ایک کالم نگار کی کہانی؟

تحریر: عطا الحق قاسمی ، بشکریہ : روزنامہ جنگ

اللہ جانے کس شاعر کا شعر ہے۔ بائی دی وے، مجھے علم ہے مگر لکھ نہیں رہا کہ غلط لکھا گیا تو اگلے ہی روز بیسیوں خط آ جائیں گے کہ جناب آپ نے شاعر کا نام غلط لکھا ہے یہ شعر تو فلاں شاعر کا ہے سو یہ رسک لئے بغیر شاعر کا نام ’’حذف‘ کرکے صرف اس کا شعر لکھ رہا ہوں؎

نہیں آتی تو یاد ان کی مہینوں تک نہیں آتی

مگر جب یاد آتے ہیں تو اکثر یاد آتے ہیں

اور میرے ساتھ یہ اکثر ہوتا ہے مگر وہ دن میرے لئے بہت مسرت کا دن ہوتا ہے جب پرانے دوست یاد آتے ہیں تو پھر یاد آتے ہی چلےجاتے ہیں،مزے کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کچھ دوست ایسے بھی ہیں جن سے فون پر بات ہوتی رہتی ہے مگر اس آدھی ملاقات میں پوری ملاقاتیں یاد آتی رہتی ہیں اور پھر اسی کثرت سے یاد آتی ہیں جس کثرت کا ذکر شاعر نے درج بالا شعر میں کیا ہے۔

آدھی ملاقات والے دوستوں میں سرفہرست جاوید چودھری کا ’’نامِ نامی اسم گرامی ‘‘ آتا ہے اس خوبصورت شخص سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب یہ اپنے موجودہ مقام اور مرتبے تک پہنچنے کے لئے اس راستے پر پہلا قدم رکھ رہا تھا جو سچی لگن رکھنے والوں کو کبھی ان کے حق سے محروم نہیں رکھتا۔ یہ شخص محبت اور خلوص کا پیکر تھا چنانچہ سفارت کا عہدہ سنبھالنے سے پہلے ایک اخبار سے وابستہ جاوید چودھری جب بھی مجھ سے انٹرویو لینے پنجاب ہائوس اسلام آباد آیا تو انٹرویو کےنکات تو مجھے یاد نہیں رہے مگر جاوید چودھری کی غیر معمولی ذہانت ،خوش طبعی،حاضر دماغی اور ذہانت نے مجھ پر گہرے نقوش ثبت کئے، پھر یوں ہوا کے ایک بار جاویدچودھری کے کالم پر میری نظر پڑی تو میں یہ کالم آخر تک پڑھنے پر مجبور ہو گیااور اس وقت سے یہ کالم پڑھنا میری مجبوری بن گیا ہے۔ اس کا شمار پاکستان کے صف اول کے کالم نگاروں میں ہوتا ہے میں جب کبھی اس کا کالم پڑھتا ہوں مجھے سمجھ نہیں آتی میں اس تحریر کو کیا نام دوںکہ یہ کالم ،کالم سے کہیں بڑھ کر ہے ۔کبھی اس میں جاویدچودھری افسانہ نگار کی صورت میں نمودار ہوتا ہے، کبھی لگتا ہے چوپال میں حقے کی ’’نڑی‘‘ ہونٹوں میں دبائے لمبا کش لگاتے ہوئے دانائی کی باتیں کر رہا ہے اور اتنی سہل زبان میں کہ سب کے دلوں اور ذہنوں میں وہ بات اپنی پوری گہرائی کے ساتھ اتر جاتی ہے۔ یہ مشکل ہنر جاوید چودھری کیلئے اتنا آسان ہے کہ پڑھنے اور سننے والے حیران ہو کر رہ جاتے ہیں۔ میرے پسندیدہ کالم نگاروں میں دس کے قریب کالم نگار شامل ہیں میں جہاں دوسروں کا نام نہیں لکھ رہا وہاں ’’دس نمبری‘‘ کالم نگار کا نام لکھنے سے بھی گریز کر رہاہوں کہ وہ میں خود ہوں۔

جاوید چودھری کی کالم نگار ی اپنی جگہ مگر اس کی دوستی کا مقام بھی سب سے الگ ہے ،کوئی دوست کبھی اس سے رابطے میں تاخیر کر دے تووہ خود اس تاخیر پر خط ِتنسیخ پھیر دیتا ہے اور اس کی کال آ جاتی ہے جب کوئی دوست اسلام آباد سے پروگرام نہ بنا سکے اور یوں جاوید چودھری سے ملاقات کا سبب بنتے بنتے رہ جائے تو جاوید چودھری صرف اس سے ملاقات کی خاطر لاہور چلا آتا ہے ۔یہاں ، اس شخص سے مراد راقم الحروف عطا الحق قاسمی خود ہے۔جاوید چودھری میرے اور میرے جیسے لاکھوں کروڑوں دوسرے لوگوں کی طرح ایک معزز سفید پوش گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور آج اپنی محنت، ذہانت اور مستقل مزاجی کے سبب الحمدللہ اس طبقے میں شامل ہوگیا ہے جو دنیا وی نعمتوں سے مالا مال ہے مگر مجال ہے اس کے لب ولہجے میں اطوار اور اقدار سے انحراف کی کوئی جھلک نظر آتی ہووہ آج بھی متمول طبقے میں شامل ہونے کے باوجود اپنی اقدار سے بندھا ہوا ہے۔ مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ اس نے اپنے لئے دنیاوی سہولتیں رزق حلال سے حاصل کی ہیں۔ اس نے کالم نگار اور اینکر ہونے کے علاوہ بہت سے دوسرے علوم بھی شروع کئے جن میں گروپ کی شکل میں شائقین کو بیرون ملک لے جانا بھی شامل تھا کچھ کمپنیوں کے ساتھ مختلف حیثیتوں میں کام کیا ہے اور مجھے حیرت ہوتی ہے کہ کالم نگاری اور اینکر شپ ایسے کٹھن فرائض پوری خوبصورتی سے نبھانے کے ساتھ ساتھ یہ شخص ان کالموں کیلئے وقت کہاں سے نکالتا ہے، بعد میں مجھے پتہ چلا کہ اس نے زندگی میں ایک ماہ رخ سے عشق کیا تھا یہ سب اس عشق میں کامیابی یا ناکامی کی دین ہے۔ البتہ اس نے آرگینک وٹامنز کا کاروبار شروع کیا تو یار دوستوں نے اس پر بہت مزے کے تبصرے کئے خود میں نے بھی اسے فون کیا اور کہا چودھری صاحب یہ ملٹی وٹامنز تو ہر جگہ سے دستیاب ہیں آپ ڈاکٹروں والا کام نہ کریں، کرنا بھی ہے تو کسی حکیم کے سامنے زانوے تلمذتہہ کریں اور ’’کشتوں‘‘ کے پشتے لگا دیں۔ بہرحال جاوید چودھری حق حلال کی روزی کمانے میںلگا ہے اور میں دوسری وجوہات کے علاوہ اس وجہ سے بھی اس سے پیار کرتا ہوں ۔جیو جاوید چودھری، اپنی اقدار کے ساتھ محبت کرکے جیو!

Back to top button