ایگزیکٹ کا جعلی ڈگریوں اور ڈپلوموں کا کام دوبارہ شروع

لوگوں سے بھاری رقوم لے کر جعلی ڈگریاں بیچنے والی بدنام زمانہ کمپنی ایگزیکٹ نے اپنے خلاف پانچ سال تک جاری رہنے والی تحقیقات بند کروانے کے بعد ایک مرتبہ پھر جعلی ڈگریوں اور ڈپلوموں کی فروخت کا کاروبار شروع کر دیا ہے۔
امریکن ایف بی آئی کے ایک سابق ایجنٹ نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان کو خط کے ذریعے خبردار کیا ہے کہ ایگزیکٹ نے پھر سے جعلی ڈگریاں اور ڈپلومے فروخت کرنے شروع کر دیے ہیں۔ ریٹائرڈ ایف بی آئی ایجنٹ ایلین ایزیل، جو کہ ماضی میں ڈپلومہ اسکینڈل کی ٹاسک فورس کے سربراہ تھے، نے امریکہ میں پاکستانی سفیر کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ ایگزیکٹ آج وہی کام کر رہی ہے جو 16؍ سال پہلے کر رہی تھی۔ ایک ڈگری کی قیمت 199؍ ڈالرز سے دو لاکھ ڈالرز تک رکھی گئی ہے۔ ان کا بنیادی مقصد ڈگری اور ٹرانسکرپٹ فروخت کرنا ہے۔ ایف بی آئی کے سابق ملازم کے مطابق اب تک پاکستان میں قائم ایگزیکٹ کے کال سینٹرز کے ذریعے ایک لاکھ سے زائد ڈپلومے اور ٹرانسکرپٹ فروخت کیے جا چکے ہیں۔ مقامی سطح پر ڈسٹرکٹ آف کولمبیا میں 83؍ سے زائد ، میری لینڈ ریاست میں دو ہزار 632؍ جبکہ ورجنیا میں 1723؍ ڈپلومے اور ٹرانسکرپٹ فروخت کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ نوٹری کے جعلی تصدیق نامے بھی شامل ہیں۔
پانچ صفحات پر مشتمل اپنے خط میں ایلین ایزل نے لکھا ہے کہ ایگزیکٹ کے جعلی اسکولز امریکا میں قائم بتائے جاتے ہیں ہیں، اس کے لیے امریکا کے کئی پتے اور فون نمبرز استعمال کیے جاتے ہیں اور ساتھ ہی امریکی صدارتی اسکالرشپ کا جھانسہ دے کر نئے طلبہ کو راغب کیا جا رہا ہے۔ جعلی چیزوں کے ’’امریکی‘‘ ہونے کے اس دھوکے کو بڑھاوا دینے کیلئے کئی ویب سائٹس پر امریکی کیپیٹل ہل بلڈنگ کی تصویریں ہیں اور ساتھ ہی کئی ویب سائٹس پر امریکی جھنڈا بھی لگایا گیا ہے۔ ایلین ایزل کے مطابق دنیا میں کرونا وائرس پھیلنے کے بعد سے ایگزیکٹ کے کاروبار میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے چونکہ وبا کے اس دور میں کروڑوں طلبہ اپنے تعلیمی اداروں کو نہیں جا پا رہے، اور اب یہ لوگ انٹرنیٹ پر تعلیم تلاش کر رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق جعلی ڈگریوں اور ڈپلوموں کے ذریعے ایگزیکٹ کی موجودہ ماہانہ آمدنی تقریباً 20؍ لاکھ ڈالرز ہے۔ کراچی اور اسلام آباد کے کال سینٹرز میں ایگزیکٹ کے ملازمین کی تعداد 900؍ ہے جو سب جعلی تعلیمی کلاسوں کی اسکیموں پر کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنا شکار اسپائیڈر ویب ٹائپ سائٹس کے ذریعے پروفیشن کے لحاظ سے پھنساتے ہیں۔ یاد رہے کہ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت میں پیش کیے جانے والے 59؍ صفحات پر مشتمل چالان میں کہا گیا تھا کہ ایگزیکٹ انتظامیہ نے طلبہ، ان کے آجروں اور سرکاری ملازمین کے ساتھ دھوکا کیا اور انہیں جعلی، جھوٹی اور گمراہ کن یونیورسٹیوں / کالجز / اسکولز / ایکری ڈیٹیشن وغیرہ کا جھانسہ دے کر ان سے ان کے کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے بھاری فیسیں وصول کیں اور انہیں بیرون ممالک کمپنی کے بینک اکائونٹس بشمول میسرز ایگزیکٹ ایف زیڈ ایل ایل سی دبئی یو اے ای کے اکائونٹ میں منتقل کیا۔
اس معاملے میں غیر ملکی حکومتیں ایف آئی اے کے ساتھ امریکی سفارتخانہ اسلام آبد کے لیگل اتاشی کے توسط سے تعاون کر رہی ہیں اور تحقیقات کا سلسلہ ابھی جاری ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچنے میں ابھی وقت لگے گا۔ چالان میں بتایا گیا تھا کہ غیر ملکی طلبہ / متاثرین بھی پاکستان میں موجود اپنے سفارت خانوں اور قونصل خانوں کے توسط سے تحقیقات میں رابطہ کر رہے ہیں۔
