ایک نوکر پورے پاکستان کا ہیرو کیسے بن گیا؟

پاکستانی اداکار عمران اشرف ایک دہائی سے یکسوئی کے ساتھ کام کرتے آ رہے ہیں، ان کے کام میں تجربے کی جھلک نئے ڈرامہ سیریل ’’نمک حرام‘‘ میں واضح دکھائی دیتی ہے، جس میں وہ رومانوی ہیرو کے ساتھ کریکٹر ایکٹنگ کرتے نظر آ رہے ہیں۔اُن کا ڈرامہ ’’نمک حرام‘‘ ہم انٹرٹینمنٹ چینل سے نشر کیا جا رہا ہے جس میں وہ ایک ’’مرید‘‘ کا کردار کر رہے ہیں۔ اسی کے بارے بی بی سی اُردو سے بات کرتے ہوئے عمران اشرف نے بتایا کہ ڈرامہ نگار ثقلین عباس پانچ سال پہلے جب یہ ڈرامہ لکھ رہے تھے تو اُنھیں ٹی وی پر دیکھ کر کہتے تھے ’یہ مرید آ گیا۔عمران اشرف کہتے ہیں کہ وہ کسی کردار کو کرنے سے پہلے کسی دوسرے اداکار کا کام نہیں دیکھتے بلکہ صرف ڈائریکٹر کی مدد لیتے ہیں، کیا فائدہ میری اُس زندگی کا، میرے اُس مشاہدے کا، میری اُن خوشیوں اور غموں کا اگر میں اُن کا استعمال نہیں کر سکتا، جب میں بھولا کا کردار کر رہا تھا تو مجھے کہا گیا کہ فلاں کریکٹر دیکھ لو، جب میں رقصِ بسمل کر رہا تھا تو کہا گیا فلاں کریکٹر دیکھ لو۔ آج میں کیمرے کے سامنے اس بات کا اعتراف کرتا ہوں کہ میں نے کسی کی کوئی بات نہیں سُنی۔نمک حرام کے مرید کے بارے میں بات کرتے ہوئے بولے کہ ’مجھے ڈائریکٹر کی ضرورت پڑتی ہے جو میرا مینرازم ہے، جو میری واکس ہیں، میرا تولیہ پکڑنا، گلاس میں کوئی چیز ڈالنا، کھانے کی پلیٹ کو کیسے اٹھانا ہے، وہ سب شکیل خان صاحب نے بتایا، باقی مرید میں پیدا ہوا ہوں۔عمران اشرف کے بقول ’نمک حرام‘ کی چند اقساط نشر ہوئی ہیں لیکن ان کے مداحوں کی طرف سے انھیں بہت محبت مل رہی ہے، انٹرویو کے دوران بولے کہ ’سب کہہ رہے ہیں آئی لو یو اور وی لو یو۔ ہر طرف سے بس آئی لو یو کی آوازیں آ رہی ہیں۔مداحوں کی محبت کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ میں ایک کیریکٹر ہیرو ہوں۔ میں سیدھا والا ہیرو نہیں ہوں۔ سب سے خوشی کی بات یہ ہے کہ اللہ کے کرم سے ایک نوکر بھی ہیرو ہے پورے پاکستان کا اس وقت۔ یہ ایک الگ بات ہے اور لوگ اس کو قبول کر رہے ہیں جہاں تک بات مذاق رات کی ہے میں اپنے اللہ کا بہت شکر کرتا ہوں کہ جو اِن مشکل اوقات میں جبکہ ہر طرف اداسی ہے، فلسطین میں کیا ہو رہا ہے آپ کو پتا ہے، ہر طرف لوگ پریشان ہیں، اگر میرے رب نے مجھے ایک گھنٹہ دے دیا ہے کہ میں اپنے ملک کے لوگوں کو ہنسا سکوں تو میں اس پر بہت خوش ہوں۔

Back to top button