مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر بننے کے مضبوط امیدوار

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ملک میں قیادت کی تبدیلی کا اہم مرحلہ شروع ہو گیا ہے اور ان کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر کے طور پر ابھرتے ہوئے نمایاں امیدوار بن گئے ہیں۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق علی خامنہ ای کے صاحبزادے 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای اس امریکی اور اسرائیلی فضائی حملے میں محفوظ رہے جس میں ان کے والد سمیت دو درجن سے زائد اہم ایرانی فیصلہ ساز شخصیات شہید ہو گئیں۔ حملہ تب کیا گیا جب دارالحکومت تہران میں سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کی اہلیہ، ایک بیٹا اور کئی سینئر عسکری و سیاسی رہنما بھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای اس وقت تہران میں موجود نہیں تھے، جس کے باعث وہ اس حملے میں محفوظ رہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کے جنازے اور عوامی دیدار کی تقریب بدھ کی شام ایک بڑی مسجد میں منعقد ہونا تھی، تاہم سکیورٹی خدشات اور تازہ دھماکوں کے باعث سرکاری میڈیا نے اس تقریب کو مؤخر کرنے کی اطلاع دی۔ ایران میں نئے سپریم لیڈر کا انتخاب مجلس خبرگان رہبری کرتی ہے۔ اس ادارے کے رکن آیت اللہ احمد خاتمی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو میں کہا کہ کونسل جلد ہی نئے رہنما کے انتخاب کے قریب پہنچ چکی ہے اور جلد فیصلہ سامنے آ سکتا ہے، تاہم انہوں نے ممکنہ امیدواروں کے نام ظاہر نہیں کیے۔ ذرائع کے مطابق ایران کے پہلے سپریم لیڈر روح اللہ خمینی کے پوتے حسن خمینی بھی اس عہدے کے لیے بطور امیدوار زیر غور ہیں۔ حسن خمینی کو اصلاح پسند دھڑے کا حامی سمجھا جاتا ہے، جو گزشتہ دہائیوں میں ایرانی سیاست میں نسبتاً پس منظر میں چلا گیا تھا۔
ادھر خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای 1969 میں ایران کے شہر مشہد میں پیدا ہوئے۔ ان کی پرورش اس دور میں ہوئی جب ان کے والد شاہی حکومت کے خلاف انقلابی تحریک میں سرگرم تھے۔ جوانی میں انہوں نے ایران۔عراق جنگ میں بھی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں انہوں نے مذہبی تعلیم کے لیے قم کے دینی مدارس میں تعلیم حاصل کی اور انہیں “حجت الاسلام” کا مذہبی لقب حاصل ہے، جو آیت اللہ کے درجے سے ایک درجہ کم سمجھا جاتا ہے۔
کئی ناقدین کا مؤقف ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے پاس سپریم لیڈر کے عہدے کے لیے مطلوب مذہبی حیثیت اور تجربہ محدود ہے۔ انہوں نے کبھی باضابطہ سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا، تاہم انہیں اپنے والد کے دفتر تک رسائی رکھنے والی بااثر شخصیت اور دربان کے طور پر دیکھا جاتا تھا۔ وہ حکومتی حامی جلسوں میں شریک ہوتے رہے ہیں لیکن عوامی سطح پر شاذ و نادر ہی خطاب کیا ہے۔
ایران نےاسرائیل کی جوابی تباہی کاکیامنصوبہ بنایاہے؟
یاد رہے کہ 2019 میں امریکی محکمہ خزانہ نے مجتبیٰ خامنہ ای پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ امریکی حکام کے مطابق وہ بغیر کسی سرکاری عہدے کے سپریم لیڈر کی نمائندگی کرتے ہوئے عملی طور پر اہم ترین اختیارات استعمال کرتے رہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کے بعد ریاستی امور چلانے کے لیے ایک عبوری تین رکنی قیادت تشکیل دی گئی ہے۔ اس کونسل میں آیت اللہ علی رضا اعرافی کے ساتھ ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور چیف جسٹس غلام حسین محسنی اژهای شامل ہیں۔ یہ عبوری کونسل اس وقت تک حکومتی معاملات سنبھالے گی جب تک مجلس خبرگان رہبری نئے سپریم لیڈر کے نام کا باضابطہ اعلان نہیں کر دیتی۔ مبصرین کے مطابق آنے والے دن ایران کی سیاست کے لیے نہایت اہم ہوں گے کیونکہ نئی قیادت کا انتخاب نہ صرف ملکی سیاست بلکہ خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
