بابر اعوان کی اختیارات کے حصول کی کوششیں ناکام

بار بار سیاسی وفاداریاں بدلنے والے وزیر اعظم عمران خان کے مشیر برائے پارلیمانی امور بابر اعوان کی جانب سے اراکین اسمبلی کوترقیاتی فنڈذ بانٹنے کے اختیارات حاصل کرنے کی کوششیں اس وقت ناکام ہوگئیں جب وزیراعظم نے اس بارے ان کی پیش کردہ دونوں سمریاں مسترد کر دیں۔
ذرائع کے مطابق بابر اعوان کی جانب سے فنڈز کی تقسیم کے اختیارات حاصل کرنے اور ان کو وزارت پارلیمانی امور کا نگران وزیر بنائے جانے کی تجاویز پر مبنی سمریاں وزیر اعظم ہاؤس نے مسترد کرتے ہوئے انہیں غیر ضروری قرار دیا ہے جس کے بعد بابر اعوان کا وفاقی وزارت کے حصول اور اراکین پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنے کا خواب چکنا چور ہو گیا ہے۔
یاد رہے کہ بابر اعوان کی جانب سے بیرسٹر فروغ نسیم کی جگہ وفاقی وزیر قانون بننے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں لیکن اس معاملے میں بھی اب تک ان کو کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔ 5 مئی کو وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم کے مشیر بابر اعوان کی طرف سے اراکین اسمبلی میں وزارت پارلیمانی امور کے ذریعہ فنڈز کی سمری پیش کی گئی جس پر کابینہ اراکین بابر اعوان پر برس پڑے اور انھیں کھری کھری سنا دیں۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کے تقریبا تمام اراکین کی طرف سے سمری بارے سخت رد عمل دیکھنے میں آیا۔ وزیر اعظم نے تمام اراکین سے فردآ فردآ سمری کے بارے رائے مانگی جس پر اکثریتی اراکین نے اس تجویز کو مضخکہ خیز قرار دیا۔ جبکہ شاہ محمود قریشی، شیخ رشید پرویزخٹک اور شیریں مزاری نے اس سمری پر سخت رد عمل کا اظہار کیا۔ کابینہ اراکین کا موقف تھا کہ اراکین پارلیمنٹ میں فنڈز کی تقسیم کا اختیار ایک وزارت کو سونپ دینا بے معنی ہے اور یوں لگتا یے کہ بابر اعوان وزارت پارلیمانی امور کے ذریعے فنڈز کی تقسیم سے تمام ارکان پارلیمنٹ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ سلیکٹڈ اراکین اسمبلی فنڈز کے حصول کیلئے ایک نان الیکٹڈ شخص کی مرہون منت ہو جائیں۔ وزرا کا مزید کہنا تھا کہ وہ منتخب ارکان پارلیمنٹ کو ایک غیر منتخب شخص کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کابینہ اراکین کی طرف سے سخت رد عمل آنے پر جہاں بابر اعوان کو سبکی کا سامنا کرنا پرا وہیں وزیر اعظم عمران خان نے بھی معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بابر اعوان کی پیش کردہ دونوں سمریاں مسترد کرنے میں ہی عافیت جانی۔ اس طرح بابر اعوان کا اراکین پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ ناکامی سے دوچارہو گیا۔
ذرائع کے مطابق بابر اعوان کا وزارت پارلیمانی امور کا چارج سنبھالنے کا خواب بھی پورا ہوتا نظر نہیں آتا کیونکہ وزیر اعظم نے ان کی پارلیمانی امور کا انچارج وزیر بنانے کی سمری بھی مسترد کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق بابر اعوان کی طرف سے خود کو وزارت پارلیمانی امور کا انچارج وزیر بنانے کی تجویز ہر مبنی سمری بھجوائی گئی تھی تاہم وزیر اعظم ہاؤس کی طرف سے انھیں اس حوالے سے سرخ جھنڈی دکھا دی گئی۔ یاد رہے کہ بابر اعوان بغیر محکمے کے وزیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی افیئر ہیں اور صرف پارلیمانی امور میں وزیر اعظم کی معاونت کرسکتے ہیں۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اپنی دونوں سمریاں مسترد کئے جانے پر بابر اعوان کو ہزیمت کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق بابر اعوان چونکہ ماضی میں وزیر قانون رہ چکے ہیں اس لیے وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح وفاقی وزارت حاصل کرلیں۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ وزیراعظم نے اب تک کسی ایسے شخص کو وفاقی وزیر نہیں بنایا جو غیر منتخب ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button