ایک 8 سالہ بچے کی وجہ سے ہندو مندر پر حملہ کیوں ہوا؟

https://youtu.be/wEbVBWNwnI0
رحیم یار خان میں ایک امام مسجد کی جانب سے توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والا ایک 8 سالہ ہندو بچہ اس وقت اپنی جان کے خوف سے ایک نامعلوم مقام پر زندگی گزار رہا ہے۔ یہ وہی بچہ ہے جس کی وجہ سے حال ہی میں رحیم یار خان میں مذہبی انتہا پسندوں نے ایک ہندو مندر کو تباہ کردیا۔
یاد رہے کہ گذشتہ دنوں ایک آٹھ سالہ بچے پر رحیم یار خان میں توہین مذہب کا الزام لگا۔ اس طرح یہ بچہ ملک میں اس الزام کا سامنا کرنے والا سب سے کم ترین انسان بن گیا۔ ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے اس بچے کی ایک مقامی عدالت نے چار اگست کو ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم دیا۔ رہائی کے بعد سے یہ بچہ اور اس کے والدین پولیس کی حفاظتی تحویل میں کسی نامعلوم مقام پر ہیں۔ بچے اور اس کے والدین کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس ان کے بارے میں کچھ بتانے سے گریزاں ہے۔ اب سوال یہنیے کہ توہین مذہب کا مبینہ مرتکب یہ بچہ ہے کون؟ انڈپینڈنٹ اردو کی ایک رپورٹ کے مطابق رحیم یار خان سے تعلق رکھنے والے سابق ایم پی اے کانجی رام نے بتایا کہ ان کا تعلق مینگوال قبیلے سے ہے اور اس بچے کا تعلق بھی اسی قبیلے سے ہے۔ ’بچہ تیسری جماعت کا طالب علم ہے۔ یہ تین بھائی اور چار بہنیں ہیں۔ اس کے والد غریب آدمی ہیں اور بھونگ شریف میں ہی چھوٹا موٹا کام کر کے دیہاڑی کماتے ہے۔‘ انہوں نے بتایا کہ مذکورہ بچہ غربت کے باعث پڑھائی کے بعد جوتے پالش کرتا ہے جبکہ اس کی والدہ نے دو، تین بکریاں پال رکھیں ہیں جن کا دودھ بیچ کر وہ کچھ پیسے کماتی ہیں۔ کانجی رام نے بتایا کہ بھونگ کی مسجد رئیس غازی بین القوامی سطح پر جانی جاتی ہے۔ اس کی تعمیر میں 50 سال لگے اور اسے آغا خان ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ مسجد میں تمام مکاتب فکر اور مذاہب کے لوگ آتے ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق یہ واقعہ بڑی عید کے دوسرے دن کا ہے جب بچہ کھیلتے کھیلتے مسجد میں چلا گیا اور اس سے ملحق مدرسہ دارالعلوم عربیہ تعلیم القرآن جا پہنچا۔ جب امام مسجد نے نے ہندو بچے کو مسجد کے اندر پانی پیتے دیکھا تو وہ اس پر چلانے لگا، بچہ دوڑا لیکن مولوی صاحب نے اسے پکڑ کر مارنا شروع کر دیا اور یوں خوف سے اس کا پیشاب نکل گیا۔ بچہ وہاں سے بھاگ تو گیا لیکن امام مسجد نے باہر نکل کر شور مچا دیا اور یہ الزام عائد کر دیا کہ ایک ہندو بچے نے جان بوجھ کر مسجد کے اندر پیشاب کر دیا ہے۔ امام مسجد کی جانب سے بچے کے خلاف توہین مذہب کی درخواست دینے کے بعد تیسری جماعت کے اس طالبعلم کو گرفتار کر لیا گیا۔ بچہ دو دن بھونگ شریف تھانے میں اکیلا پولیس کی حراست میں رہا جس کے بعد اسے جوڈیشل ریمانڈ پر رحیم یار خان سینٹرل جیل بھیج دیا گیا۔
