جنرل عاصم باجوہ حکومت کا دفاع کریں گے یا فوج کا؟

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے انتہائی قریب سمجھے جانے والے لیفٹننٹ جنرل ریٹائرڈ عاصم سلیم باجوہ کی وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے پر تعیناتی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حکومتی اور ریاستی معاملات کی باگ دوڑ اب بھی فوجی قیادت ہی کے ہاتھ میں ہے جس کی بنیادی وجہ وزیراعظم کی ناکامی ہے۔
یاد رہے کہ بطور کور کمانڈر کوئٹہ ریٹائرمنٹ کے بعد لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کو چیئرمین سی پیک اتھارٹی لگوانے والے بھی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ہی تھے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ بطور چیئرمین ان کے عہدے کی معیاد دو سال تھی اور ابھی انہیں اس عہدے پر تعینات ہوئے صرف چھ ماہ ہی ہوئے تھے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیفٹننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا اطلاعات کے شعبے میں اس روز تعینات ہونا کہ جس روز وزیراعظم شبلی فراز کو اطلاعات کا وفاقی وزیر بنا رہے ہوں، کافی معنی خیز یے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ایک بات تو طے ہے کہ شبلی فراز کو حکومت کی میڈیا مینجمنٹ اور اسکا امیج بہتر بنانے کا ٹاسک سونپا گیا ہے۔ تاہم عاصم سلیم باجوہ کے حوالے سے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی تعیناتی کا بنیادی مقصد عسکری مفادات کا تحفظ اور فوج کے ادارے کی امیج بلڈنگ کرنا ہے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے حکومت پاکستان کو آرمی چیف کی تعیناتی کے عمل کو قانونی بنانے کے حوالے سے دئیے گئے چھ ماہ مکمل ہو چکے ہیں اور اب حکومت نے سپریم کورٹ کو اس حوالے سے کئے گئے اقدامات سے آگاہ کرکے ان کی منظوری حاصل کرنی ہے۔ چنانچہ عاصم سلیم باجوہ کی تعیناتی کو اس پیرائے میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ ماضی میں دہشت گردوں کے خلاف 2014 کے فوجی آپریشن کے دوران میجر جنرل کے عہدے پر تعینات عاصم سلیم باجوہ کو مسلح افواج کے شعبہ تعلقات عامہ یا آئی ایس پی آر کی سربراہی سونپی گئی۔ انھوں نے فوج کے امیج بلڈنگ کا بیڑا اٹھایا اور اس حوالے سے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا کا محاذ بھی استعمال کرنا شروع کیا۔ تاہم ان کے دور میں میڈیا کی تاریخ کے حوالے سے دو افسوسناک ترین واقعات رونما ہوئے۔ پہلا واقعہ سینئر صحافی حامد میر پر اپریل 2014 میں کراچی میں ہونے والا قاتلانہ حملہ تھا جسکی ذمہ داری تب کے آئی ایس آئی کے سربراہ پر عائد کی گئی تھی۔ دوسرا واقعہ اس حملے کے بعد جیو ٹیلی ویژن کی طویل ترین بندش تھی۔
چنانچہ میڈیا میں عاصم سلیم باجوہ کی تقرری کو مشکوک نظروں سے دیکھا جا رہا ہے خصوصا ایک ایسے وقت میں کہ جب حکومت بھی ملک کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ میر شکیل الرحمان کو گرفتار کرکے اپنی میڈیا دشمنی واضح کر چکی ہے۔ تاہم عسکری ذرائع عاصم سلیم باجوہ کی تقرری کو سراہتے ہوئے یاد دلاتے ہیں کہ ان کے دور میں آئی ایس پی آر بطور ایک ڈائریکٹوریٹ مکمل طور پر جدید ترین خطوط پر استوار کیا گیا تھا۔ یہی وہ دور تھا جس کے دوران آئی ایس پی آر کو ففتھ جنریشن وار فیئر جیسی نئی اصطلاحات پر مبنی ذہنوں اور افکار کی جنگ کے لیے تیار کیا گیا اور اسی لیے ’شکریہ راحیل شریف‘ جیسے سوشل میڈیا ٹرینڈز اب بھی چلتے ہیں۔ عسکری ذرائع کہتے ہیں کہ ان کے دور میں فوج کی امیج بلڈنگ کے لئے آئی ایس پی آر کی سوشل میڈیا ٹیمز ترتیب دی گیئں اور جنگی نغمے، فلمیں اور ڈرامے بنانے کا ٹرینڈ بھی شروع کیا گیا۔ تاہم اب جنرل باجوہ کے قریبی ساتھی جنرل عاصم باجوہ ایک مرتبہ پھر پاک فوج کی میڈیا مینجمنٹ کا محاذ سنبھالنے کے لیے وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات تعینات ہو چکے ہیں۔
