اے این پی اور جے یو آئی دوست سے دشمن کیوں بن گئیں؟

افغانستان میں طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی سے بدلتی ہوئی صورتحال نے عوامی نیشنل پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کی پرانی دوستی کو اب دشمنی میں بدل دیا ہے اور طالبان کی حمایت اور مخالفت میں دونوں جماعتوں کے مرکزی رہنماوں کے مابین لفظی جنگ شروع ہو چکی ہے۔
اس سے پہلے جمیعت علماء اسلام اور عوامی نیشنل پارٹی دونوں جمہوری تحریکوں میں ایک دوسرے کی ساتھی رہی ہیں۔ اب ایک طرف جہاں مولانا فضل الرحمان نے افغان طالبان کو بڑھتی ہوئی کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے تو عوامی نیشنل پارٹی نے اس۔پر ردعمل دیتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کو ہزاروں افغانیوں کے قتل کا ذمہ دار قرار دے دیا ہے۔
یہ تنازعہ تب شروع ہوا جب مولانا فضل نے قبائلی ضلع جنوبی وزیرستان میں ایک عوامی جلسے کے دوران افغانستان میں فوجی کامیابیاں حاصل کرنے پر افغان طالبان کو مبارکباد پیش کی۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ نے جنوبی وزیرستان کے مکین علاقے میں مدرسوں کے طلبہ سمیت اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم افغان طالبان کو مبارکباد کیوں نہ دیں، انہوں نے 20 سال کی جنگ کے بعد امریکا کو شکست دی ہے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے طالبان کو دہشت گرد کہا تھا لیکن میں نے ہمیشہ انہیں مجاہد کہا ہے اور آئندہ بھی ایسا ہی کروں گا‘۔ مولانا نے اپنے ناقدین کو جے یو آئی (ف) کے افغان صورتحال کے بارے میں موقف سمجھنے کو کہا اور کہا کہ ان کی پارٹی جنگ لڑنے والے دونوں اطراف کے درمیان بات چیت کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔
مولانا فضل الرحمٰن نے اپنی تقریر میں کہا کہ انہوں نے حالیہ فوجی فوائد کے باوجود افغان طالبان سے مذاکرات کی میز پر آنے کی اپیل کی ہے۔یاد رہے کہ مولانا نے ایک ایسے وقت میں افغانستان سے متصل جنوبی وزیرستان کے ضلع کا دورہ کیا جب طالبان نے صدر اشرف غنی کی حکومت کے خلاف وسیع پیمانے پر کارروائیوں اور فتوحات کا دعوٰی کیا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے رہنما عبد الجلیل جان نے بتایا کہ پارٹی کے سربراہ نے 25 سال کے بعد جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ پارٹی کے مقامی چیپٹر نے مولانا فضل الرحمٰن کو مقامی مدرسوں کے طلبہ کی گریجویشن تقریب سے خطاب کرنے کی دعوت دی تھی۔ دونوں جماعتیں حکومت کے خلاف اپوزیشن اتحاد، پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کا حصہ بھی ہیں۔ اس دوران اے این پی کا نام لیے بغیر مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ چند لوگ خطے میں آنکھیں بند کرکے امریکا کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمن سے اس کی توقع نہ کریں، قوم پرست ہمیں سیاست کرنا نہ سکھائیں‘۔
دوسری جانب جے یو آئی (ف) کے سربراہ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے اے این پی کے مرکزی سیکریٹری جنرل افتخار حسین نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ افغانستان کے لاکھوں پختونوں کے خون سے رنگے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ کو مسخ نہیں کیا جاسکتا کیونکہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ اور ان کے اتحادیوں نے افغانستان میں بدامنی کو جاری رکھنے کے لیے حقانیوں اور اسامہ بن لادن کی حمایت کی۔انہوں نے الزام لگایا کہ مولانا فضل الرحمٰن کے ہاتھ لاکھوں پختونوں کے خون میں رنگے ہیں اور یہ بھی سب جانتے ہیں کہ انہوں نے افغانستان میں جہاد کے نام پر مالی فوائد حاصل کیے‘۔ اے این پی رہنما نے کہا جے یو آئی (ف) کے رہنما اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر افغان طالبان کی حمایت کر رہے ہیں لیکن انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان میں طالبان کی واپسی سے تحریک طالبان پاکستان بھی واپس آئے گی اور ملک میں دہشت گردی کا بازار دوبارہ سے گرم ہو جائے گا۔