اسی دوران علاقے میں کشیدگی پھیل گئی اور مذہبی انتہا پسندوں نے ہندوؤں کے خلاف کارروائیاں شروع کردیں۔ انتظامیہ کی جانب سے مقامی ہندو برادری کو سکیورٹی دی گئی لیکن بچے اور اس کے والدین کو پولیس نے اپنی حفاظتی تحویل میں لے کر نا معلوم مقام پر شفٹ کر دیا۔
رحیم یار خان میں بھونگ شریف کی مشہور مسجد رئیس غازی اور اس سے ملحقہ مدرسہ دارالعلوم عربیہ تعلیم القرآن کے امام کی جانب سے 8 سالہ بچے کے خلاف درج ایف آئی آر کے مطابق 24 جولائی، 2021 کی صبح 10 بجے انہوں نے مدرسے کی لائبریری میں ایک لڑکے کو دیکھا جو کہ وہاں قالین پر پیشاب کر رہا تھا۔ بیان کے مطابق بچہ مدرسے کی ٹوٹی ہوئی کھڑکی سے اندر داخل ہوا۔ انہوں نے بچے کو پکڑنے کی کوشش کی مگر وہ بھاگ گیا جس پر انہوں نے واویلہ مچایا اور مدرسے میں موجود دیگر افراد وہاں پہنچ گئے۔ ایف آئی آر میں مولوی صاحب کا کہنا تھا کہ انہوں نے پہلے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر خود ملزم کو ڈھونڈنے کی کوشش کی مگر ناکامی پر 25 جولائی کو پولیس کے پاس پہنچ گئے اور ایف آئی آر درج کروا دی۔
دوسری جانب بھونگ شریف کے مقامی ہندوپیشوا گرو سکھ دیو نے توہن مذہب کے الزام میں گرفتار بچے کے حوالے سے بتایا کہ مینگوال قبیلے کے بھونگ شریف میں تقریباً سو مکان ہیں اور اس قبیلے کے لوگ زیادہ تر تجارت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ سکھ دیو نے وہ واقعہ جس کی بنیاد پر بچے پر توہین مذہب کا الزام لگا کچھ یوں بیان کیا: ہندو بچہ محلے کے مسلمان بچوں کے ساتھ روز کھیلتا تھا۔ اس روز بھی یہ کھیلتے کھیلتے مسجد میں چلا گیا جہاں اس نے پیاس بجھانے کی کوشش کی۔ اسے پانی پیتا دیکھ کر ایک مسلمان بچے نے امام حافظ محمد ابراہیم کو بتایا کہ بچہ ہندو ہے، یہ سن کر امام مسجد غصے میں آگیا اور بچے کو تھپڑ مارے اور اسے زدوکوب کیا جس کی وجہ سے بچے کا خوف کے مارے پیشاب نکل گیا۔ اس سب کے بعد بچہ وہاں سے چلا گیا اور نائب امام مسجد نے اس کے خلاف تھانے میں توہین مذہب کی ایف آئی آر درج کروا دی۔’
چار اگست کو مقامی عدالت نے بچے کی ضمانت منظور کر کے رہائی کا حکم جاری کیا تو عدالت کے باہر موجود مدرسے کے طلبہ اور اساتذہ مشتعل ہو گئے اور احتجاج شروع کر دیا۔ جس کے بعد مظاہرین نے ہندوؤں کے گھنیش مندر میں گھس کر توڑ پھوڑ کی اور بازار بھی بند کر دیے۔ بچے سے بےحرمتی جانب بوجھ کر یا مبینہ تشدد کی وجہ سے ہوئی اس کا فیصلہ پولیس تحقیقات ہی کر پائیں گی۔ سوال یہ بھی ہے کہ آیا آٹھ سالہ بچے پر اس قانون کا اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں؟ اتنی کم عمر کے بچے پر اس الزام نے قانونی ماہرین کو حیران کیا ہے۔ توہین مذہب کے الزام کے حوالے سے بین القوامی میڈیا پر یہ بات بہت کی جا رہی ہے کہ پاکستان میں توہین مذہب کے مرتکب مجرم کی سزا موت ہے لیکن کیا اس قانون کے تحت ایک آٹھ سال بچے کو بھی سزا ہوسکتی ہے؟