ایک طرف جہاں ان کی اس اہم عہدے پر تعیناتی کو سراہنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں اور اسے پی ٹی آئی کی حکومت کا ایک ناگزیر فیصلہ قرار دے رہے ہیں وہیں پی ٹی آئی کی مخالف جماعتیں تنقید بھی کر رہی ہیں۔مسلم لیگ (ن) والوں کے مطابق ’ایک فوجی ادارے کی ترجمانی اور سیاسی حکومت کی ترجمانی کرنے میں زمین آسمان کا فرق ہے، آنے والا وقت جنرل عاصم باجوہ کے لیے بڑے چیلنجز لائے گا۔‘ پیپلز پارٹی والوں کا کہنا ہے کہ ’اس تعیناتی سے بہت سے سوالوں کے جواب مل گئے ہیں جو موجودہ حکومت کی تشکیل کے وقت سے ہی سب کے ذہن میں تھے اور غالباً حکومت اب بھی یہ تاثر دینا چاہتی ہے کہ ادارے اس کے ساتھ کھڑے ہیں۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ شبلی فراز اور جنرل ریٹائرڈ عاصم باجوہ کے ذمے کیا ٹاسک ہوں گے۔ یاد رہے کہ جنرل (ر) عاصم سلیم باجوہ نے پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 69ویں لانگ کورس سے ہے فارغ التحصیل ہونے کے بعد 34 پنجاب ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ وہ بطور لیفٹیننٹ کرنل سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے اسسٹنٹ ملٹری سیکرٹری رہے۔ جنرل مشرف کی کتاب ’ان دی لائن آف فائر‘ کی تصنیف کے مرحلے میں انھوں نے مواد مرتب کرنے میں اہم کردار ادا کیا جس کا ذکر سابق صدر نے اپنی کتاب میں بھی کیا تھا اور اس کی تقریب رونمائی میں جنرل عاصم باجوہ کے لیے تالیاں بجوائی گئی تھیں۔وہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی، جنرل (ر) پرویز مشرف اور پھر جنرل (ر) راحیل شریف کے نہایت قریب سمجھے جاتے تھے۔ موجودہ حکومت میں اس عہدے کے علاوہ بھی متعدد ایسے عہدے ہیں جو ان افراد کے حوالے کیے گئے جو کبھی سابق صدر پرویز مشرف کے قریبی ساتھیوں کے پاس تھے۔
پیپلزپارٹی کے رہنما قمرالزماں کائرہ کا کہنا یے کہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا میں کبھی بھی آج جیسی ٹیکنوکریٹ حکومت کامیاب ہوئی ہے اور نہ ہی ہو گی اور یہ کہ کامیابی صرف جمہوری نظام میں ہے لیکن جس انداز میں موجودہ حکومت جمہوریت چلانا چاہتی ہے یہ مکمل طور پر ناکام ہو گی۔ کائرہ کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت میں جمہوریت ’آدھا تیتر آدھا بٹیر‘ بن گئی ہے۔
کچھ یہی رائے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثناللہ کی بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’عمران خان کے پاس اپنی ٹیم تھی ہی نہیں۔ اب ایسا لگتا ہے کہ کابینہ میں سب وہ لوگ ہیں جو سابق صدر پرویز مشرف کی ٹیم کا حصہ تھے اور یہی ان کی ناکامی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تازہ تعیناتی سے ان سوالوں کے جواب بھی ملے ہیں کہ یہ حکومت کیسے اقتدار میں آئی اور کس طرح چلائی جا رہی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما طلال چودھری نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن نے ہمیشہ ’وردی میں سیاست کی مخالفت کی ہے، یہ عاصم باجوہ کا حق ہے کہ اگر وہ سیاسی طور پر کسی سیاسی جماعت کے ترجمان بننا چاہتے ہیں تو ضرور بنیں۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔ مگر انھیں بہت سے مشکل سوالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ ’پی ٹی آئی نے ایک ایسی جوڑی بنائی ہے جس میں ایک سیاسی اور ایک پیشہ وارانہ شخص کو چنا گیا ہے۔‘
شبلی فراز کی تعیناتی سے متعلق بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’کم ازکم پہلی بار پی ٹی آئی ایسا چہرہ لائی ہے جو کہ حقیقی طور پر اس جماعت کی نمائندگی کرتا ہے، پہلی بار ان کے پرانے کارکنوں میں سے کسی کو یہ اہم سرکاری عہدہ دیا گیا ہے۔ یہ کم از کم ’فیس آف دی پارٹی‘ ہیں اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں کی نسبت خاصے سلجھے ہوئے انسان ہیں۔ تاہم طلال چودھری سمجھتے ہیں کہ ‘وردی میں ادارے کا ترجمان ہونا مشکل کام نہیں کیونکہ افسر کے پاس ادارے کا کشن ہوتا ہے، خاص موضوعات اور محدود سوالات ہوتے ہیں، سوال پوچھنے والے عام طور پر ترجمان سے سخت سوالات نہیں کرتے ہیں مگر اب پرفارمنس تو حکومت کی ہو گی لیکن جواب جنرل عاصم باجوہ نے میڈیا کو دینے ہوں گا۔‘
