ایک ہفتہ تک قسطوں میں چلنے والا پہلا لانگ مارچ


25 مئی کے لانگ مارچ کی ناکامی کے بعد عمران خان نے بالآخر پانچ مہینے کے انتظار کے بعد اسلام آباد کی جانب دوبارہ لانگ مارچ شروع تو کر دیا ہے لیکن یہ ایک روایتی لانگ مارچ نہیں لگتا چونکہ اس نے ایک ہفتہ تک قسطوں میں چلنے کے بعد وفاقی دارالحکومت پہنچنا ہے۔ شیڈول کے مطابق 28 اکتوبر کو لبرٹی چوک سے شروع ہونے کے بعد لانگ مارچ شاہدرہ پہنچ کر ختم ہو جائے گا اور پھر 29 اکتوبر کی صبح شاہدرہ سے روانہ ہو کر گوجرانوالہ پہنچے گا۔ چنانچہ شیڈول کے مطابق عمران کا لانگ مارچ ایک ہفتہ چلتے رہنے کے بعد 4 نومبر کو اسلام آباد پہنچے گا جس کے بعد دھرنا دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ہو گا۔

اب جب کہ لانگ مارچ شروع ہو چکا ہے تو اہم ترین سوال یہ ہے کہ کیا یہ حکومت سے فوری الیکشن کا مطالبہ پورا کروانے میں کامیاب ہو گا؟ سوال یہ بھی ہے کہ اس مارچ کے لیے پیسہ کہاں سے آئے گا۔اس حوالے سے بتایا گیا ہے کہ لانگ مارچ کے اخراجات کو مقامی و مرکزی دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ہر ضلع کے مقامی رہنما اس وقت چاہے وہ ایم این ایز، ایم پی ایز ہیں، یا اگلے الیکشن میں ٹکٹ کے اُمیدوار، شرکا کو لانگ مارچ میں بھی لائیں گے اور اُن سب کے کھانے پینے اور رہنے کا بندوبست بھی کریں گے۔ یہ مقامی رہنما اپنے ساتھ راشن لے کر آئیں گے۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کا مرکزی دفتر، اسلام آباد میں نقل و حرکت، پیٹرول، ڈیزل، لائٹنگ، ساؤنڈ سسٹم، جنریٹرز،کنٹینر پر اُٹھنے والے اخراجات کو برداشت کرے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ مجموعی طور پر خرچہ کتنا ہو گا؟

تحریک انصاف کے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ لانگ مارچ پی ٹی آئی کے گذشتہ لانگ مارچ سے انتظامات اور تیاریوں کی نسبت مختلف ہو گا۔ اس میں انتظامات نچلی سطح پر تقسیم کیے گئے ہیں۔ اگر 2014 کے دھرنے کو دیکھا جائے تو انتظامات تحریک انصاف کے مرکزی دفترکے پاس تھے۔ لیکن اس بار زیادہ تر ذمہ داری ہر ضلع میں وہاں کے مقامی رہنماؤں میں تقسیم کی گئی ہے۔ انتظامات کی تیاری یونین کونسل سطح تک کی گئی ہے۔ انتظامات کی تیاری میں معاونت کرنے والوں میں سے ایک شخص نے بتایا کہ ’اس خدشے کے پیش نظر کہ حکومت لانگ مارچ میں معاونت کرنے والے افراد اور کمپنیوں کے سامان کو ضبط کر سکتی ہے، اُنھیں گرفتار کر سکتی ہے تو اس کا ازالہ کیسے کیا جائے گا؟ اس خوف اور اندیشے کے پیش نظر ریڈ زون سے شاید دور رہا جائے۔‘

سرگودھا سے اگلے الیکشن میں تحریک انصاف کے قومی اسمبلی کے ممکنہ امیدوار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’میرے ذمے 100 افراد کو لانے، ان کے طعام و قیام اور واپسی کی ذمہ داری ہے۔ راستے میں لانگ مارچ کا قافلہ مختلف مقامات پر ٹھہرے گا تو اس دوران بھی ان کے قیام و طعام کے انتظامات میرے ذمے ہیں۔ کارکنان کو لانے والی بسیں فیول کے علاوہ روزانہ 25 ہزار روپے لیں گی۔‘ لیہ سے صوبائی اسمبلی کی ٹکٹ کے خواہش مند اُمیدوار نے ہمیں بتایا کہ ’25 تاریخ کو عون عباس بپی یہاں آئے تھے، اُنھوں نے لانگ مارچ کے حوالے سے تمام عہدیداران، پی ٹی آئی ایم پی ایز اور ایم این ایز سے میٹنگ کی اور لانگ مارچ سے متعلق ہدایات اور ذمہ داریوں سے آگاہ کیا۔‘ مختلف لوگوں کے ذمہ کارکنان لانے کی تعداد لگائی گئی ہے۔ مَیں چار بسیں بھر کر لارہا ہوں۔ بسوں کا کرایہ بھی دے دیا ہے۔ یہ کرایہ لگ بھگ ایک لاکھ روزانہ کی بنیاد پر ہے۔‘ انھوں نے بتایا کہ ’تین دِن بسیں اسلام آباد رُکیں گی، اگر لانگ مارچ کا پڑاؤ اسلام آباد میں زیادہ رہا تو یہ واپس آ جائیں گی۔ جو لوگ یہاں سے شریک ہوں گے، اُن کا کھانا پینا، رہائش کی ذمہ داری مقامی قیادت کے ذمہ ہے۔‘

ننکانہ صاحب سے مقامی صحافی جاوید احمد معاویہ کو، تحریکِ انصاف کے ضلعی عہدیدار نے بتایا کہ ’یہاں کے ایم پی ایز کے ذمہ اڑھائی سے تین سو بندے اور ایم این ایز کے ذمہ چار سو سے پانچ سو بندے لانا ہے۔ جو گاڑیاں ہم نے کرایہ پر لی ہیں، وہ فیول کے علاوہ پندرہ ہزار اور پچیس ہزار میں طے ہوئی ہیں کیونکہ پچیس ہزار والی بڑی اور تھوڑی لگژری گاڑیاں ہیں۔اس کے علاوہ نجی گاڑیاں الگ ہوں گی اور یہ سارا پیسہ ایم پی ایز، ایم این ایز اور ٹکٹ کے خواہشمند ادا کریں گے۔ ہر گاڑی پر ہمارا ایک انچارج ہو گا، جو روزانہ کی بنیاد پر بس مالک کو کرایہ دے گا اور کارکنان کو کھانا پینا اور رہائش مہیا کرے گا۔ اور ہم نے کارکنان کو دس سے پندرہ دِن وہاں قیام سے متعلق آگاہ بھی کر دیا ہے۔

شیخوپورہ سے تعلق رکھنے والے صحافی وحید مغل نے چھوٹی وین اور کوسٹر، جن کو لانگ مارچ کے لیے کرایہ پر لیا گیا، اُن میں سے چند گاڑیوں کے ڈرائیور سے بات کی۔ اُن کے مطابق ’چھوٹی وین روزانہ بچت 3500 پر طے ہوئے ہوئی ہے، باقی تمام اخراجات پی ٹی آئی کے ذمہ ہوں گے اور کوسٹرز کا کرایہ روزانہ کی بنیاد پر سات ہزار طے ہوا،یہ بچت ہے۔ باقی اخراجات اس میں شامل نہیں۔ ڈیرہ اسماعیل خان، اَپر دیر، چارسدہ، صوابی اور لکی مروت کے چند مقامی صحافیوں اور پاکستان تحریک انصاف کی مقامی قیادت نے ہمیں بتایا کہ ان اضلاع سے قافلے براہ راست راولپنڈی پہنچیں گے اور اخراجات مقامی قیادت برداشت کرے گی۔ بعض صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ صوبائی حکومت بھی اس ضمن میں اپنے وسائل اور فنڈ کا مبینہ طور پر استعمال کر رہی ہے۔

لانگ مارچ کے انتظامات کرنے والے ایک منتظم کے مطابق ’دو لاکھ لیٹر ڈیزل اور ایک لاکھ لیٹر پٹرول پر مشتمل ٹینکرز عمران خان کے قافلے کے ہمراہ ہوں گے۔ لاہور میں تقریباً 40 ہزار لوگوں کے انتظامات کا ٹارگٹ ہے۔ یہ لوگ کہاں سے آئیں گے؟ ایک تو لاہور کے لوگ ہوں گے، اس کے ساتھ ساتھ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے بعض علاقوں کے قافلوں کو پہلے لاہور پہنچنے کا کہا گیا ہے۔ یہاں سے مل کر چلیں گے۔ جبکہ فیصل آباد، ٹوبہ ٹیک سنگھ، میانوالی، اٹک، خوشاب، سرگودھا، جھنگ کے قافلے تین اور چار نومبر کو راولپنڈی پہنچیں گے۔ ان میں سے کچھ قافلے پہلے لاہور بھی جا سکتے ہیں۔ساؤنڈ سسٹم، لائٹنگ اور دیگر انتظامی امور کی ذمہ داری نبھانے والے ایک ذمہ دار شخص نے ہمیں بتایا کہ ’قافلے کے ہمراہ ساؤنڈ سسٹم پر مبنی 30 کے قریب ٹرک ہو سکتے ہیں اور بغیر ایندھن ایک ٹرک کا خرچہ 1 لاکھ چالیس ہزار ہو گا۔ ان ٹرکوں پر ہیوی لائٹس نصب ہوں گی اور ان کے اندر جنریٹرز رکھے ہوں گے۔ ہر گاڑی میں چلنے والا جنریٹر اگر چوبیس گھنٹوں میں دس سے پندرہ گھنٹے چلے تو کئی ہزار لیٹر ڈیزل استعمال ہو گا۔‘

اب سوال یہ ہے کہ لانگ مارچ کو ناکام بنانے کے لیے حکومت کا لائحہ عمل کیا ہے؟ وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ ’حکومت نے اسلام آباد کو محفوظ بنانے کے لیے مکمل پلاننگ کی ہے اور قانون ہاتھ میں لینے والوں کی ایسی درگت بنائی جائے گی کہ ان کی نسلیں یاد رکھیں گی۔ ا نہوں نے کہا کہ ہمارے پاس انتظامی اُمور کے علاوہ دو تجاویز اور بھی ہیں۔ اگر ایک تجویز پر بھی عمل ہو گیا تو اِن کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ کیا ہو گیا۔‘ وفاقی وزیرِ داخلہ نے کہا کہ ’ہمارے پاس اسلام آباد کی پولیس ہے، اسی طرح رینجرز کی مدد بھی لے جائے گی اور اس جتھے کو روکا جائے گا۔‘ انہوں نے کہا کہ کسی قیمت پر بھی لانگ مارچ کو ریڈ زون میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آرٹیکل 245 کے تحت فوج کو بھی بلا لیا جائے گا۔

Back to top button