ایڈووکیٹ سپریم کورٹ فرہاد علی شاہ نے بتایا: ‘پاکستان پینل کوڈ میں عمومی قوانین میں عمومی چھوٹ ہوتی ہے۔ 10 سال کی عمر تک کا بچہ اگر کوئی بھی جرم کرے خواہ وہ 302 کا جرم ہی ہو یہ قوانین اس پرلاگو نہیں ہوتے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بچے کو گرفتار کرنا، اسے حوالات میں بند کرنا اور اس کا جوڈیشل ریمانڈ لینا غلط تھا۔ بیریسٹر حسان نیازی نے کہا: ‘کرمنل قوانین کا ایک اصول سب پر لاگو ہوتا ہے کہ کوئی انسان چاہے وہ پاگل ہو، بزرگ یا بچہ ہو، وہ غلط یا صحیح میں تفریق نہ کر سکتا ہو، اور اس سے کوئی جرم ہو جاتا ہے اور وہ جرم خواہ توہین مذہب ہو یا قتل ہو اور جرم کرتے ہوئے اسے یہ سمجھ نہ ہو کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ اس پر اگر آپ چارج لگا دیتے ہیں تو یہ مقدمے کے دوران ملزمان کا دفاع بن جائے گا۔ 10 سال سے کم عمر کا بچہ مائنر مانا جاتا ہے اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ غلط اور صحیح میں تفریق نہیں کر سکتا۔‘
آئی جی پنجاب انعام غنی کے جاری کردہ بیان کے مطابق پنجاب پولیس نے اس واقعے کے بعد ایک ہندو مندر پر حملے میں ملوث مرکزی ملزمان سمیت 52 افراد کو گرفتار کیا اور ان ملزمان کو دہشت گردی کی عدالت میں پیش کر کے جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوا دیا گیا ہے۔ کانجی رام نے بتایا کہ بھونگ میں تقریباً سو مکانات کے سبھی مرد و خواتین خوف کے مارے علاقے سے نقل مکانی کر گئے ہیں۔ ان میں سے صرف چند مرد واپس آئے جبکہ خاتون ایک بھی واپس نہیں آئی۔ انکا کہنا تھا کہ سندھ کے مختلف علاقوں سے سینکڑوں افراد، جن میں مسلمان بھی شامل ہیں، مندر میں اظہار یک جہتی کے لیے آ رہے ہیں لیکن اصل معاملہ تب ٹھیک ہوگا جب یہاں کی مقامی آبادی پوری واپس آ جائے گی اور وہ ان کا اعتماد بحال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ پاکستان میں مذہب سے متعلق جرائم کے قوانین کی ابتدا برٹش انڈیا کے، جس میں وہ علاقے بھی شامل ہیں جو آج پاکستان ہیں، نوآبادیاتی دور میں ہوئیں۔ اس کا جواز یہ دیا گیا کہ ہندؤوں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی تشدد کو روکا جاسکے، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ پاکستان میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس قانون کے استعمال میں وسعت آتی جا رہی ہے۔ سینٹر فار سوشل جسٹس کی 2021 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ 2020 میں توہین مذہب و توہین رسالت کے ریکارڈ مقدمات درج ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر گذشتہ برس 200 مقدمات درج ہوئے جب کہ 1987 سے 2020 تک مجموعی مقدمات کی تعداد 1800 ہے۔ 2020 میں درج ہونے والے یہ مقدمات کسی بھی سال کے حساب سے سب سے زیادہ تھے۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس قانون کے غلط استعمال کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
تاہم ایک آٹھ سالہ بچے کے خلاف توہین مذہب کے الزام پر کاروائی نے ایک مرتبہ پھر حکومت کے کھوکھلے دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔
