے بڑھا جائے تو ان کی بڑی سیاسی طاقت کمزور ہو گی کیونکہ پیپلز پارٹی کے بغیر پی ڈی ایم کو نقصان ذیادہ ہو گا جبکہ فائدہ براہ راست حکومتی جماعت یا فوجی اسٹیبلشمنٹ کو ہو گا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری نے عملی طور پر پی ڈی ایم کو سیاسی وینٹی لیٹر پر ڈال کر نواز شریف اور مولانا فضل الرحمن کو ایک بڑی سیاسی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ کیونکہ پیپلز پارٹی کو موجودہ صورتحال میں ساتھ رکھنے یا پیپلز پارٹی سے سیاسی جان چھڑانے کی دونوں صورتوں میں ان کو بڑے سیاسی نقصان کا سامنا ہو گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آصف زرداری کی واضح سیاسی حکمت عملی کے بعد اب اس کے امکانات کافی بڑھ گئے ہیں کہ ایک بار پھر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نون کے درمیان سرد جنگ، سیاسی تلخیاں یا الزام تراشیوں کی سیاست دیکھنے کو ملے۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت کے مابین لفظی جنگ کا آغاز پہلے ہی ہوچکا ہے اور پیپلز پارٹی پر اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ ڈیل کی کوششوں کا الزام لگایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ ڈیل تو پہلے ہی ہوچکی جس کے بعد نواز شریف کو جیل میں ہونے کے باوجود لندن جانے کی اجازت دی گئی اور اب وہ واپس آنے کو بھی تیار نہیں۔ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ آصف زرداری وہی کچھ کر رہے ہیں جو پاور پالیٹیکس میں ہوتا ہے۔ کوئی بھی جماعت ہو وہ اپنے سیاسی مفاد کو پس پشت ڈال کر اپنے کارڈ نہیں کھیلتی۔ انکا کہنا یے کہ خود مسلم لیگ نون اور جمعیت علماء اسلام کی قیادت بھی پس پردہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کی بنیاد پر سیاسی ریلیف حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کی سربراہی اجلاس میں تقریر کے بعد لانگ مارچ ملتوی کرنے کا فیصلہ بھی اپوزیشن اتحاد کی بہت سی داخلی کمزوریوں کو نمایاں کرتا ہے۔ اب لانگ مارچ جلد ممکن نہیں اور لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں پی ڈی ایم کے کے داخلی محاذ پر کافی بداعتمادی کا ماحول پیدا ہو گا۔ پیپلزپارٹی والے کہتے ہیں کہ کچھ لوگ ہماری قیادت پر فوجی اسٹیبلشمینٹ کے ساتھ ڈیل کی کوشش کا الزام لگا رہے ہیں جو کہ سراسر زیادتی کے مترادف ہے کیوں کہ عملی طور پر سب ہی جماعتیں پس پردہ اپنے مفادات کے لیے وہ سب کچھ کر رہی ہیں جس کی وہ سرعام نفی کرتی ہیں کیونکہ اسی کو پاور پالیٹیکس کہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button